حکومت مجھے فیض آباد دھرنا کیس کی وجہ سے نشانہ بنا رہی ہے

پاکستان میں آزاد عدلیہ کی علامت سمجھے جانے والے سپریم کورٹ کے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اپنے حوالے سے فل کورٹ کے فیصلے کو عدلیہ کی آزادی کے اصولوں کے منافی قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ انہیں پی ٹی آئی حکومت نے فیض آباد دھرنا کیس کے فیصلے کی وجہ سے نشانہ بنا رکھا ہے جو کہ سراسر بدنیتی پر مبنی اقدام ہے۔ فل کورٹ کے فیصلے کے خلاف اپنی نظرثانی پٹیشن دائر کرتے ہوئے قاضی فائز عیسیٰ نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ نے ان کو سنے بغیر اور اندھیرے میں رکھ کر ان کے خلاف صدارتی ریفرنس کی کاروائی چلائی جو کہ عدالتی چھٹیوں کے دوران بھی جاری رکھی گئی۔ فائز عیسی نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے اپنے دور میں ان کے خلاف ریفرنس دائر ہونے سے پہلے ہی ان سے استعفی لینے کی کوشش بھی کی۔ انہوں نے فل کورٹ کے فیصلے کو عدلیہ کی آزادی کے اصول کی نفی قرار دیتے ہوئے اسے عدلیہ کی خود مختاری کے تابوت میں آخری کیل قرار دیا اور کہا کہ یہ کیسا انصاف ہے کہ ایک طرف سپریم کورٹ میرے خلاف صدارتی ریفرنس کو مسترد کر رہی ہے تو دوسری طرف ایف بی آر کو سپریم جوڈیشل کونسل میں میرے بارے میں رپورٹ جمع کروانے کا بھی کہہ رہی ہے جس کے سربراہ یعنی چیف جسٹس کے پاس اس رپورٹ کو سوموٹو ریفرنس میں بدلنے کا اختیار بھی موجود یے۔
سپریم کورٹ کے جسٹس قاضی فائز عیسی نے صدارتی ریفرنس کے خلاف آئینی درخواست پر سپریم کورٹ کے فیصلے پر نظر ثانی کی اضافی درخواست داخل کر دی اور کہا کہ سپریم کورٹ نے سپریم جوڈیشل کونسل کے تعصب سے متعلق میری درخواست پر سماعت ہی نہیں کی۔جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے نظر ثانی درخواست میں استدعا کی ہے کہ سماعت ٹی وی پر براہ راست نشر کرنے کا حکم دیا جائے۔درخواست میں انہوں نے کہا کہ سرکاری عہدیداروں نے میرے اور میرے اہل خانہ کے خلاف پروپیگنڈا مہم چلائی۔جسٹس قاضی فائز عیسی نے سپریم کورٹ سے درخواست کی ہے کہ جسٹس مقبول باقر، جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس یحییٰ آفریدی کو بھی لارجر بینچ کا حصہ بنایا جائے اور جسٹس یحییٰ آفریدی کے فیصلے میں میری درخواست کو قابل سماعت قرار دیا جائے۔انہوں نے مؤقف اپنایا ہے کہ 19جون 2020 کے فیصلے کے پیرا گراف دو تا 11 پر نظر ثانی کر کے ان کو واپس لیا جائے۔
سپریم کورٹ کی جانب سے معاملہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کو بھیجنے کے حوالے سے انہوں نے کہا ہے کہ ایف بی آر کی رپورٹ سے میں اور میری اہلیہ متاثر ہو سکتے ہیں، ایف بی آر کی رپورٹ نہ مجھے اور نہ میری اہلیہ کو فراہم کی گئی۔جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ایف بی آر کی رپورٹ بھی صدارتی ریفرنس کی مانند میرے اور میری اہلیہ کے خلاف گمراہ کن پروپیگنڈا کے لیے میڈیا کو لیک کی گئی۔نظرثانی کی اضافی درخواست میں انہوں نے کہا کہ جون کے فیصلے سے عدلیہ کی آزادی کو انتظامیہ کے ہاتھ میں دے دیا گیا ہے جو آئین کے برخلاف ہے۔انہوں نے کہا کہ فیض آباد دھرنا کیس کے بعد ایم کیو ایم اور پی ٹی آئی نے اپنی درخواستوں میں مجھے جج کے عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ کیا تھا۔
