حکومت صدارتی فرمانوں پر چل رہی ہے

مرکز میں اپوزیشن جماعتوں کے اعتراضات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے تحریک انصاف کی حکومت نے پارلیمنٹ کے ذریعے قانون سازی کرنے کی بجائے صدارتی آرڈیننسز کے ذریعے ہی مزید نئے قوانین بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ چند قوانین میں ترامیم اور بعض متنازعہ نئے قوانین قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹیوں کی جانب سے منظور نہ ہونے پر تحریک انصاف جلد چھ نئے صدارتی آرڈیننسز کی منظوری لے گی۔ نئے مجوزہ آرڈیننسز میں بے نامی جائیدادوں اور احتساب سے متعلق قوانین شامل ہیں۔
تفصیلات کے مطابق تحریک انصاف کی حکومت کی جانب سے صدارتی آرڈیننسز کے ذریعے قانون سازی کرنے پر اپوزیشن کی شدید تنقید کے باوجود وزارتِ قانون نے مزید 6 آرڈیننس کی منظوری کے لیے وفاقی کابینہ کو سمری ارسال کی ہے۔ وزارتِ قانون نے سمری کے ذریعے وفاقی کابینہ کو آگاہ کیا کہ وزارت نے 6 آرڈیننس تیار کیے ہیں اور تجویز دی کہ ہنگامی صورتحال کے پیش نظر مذکورہ آرڈیننسز کا اجراء ضروری ہے۔ وزارت قانون کے مطابق مذکورہ آرڈیننس ایک طویل عرصے سے قومی اسمبلی کی مختلف کمیٹیوں میں پیش کیے گئے بلز کی صورت میں زیرِ التوا ہیں۔
خیال رہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت قومی اسمبلی میں 11 آرڈیننس لاچکی ہے جبکہ رواں ماہ کے آغاز میں سی پیک اتھارٹی کے قیام اور گوادر پورٹ کو ٹیکس استثنیٰ دینے سے متعلق مزید 2 آرڈیننس جاری کیے گئے تھے۔ علاوہ ازیں حکومت نے آرڈیننس کے ذریعے متنازع ایمنسٹی اسکیم بھی متعارف کروائی گئی جسے شدید مذمت کے بعد واپس لے لیا گیا تھا۔ حکومت کو اقتدار سنبھالے کے بعد سے پارلیمنٹ کو نظر انداز کرکے آرڈیننس کے ذریعے قانون سازی کرنے پر اپوزیشن، قانونی ماہرین اور سول سوسائٹی کی تنظیموں کی جانب سے شدید تنقید کا سامنا ہے۔ گزشتہ ہفتے سینیٹ اجلاس میں حکومت کی جانب سے آرڈیننس لانے کی کوشش کے بعد اپوزیشن جماعتیں واک آؤٹ کرگئی تھیں۔ علاوہ ازیں پاکستان پیپلزپارٹی کی سینیٹر سسی پلیجو کی سربراہی میں سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے پارلیمانی امور نے بھی گزشتہ ہفتے مذکورہ معاملہ اٹھایا تھا۔تاہم اجلاس کے دوران وزارتِ پارلیمانی امور کے ایک عہدیدار نے انکشاف کیا تھا کہ پاکستان مسلم لیگ(ن) اور پاکستان پیپلزپارٹی کی حکومتوں کے دوران ایک سال میں اوسطاً 26 آرڈیننس جاری کیے جاتے تھے۔ اس وقت قومی اسمبلی کی مختلف کمیٹیوں میں کلُ 127 بل زیر التوا ہین جن میں 102 نجی ارکان کے بلز بھی شامل ہیں۔
وفاقی کابینہ کو ارسال کی گئی نئی سمری میں کہا گیا کہ چونکہ قانون سازی کے عمل میں بہت وقت لگے گا اس لیے مذکورہ بلز کو آرڈیننس کے ذریعے نافذ کرنے کی تجویز دی جاتی ہے۔ خیال رہے کہ وزارت قانون کی جانب سے تجویز کردہ آرڈیننسز میں لیٹر آف ایڈمنسٹریشن اینڈ سکسیشن سرٹیفکیٹس (وراثتی صداقت ناموں) آرڈیننس 2019، جائیداد میں خواتین کے حقوق کے نفاذ سے متعلق آرڈیننس 2019، بے نامی ٹرانزیکشز کے خلاف ( ترمیمی ) آرڈیننس 2019، سپیرئیر کورٹ (ضابطہ لباس اور طریقہ کار) آرڈر (منسوخ ) آرڈیننس 2019، قومی احتساب ( ترمیمی ) آرڈیننس 2019 سمیت قانونی مدد اور جسٹس اتھارٹی آرڈیننس 2019 شامل ہیں۔ وزارت قانون کی سمری میں کہا گیا کہ قانونی اصلاحات کے لیے وفاقی حکومت نے وزیر برائے قانون و انصاف ڈاکٹر فروغ نسیم کی سربراہی میں ٹاسک فورس تشکیل دی تھی جس کا بنیادی مقصد پاکستان کے عوام کی مشکلات کے حل کے لیے قوانین تجویز کرنا ہے۔ عوام بالخصوص خواتین کے حقوق کے تحفظ اور فروغ کے لیے ٹاسک فورس نے جائیداد میں خواتین کے حقوق کی حفاظت، غریب اور کمزور طبقے کےلیے قانونی مدد کے طریقہ کار کا قیام اور نیشنل بیس ڈیٹا رجسٹریشن اتھارٹی یا نادرا سے وراثت کے صداقت ناموں کے اجرا کے طریقہ کار سے متعلق نئے قوانین تجویز کیے ہیں۔
وفاقی کابینہ کو ارسال کی گئی سمری میں عدالتی اصلاحات سے متعلق آرڈیننسز کی منظوری طلب کرتے ہوئے کہا گیا کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کا آئین ملک کی اعلیٰ عدالتوں کو بااختیار بناتا ہے یعنی سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کو اپنا عمل اور کارروائی منظم کرنے کی اجازت دیتا ہے، لہٰذا تجویز دی گئی ہے کہ عدالت کے لباس اور عدالتی طریقہ کار سے متعلق قانون کو منسوخ کیا جائے۔ سمری میں مزید کہا گیا کہ اعلیٰ عدالتوں کو مناسب ضابطہ لباس اور عدالت میں وکلا کے طرز عمل کا طریقہ طے کرنے کی اجازت دی جائے۔ اس حوالے سے وزارت قانون کا کہنا ہے کہ اس نے بے نامی ٹرانزیکشنز کو بے نقاب کرنے اور قومی احتساب آرڈیننس 1999 کے تحت گرفتار کیے جانے والی انفرادی شخصیات سے متعلق بھی 2 آرڈیننس تیار کیے ہیں۔ سمری میں کہا گیا کہ یہ وفاقی کابینہ کی ہدایات کی روشنی میں تجاویز دی گئی ہیں جس میں وزارت قانون کو۔مفادِ عامہ کے معاملات سے متعلق مذکورہ قانونی مسودوں کا جائزہ لینے اور ان کے نفاذ کا بہترین طریقہ کار تجویز کرنے کی ہدایت کی گئی تھی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button