حکومت مشرف کو سزا دینے والے جج کیخلاف بے بس

وکلاء کمیونٹی کے دباؤ، نئے اٹارنی جنرل کی معذرت اور قانون میں عدم گنجائش کے باعث وفاقی حکومت نے پرویز مشرف کو سزائے موت سنانے والے جج جسٹس وقار احمد سیٹھ کے خلاف ریفرنس یا مس کنڈکٹ کا کیس دائر کرنے سے بظاہر راہ فرار اختیار کر لی ہے۔
چار ماہ قبل اپنے وقت کے آمر مطلق جنرل مشرف کو سنگین غداری کیس میں پھانسی کی سزا سنانے والے جسٹس وقار احمد سیٹھ کے خلاف حکومت نے اعلان کے باوجود تاحال ریفرنس دائر نہیں کیا اور اطلاعات کے مطابق حکومت نے ایسا کرنے سے توبہ بھی کرلی ہے۔ قانونی ماہرین کے مطابق کسی جج کے خلاف اس کے فیصلے کی بنیاد پر ریفرنس دائر کرنے کی قانون میں قطعاً کوئی گنجائش نہیں علاوہ ازیں ریفرنس دائر کرنے کی صورت میں پاکستان بار کونسل نے ملک گیر احتجاجی تحریک چلانے کا اعلان کیا تھا اور نئے اٹارنی جنرل نے بھی اس پنگے میں نہ پڑنے پر اصرار کیا تھا۔
یاد رہے کہ 17دسمبر 2019 کو خصوصی عدالت کی جانب سے آئین شکنی کے جرم میں سابق فوجی آمر جنرل پرویز مشرف کو پھانسی کی سزا سنائے جانے کی پاداش میں حکومت نے فوجی دباؤ کے پیش نظر جسٹس وقار احمد سیٹھ کے خلاف آئین پاکستان کے آرٹیکل 209 کے تحت ریفرنس دائر کرنے کا کھلم کھلا اعلان کیا تھا۔ تاہم آج دن تک حکومت نے اس فیصلے پر عمل درآمد نہیں کیا۔
دو ماہ قبل بھی وفاقی وزیر قانون بیرسٹر فروغ نسیم نے ایک انٹرویو میں یہ اعلان کیا تھا کہ وفاقی حکومت جسٹس وقار سیٹھ کے خلاف ریفرنس دائر کرنے سے پیچھے نہیں ہٹی اور اس سلسلے میں تیاریاں زوروشور سے جاری ہیں لیکن اب مصدقہ اطلاعات ہیں کہ کپتان اینڈ کمپنی نے عدلیہ سے محاذ آرائی نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ تاہم اسٹیبلشمنٹ اس حکومتی فیصلے سے متفق نہیں۔ لیکن یہ بھی ایک سچ ہے کہ اب فوجی اسٹیبلشمنٹ اتنی طاقتور نہیں رہی جتنی کچھ ماہ پہلے تھی۔
یاد رہے کہ جج کے خلاف ریفرنس کی باتوں کے تناظر میں پاکستان میں وکلاء کی بڑی نمائندہ تنظیم پاکستان بار کونسل نے ایک خط کے ذریعے حکومت کو خبردار کیا تھا کہ اگر جسٹس وقار احمد سیٹھ کے خلاف کسی قسم کی تادیبی کارروائی یا ریفرنس دائر کیا گیا تو وکلاء ملک گیر احتجاجی تحریک شروع کردیں گے۔ حکومتی حلقوں کا کہنا ہے کہ جسٹس وقار احمد سیٹھ کے خلاف مشرف کو آئین شکنی کے الزام پر پھانسی کی سزا سنائے جانے پر ریفرنس دائر کرنے کی بجائے مس کنڈکٹ کے الزام میں تادیبی کارروائی کرنے کا آپشن زیر غور آیا تھا تاہم اس اقدام کے ممکنہ بھیانک نتائج کے پیش نظر وفاقی حکومت بیک فٹ پر چلی گئی۔
یاد رہے کہ قانون کے مطابق کسی بھی جج کے خلاف کوئی بھی فیصلہ سنانے پر سپریم جوڈیشل کونسل میں اس کے خلاف کوئی ریفرنس دائر نہیں کیا جا سکتا۔ تاہم یہ فیصلہ سامنے آنے کے بعد سے حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کے چند حامیوں کی جانب سے مسلسل ہرزہ سرائی کی جارہی کہ اس تاریخی فیصلے کی بنیاد پر جسٹس وقار احمد سیٹھ کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر کیا جائے گا۔
جسٹس وقار احمد سیٹھ کی جانب سے پرویز مشرف کو آئین شکنی کا جرم ثابت ہونے پر سزائے موت سنائے جانے پر افواج پاکستان کے اس وقت کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے واضح طور پر کہا تھا کہ وہ فیصلے کو قبول نہیں کرتے کیونکہ جنرل پرویز مشرف سابق فوجی سربراہ رہے ہیں اس لیے وہ کسی صورت بھی غدار نہیں ہو سکتے۔
