حکومت شو آف ہینڈ کی ترمیم پاس کروانے میں ناکام کیوں رہے گی؟

تحریک انصاف کی حکومت نے سینیٹ کے انتخابات خفیہ رائے شماری کے بجائے شو آف ہینڈ کے ذریعے کروانے کے لیے آئین میں ترمیم کا بل قومی اسمبلی میں پیش تو کر دیا ہے لیکن بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا اس ترمیم کو پاس کروانے میں کامیاب بھی ہو پائے گی یا نہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس ترمیمی بل میں سینیٹ الیکشن میں حصہ لینے کے لیے غیر ملکی شہریت رکھنے والے پاکستانی شہریوں پر قدغن ختم کرنے کا بھی ذکر موجود ہے۔ حیران کن بات یہ ہے کہ حکومت نے ایک طرف تو سپریم کورٹ میں میں اس معاملے پر رائے حاصل کرنے کے لیے پٹیشن دائر کر رکھی ہے اور دوسری جانب عدالتی فیصلے کا انتظار کیے بغیر ہی اسے ایشو پر قومی اسمبلی میں آئینی ترمیم بل بھی پیش کردیا ہے۔ یہ بھی ایک اتفاق ہے کہ جس وقت یہ بل قومی اسمبلی میں پیش کیا جا رہا تھا اسی وقت سپریم کورٹ کی بلڈنگ میں اس معاملے پر حکومت کی پٹیشن بھی سنی جا رہی تھی۔ اس کیس کی سماعت کے دوران حکومت کے لیے نرم گوشہ رکھنے والے چیف جسٹس گلزار احمد نے یہ ریمارکس بھی دیئے کہ اگر اپوزیشن سینٹ الیکشن کا موجودہ طریقہ کار نہیں بدلنا چاہتی تو اس کا مطلب ہے کہ وہ ووٹوں کی خرید و فروخت کو روکنا نہیں چاہتی۔ تاہم بینچ کے ایک اور رکن جسٹس یحیی آفریدی نے کہا کہ اس صدارتی ریفرنس پر عدالتی رائے کی حیثیت حتمی یا فیصلے کی نہیں ہو گی اور حکومت کو اس معاملے پر آئینی ترمیم کے لیے ہر صورت قانون سازی کرنا ہوگی۔
اس معاملے پر اب ایک ترمیمی بل قومی اسمبلی میں پیش تو کر دیا گیا ہے لیکن دیکھنا یہ ہے کہ تحریک انصاف اور اس کی حمایتی جماعتیں خفیہ رائے شماری کو شو آف ہینڈ میں تبدیل کرنے میں کامیاب ہو پائیں گی یا نہیں؟ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں حکومت کے لیے 26ویں ترمیم منظور کروانا تقریباً ناممکن ہے کیوں کہ آئینی ترمیم منظور کروانے کے لیے ھکومت کو دو تہائی اکثریت کی ضرورت ہوتی ہے جو قومی اسمبلی میں وزیر اعظم عمران خان کے پاس موجود نہیں جبکہ سینیٹ میں تو حزب اختلاف کی جماعتوں کی واضح اکثریت موجود ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس وقت حکومت اور اپوزیشن کے درمیان فاصلے بھی بہت زیادہ ہیں جو اس ترمیم کی منظوری کے راستے میں بڑی رکاوٹ ثابت ہو ں گے خصوصاً جب حکومت نے اس معاملے میں اپوزیشن کو اعتماد میں لینے کی کوشش بھی نہیں کی اور زور زبردستی سے بل پیش کردیا جس پر شدید ہنگامہ آرائی ہوئی۔ سینیئر تجزیہ نگار سہیل وڑائچ کا کہنا ہے کہ جب حکومت اور اپوزیشن بنچز کے درمیان آرا کا اختلاف اتنا زیادہ ہو جتنا اس وقت ہے تو ایسے میں دونوں کا ترمیمی بل کی منظوری پر متفق ہونا تقریباً ناممکنات میں سے ہے۔
پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما اور سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے تحریک انصاف حکومت پر 26ویں ترمیم کے حوالے سے حزب اختلاف کے ساتھ مشاورت نہ کرنے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ 3 فروری کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں بھی ان کے ایم این ایز کو بل پر بولنے نہیں دیا گیا۔ ان کا دعوی تھا کہ ترمیمی بل کے اندراجات سے عمران خان حکومت کی ’بدنیتی‘ کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ دہری شہریت کی قدغن دور کرنے سے متعلق تجویز کا ذکر کرتے ہوئے سابق وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ اسکا بنیادی مقصد عمران خان کے ملکی شہریت رکھنے والے دوستوں کو سینیٹ میں لانا ہے۔ یاد رہے کہ وزیر اعظم عمران خان کے بیشتر مشیران اور معاونین خصوصی پاکستان کے علاوہ دوسرے ملکوں کی شہریت بھی رکھتے ہیں، جو موجودہ حالات میں آئین پاکستان کے تحت کسی بھی اسمبلی یا سینیٹ کا رکن بننے کی راہ میں رکاوٹ ہے۔
اس معاملہ پر پارلیمنٹ کی کارروائی کور کرنے والے صحافی حضرات کا بھی یہی کہنا یے کہ حکومت نے 26ویں ترمیمی بل کی تیاری اور پیش کرنے میں بہت جلدی سے کام لیا اور حزب اختلاف اور دوسرے سٹیک ہولڈرز سے مشاورت نہیں کی۔ ان کا کہنا تھا کہ اب جب سینیٹ انتخابات میں کم وقت رہ گیا ہے تو آئینی ترمیم کو اس طرح لے کر آنا پلاننگ کے فقدان کا اظہار یے۔ اس معاملے پر سینئر صحافی خالد قیوم نے سوال اٹھایا کہ حکومت اور اپوزیشن کے اراکین کی سینیٹ میں موجودہ تعداد کو ذہن میں رکھا جائے تو کیسے ممکن ہو گا کہ حکومت دو تہائی اکثریت اور حزب اختلاف کے تعاون نہ ہونے کے باوجود اس معاملے پر قانون سازی کر پالے؟ ان کا کہنا تھا کہ سینیٹ میں حزب اختلاف کی واضح اکثریت کو دیکھتے ہوئے ہوئے اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ وہاں سے اس بل کی منظوری بالکل ممکن نہیں ہے۔
اس سے پہلے 3 فروری کو 26ویں ترمیمی بل کے پیش کیے جانے کے دوران پاکستان مسلم لیگ ن، پاکستان پیپلز پارٹی اور جمیعت علما اسلام (فضل الرحمان) کے ایم این ایز نے بھرپور مخالفت کی جس سے ثابت ہوتا ہے کہ حزب اختلاف کی تین بڑی جماعتیں اس ترمیم کے حق میں نہیں ہیں۔ پیپلز پارٹی کی مرکزی سیکریٹری اطلاعات شازیہ مری نے 26ویں ترمیم سے متعلق اپنی جماعت کا موقف پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس بل کی پوری شدت سے مخالفت کریں گے۔ مسلم لیگ ن کے شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ حکومت نے بل میں چئیرمین سینیٹ کے انتخابات شو آف ہینڈ کے ذریعے کروانے کا ذکر نہیں کیا جس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ صرف اپنے سینیٹرز کی تعداد میں اضافہ چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں ہونے والے تمام انتخابات اوپن بیلیٹ کے ذریعے کروانے کی ترمیم لے آئی جائے تو ان کی جماعت اس پر غور کر سکتی ہے۔