جسٹس قاضی فائز عیسی نے درخواست میں کہا کہ سابق چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کا لان میں ٹہلتے ہوئے نجی طور پر ریفرنس کے بارے میں بتانے کا مقصد مجھ سے استعفیٰ لینا تھا جبکہ سپریم کورٹ نے سپریم جوڈیشل کونسل کے تعصب کے حوالے سے میری درخواست کے دوسرے حصے کی سماعت ہی نہیں کی۔بیرون ملک جائیداد سے متعلق انہوں نے مؤقف اپنایا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کی حکومت کے کئی عہدیداروں کی بیرون ملک جائیدادیں ہیں اورعلم نہیں کہ انہوں نے پاکستان میں اپنے ٹیکس ریٹرنز میں ان جائیدادوں کو ظاہر کیا ہے یا نہیں۔وفاقی حکومت میں شامل افراد کی جائیدادوں کے بارے میں انہوں نے کہا کہ ان عہدیداروں میں سید ذوالفقارعباس بخاری، یار محمد رند ، ندیم بابر، شہباز گل، لیفٹننٹ جنرل (ر) عاصم سلیم باجوہ، مرزا شہزاد اکبر، فیصل واڈا اور عثمان ڈار شامل ہیں۔
جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے درخواست میں کہا کہ ذوالفقارعباس کی 45 ویلنگٹن روڈ لندن میں فلیٹ نمبر 3 جائیداد ہے، یار محمد رند کی اسپرنگ ریزیڈنشل ولا اور انٹرنیشنل سٹی دبئی میں جائیداد ہے، اسی طرح ندیم بابر کا امریکی شہرہیوسٹن میں گھر ہے اور شہبازگل کا بھی امریکا میں گھر ہے۔انہوں نے بتایا کہ جنرل (ر)عاصم سلیم باجوہ کی امریکا میں 13 کمرشل اور 5 رہائشی جائیدادیں ہیں، فیصل واڈا کی بیرون ملک 9 جائیدادیں ہیں، جن میں لندن میں 7، ملائیشیا اور دبئی میں ایک،ایک جائیداد ہے اور عثمان ڈار کی برطانیہ کے شہر برمنگھم میں جائیداد ہے۔
یاد رہے کہ سپریم کورٹ نے 19 جون کو جسٹس قاضی فائز عیسیٰ پر صدارتی ریفرنس کے خلاف دائر آئینی درخواستوں پر مختصر فیصلہ سناتے ہوئے اس ریفرنس کو کالعدم قرار دیا تھا۔عدالت عظمیٰ کے 10 رکنی بینچ میں سے انہیں7 اراکین نے مختصر حکم نامے میں پیرا گراف 3 سے 11 کے ذریعے سپریم جوڈیشل کونسل (ایس جے سی) کے سامنے دائر ریفرنس کو کالعدم قرار دیا تھا اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کو ان کے اہل خانہ سے ان کی جائیدادوں سے متعلق وضاحت طلب کرنے کا حکم دیتے ہوئے معاملے پر رپورٹ سپریم جوڈیشل کونسل میں جمع کرانے کا کہا تھا۔تاہم عدالت عظمیٰ کے اس مختصر فیصلے کے پیراگرافس 3 سے 11 کو دوبارہ دیکھنے کے لیے 8 نظرثانی درخواستیں دائر کی گئی تھی۔
یہ درخواستیں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ، ان کی اہلیہ سرینا عیسیٰ کے ساتھ ساتھ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن، سندھ ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن، کوئٹہ بار ایسوسی ایشن کے صدر، پنجاب بار کونسل کے وائس چیئرمین، ایڈووکیٹ عابد حسن منٹو اور پاکستان بار کونسل نے دائر کی تھیں۔اپنی نظرثانی درخواستوں میں درخواست گزاروں نے اعتراض اٹھایا تھا کہ 19 جون کے مختصر فیصلے میں پیراگرافس 3 سے 11 کی ہدایات/ آبزرویشنز یا مواد غیر ضروری، ضرورت سے زیادہ، متضاد اور غیرقانونی ہے اور یہ حذف کرنے کے قابل ہے چونکہ اس سے ریکارڈ میں ’غلطی‘ اور ’ایرر‘ ہوا ہے لہٰذا اس پر نظرثانی کی جائے اور اسے حذف کیا جائے۔یہاں یہ مدنظر رہے کہ عدالت عظمیٰ نے 22 اکتوبر کو جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیس کا تفصیلی فیصلہ بھی جاری کردیا تھا۔