یہی نہیں بلکہ جسٹس وقار احمد سیٹھ کے خلاف میڈیا پر بھی خوب خوب بیان بازی ہوئی اور ان کی ذات اور فیصلے کو ہدف تنقید بنایا گیا جس پر چند روز بعد پشاور ہائی کورٹ میں توہین عدالت کی پٹیشن بھی دائر کی گئی جس میں آئی ایس پی آر کے سربراہ میجر جنرل آصف غفور اور وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان سمیت اس وقت کے اٹارنی جنرل انور منصور خان اور وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم سمیت متعدد افراد کو ملزم ٹھہرایا گیا، تاحال اس پٹیشن کا فیصلہ بھی نہیں ہوسکا۔
پرویز مشرف کو خصوصی عدالت کی جانب سے سزائے موت سنائے جانے کے بعد اسٹیبلشمنٹ کی ایماء پر لاہور ہائیکورٹ میں پٹیشن دائر کی گئی تھی جس میں تین رکنی بینچ نے اکثریتی فیصلہ سناتے ہوئے خصوصی عدالت کے فیصلے کو کالعدم قرار دیدیا تھا۔ اس حیران کن فیصلے پر اسٹیبلشمنٹ اور حکومت نے خوب بغلیں بجائیں تاہم قانونی ماہرین نے اسے اسٹیبلشمنٹ اور حکومت کی فیس سیونگ قرار دیا تھا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اس طرح حکومت اور اسٹیبلشمنٹ پرویز مشرف کے سنگین غداری کیس فیصلے کو متنازع بنانے میں کسی حد تک کامیاب ہوگئی اور جسٹس وقار سیٹھ کا فیصلہ کالعدم قرار دیے جانے کے بعد یہ سمجھا گیا کہ جیسے مشرف کو سزا دی ہی نہیں گئی۔
جسٹس وقار احمد سیٹھ کے خلاف ریفرنس دائر نہ کرنے کی ایک اور بڑی وجہ یہ بیان کی جاتی ہے کہ اٹارنی جنرل انور منصور خان کے استعفے کے بعد نئے اٹارنی جنرل خالد جاوید خان نے اس شرط پر عہدہ سنبھالا تھا کہ وہ عدلیہ کے ساتھ محاذ آرائی نہیں کریں گے گے۔ سیاسی اور قانونی حلقوں کا کہنا ہے کہ نئے اٹارنی جنرل کے تقرر سے ہی واضح ہوگیا تھا کہ اب حکومت جسٹس وقار احمد سیٹھ کے خلاف کسی قسم کی تادیبی کارروائی نہیں کرے گی۔
تاہم وقتاً فوقتاً حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے جسٹس وقار احمد سیٹھ کو ٹف ٹائم دینے کی کوشش کی جاتی رہی ہے۔ گزشتہ مہینے فوجی عدالتوں سے سزا پانے والوں کے کیس سننے پر بھی حکومت اور اسٹبلشمنٹ نے جسٹس وقار احمد سیٹھ کے حوالے سے تحفظات کا اظہار کیا تھا۔ اس ضمن میں حکومت کی جانب سے سپریم کورٹ آف پاکستان میں ایک رٹ دائر کی گئی کہ جسٹس وقار سیٹھ کو فوجی عدالتوں سے سزا پانے والوں کے مقدمات سننے سے روکا جائے تاہم سپریم کورٹ آف پاکستان نے اس رٹ کو خارج کرتے ہوئے جسٹس وقار احمد سیٹھ کو آئین و قانون کے تحت اس قسم کے مقدمات سننے کا مجاز قرار دیا تھا۔
یہی نہیں بلکہ جب سپریم کورٹ آف پاکستان میں سابق چیف جسٹس آف پاکستان ان آصف سعید کھوسہ کی خالی نشست پر کرنے کا مرحلہ آیا تو جسٹس وقار احمد سیٹھ کو ہائیکورٹس کا سینئر ترین جج ہونے کے باوجود سپریم کورٹ کا جج نہیں بنایا گیا اور ان کی جگہ لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس مظاہر علی نقوی کو پرموٹ کر کے سپریم کورٹ کا جج بنا دیا گیا کیونکہ جسٹس نقوی نے ہی پرویزمشرف کی پھانسی کا فیصلہ کالعدم قرار دیا تھا۔
جس وقار احمد سیٹھ نے اس ناانصافی کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں پٹیشن دائر کر رکھی ہے تاہم اس درخواست پر تاحال کوئی کارروائی نہیں ہوسکی۔ حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کی جسٹس وقار احمد سیٹھ سے ناراضی کو مدنظر رکھتے ہوئے قانونی حلقوں کا خیال ہے کہ اب جسٹس وقار سیٹھ کو انصاف ملنے کی کوئی امید نہیں۔