پی ڈی ایم کی تین بڑی رکن جماعتوں کے اختلاف کے بعد امکان یہی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ دس رکنی اتحاد بھی سینیٹ میں شو آف ہینڈ کے ذریعے انتخابات کروانے سے متعلق آئینی ترمیم سے اپنی راہیں جدا رکھے گی۔ ویسے بھی اس وقت پی ڈی ایم یا حزب اختلاف کی کوئی بھی جماعت اس پوزیشن میں نہیں کہ حکومت یا اسٹیبلیشمنٹ کے ساتھ کسی ڈیل کا حصہ بن سکیں۔ ویسے بھی فوجی اسٹیبلیشمنٹ کی اس ترمیم میں کوئی زیادہ دلچسپی نہیں ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر تو اس ترمیم سے آرمی چیف کو فائدہ ہوتا تو پھر تو یقینا اسٹیبلشمنٹ بھی اپوزیشن کو منانے کے لیے کردار ادا کرتی۔ یاد رہے کہ آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع پر فوجی اور انٹیلی جنس اسٹیبلیشمنٹ کی بھی دلچسپی تھی اور ان کی نزاکت کو حزب اختلاف بھی محسوس کر سکتی تھی، اسی لیے اس موقع پر قانون سازی بھی سہل انداز سے ہو گئی۔ لیکن آج سوال یہ اٹھایا جا رہا ہے کہ اگر اپوزیشن کی جماعتیں اس آئینی ترمیم کو پاس کروانے کے لیے حکومت کا ساتھ دیں تو ان کو کیا فائدہ ہوگا؟ انہیں حکومت کیا دے سکتی ہے؟ اسکا جواب یے۔۔۔ کچھ بھی نہیں۔
اہم بات یہ بھی ہے کہ اس وقت یہ آئینی ترمیم لانے کا مقصد بنیادی طور پر تحریک انصاف کے ان اراکین اسمبلی کو اپنا ووٹ کسی اور امیدوار کو دینے سے روکنا ہے جو عمران خان کے دوستوں کو سینٹر نہیں بنوانا چاہتے۔ اس سے پہلے تحریک انصاف نے چئیرمین سینیٹ کے خلاف تحریک عدم اعتماد میں خفیہ رائے شماری سے خوب فائدہ اٹھایا تھا اور اپوزیشن جماعتوں سے تعلق رکھنے والے 14 ممبران کو توڑ لیا تھا اور اسی وجہ سے صادق سنجرانی اپنے عہدے پر برقرار رہ گئے۔
لیکن اب حکومت کو ہارس ٹریڈنگ اور ووٹوں کی خرید و فروخت کا خیال آ رہا ہے۔ اسی طرح دوہری شہریت کی قدغن ختم کرنے سے متعلق تجویز پر بھی کہیں کوئی اتفاق نہیں ہے اور یہ یہ ترمیم بھی وزیراعظم کی جانب سے ایک بہت بڑا یوٹرن ہے کیونکہ ماضی میں وہ دوہری شہریت رکھنے والوں کی پاکستان سے وفاداری کو مشکوک قرار دیتے رہے ہیں۔
لہذا موجودہ صورت حال میں حکومت کی جانب سے پیش کیا جانے والا 26 ویں آئینی ترمیم کا بل منظور ہونا ممکن نہیں کیونکہ تحریک انصاف کے پاس مطلوبہ نمبرز نہیں اور حزب اختلاف بل کی حمایت پر راضی ہوتی ہوئی نظر نہیں آرہی۔
یاد رہے کہ سینیٹ کے آدھے اراکین کی مدت رکنیت گیارہ مارچ کو ختم ہو رہی ہے، جس سے قبل خالی ہونے والی نشستوں کے انتخابات کروائے جائیں گے، جو دس فروری سے دس مارچ کے درمیان کسی بھی وقت منعقد ہو سکتے ہیں۔ یاد رہے کہ پاکستان کے آئین میں ترمیم پارلیمان کے دونوں ایوانوں میں دو تہائی اکثریت سے ہی منظور کروائی جا سکتی ہے، جو تحریک انصاف حکومت کے پاس موجود نہیں ہے۔ قومی اسمبلی میں تحریک انصاف اور اس کے اتحادیوں کی سادہ اکثریت ہے جبکہ سینیٹ میں اپوزیشن کو واضح برتری حاصل ہے اور ایسی صورت میں وزیر اعظم عمران خان کی حکومت کے لیے اپوزیشن کی حمایت کے بغیر کسی بھی ترمیم کو منظور کروانا ممکن نظر نہیں آتا۔ ہاں اگر سپریم کورٹ اپنے دائرہ اختیار سے باہر نکل کر 26 ویں آئینی ترمیم کے حق میں فیصلہ دے دے تو پھر اور بات ہے۔
