حکومت نواز شریف کی بیماری کو ڈرامہ کیوں قرار دے رہی ہے؟

نوازشریف کی ملک واپس لانے کے معاملے پر حکومت اور اپوزیشن کی باہمی لڑائی میں ہر گزرتے دن کے ساتھ شدت آتی جا رہی ہے لیکن بڑا سوال یہ ہے کہ حکومت میاں صاحب کی بیماری کو ڈرامہ قرار دے کر زچ کرنے سے کیا سیاسی مقاصد حاصل کرنا چاہتی ہے؟
باخبر ذرائع کا کہنا ہے نواز شریف کو زبردستی ملک واپس لانے کے حکومتی اعلان کے پیچھے سیاسی پوائنٹ سکورنگ کارفرما ہے۔ تاہم اس خیال کا اظہار بھی کیا جا رہا ہے کہ حکومت کی جانب سے نواز شریف کو پاکستان واپس لانے کیلئے حکومت برطانیہ کو خط لکھنے کے اعلان کے پیچھے ایک بنیادی مقصد اسٹبلشمنٹ اور مسلم لیگ نون کے مابین کسی ممکنہ ڈیل سے نمٹنے کے پیش بندی ہے۔ خیال رہے کہ نوازشریف طبی بنیادوں پر ضمانت حاصل کرنے کے بعد گزشتہ سولہ ہفتوں سے برطانیہ میں مقیم ہیں، اس سارے عرصے کے دوران ماضی کے برعکس نہ تو مسلم لیگ ن کے ذمہ داران کی جانب سے کبھی ان کے پلیٹلیٹس کی تعداد بتائی گئی اور نہ ہی وہ کسی اسپتال میں علاج کے لیے داخل ہوئے۔ حتیٰ کہ ڈاکٹرز کی جانب سے میاں صاحب کے دل کا آپریشن تجویز کیے جانے کے باوجود تاحال انکی کوئی سرجری نہیں کی گئی۔
ایسے میں حکومت کی جانب سے سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ اگر میاں نواز شریف کی جان کو واقعی سنگین خطرات لاحق ہے تو ان کا فوری طور پر علاج کیوں نہیں کروایا جا رہا۔ لیگی حلقوں کا کہنا ہے کہ نوازشریف اپنی صاحبزادی مریم نواز کی موجودگی میں آپریشن کروانے پر بضد ہیں تاہم یہاں حکومتی مؤقف میں وزن دکھائی دیتا ہے کہ نوازشریف دراصل مریم کو پاکستان سے نکال کر ان کے لیے آسانیاں پیدا کرنے کی کوشش میں ہیں۔
اس حوالے سے حکومتی وزراء واضح طور پر کہہ چکے ہیں کہ اگر مریم بھی پاکستان سے چلی گئیں تو شریف فیملی کبھی وطن واپس نہیں آئے گی کیونکہ مریم نواز کے بھائی اور بہن پہلے سے وہاں موجود ہیں۔ وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ میاں نوازشریف کی بیماری ایک فکسڈ میچ تھا جو انہوں نے چند میڈیا ہاؤسز کی مدد سے کھیلا، جنہوں نے یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ اگر نواز شریف کو مزید چند روز پاکستان میں روکا گیا تو یہ جان سے چلے جائیں گے لیکن حیرت کی بات ہے کہ سولہ ہفتے سے برطانیہ میں قیام کے باوجود تاحال نوازشریف کا علاج شروع نہیں ہوسکا۔ فردوس عاشق نے کہا کہ حکومت پنجاب کی جانب سے نوازشریف کی ضمانت میں مزید توسیع سے انکار کے بعد وفاقی حکومت نواز شریف کو برطانیہ سے ڈی پورٹ کرنے کے لیے کارروائی شروع کرے گی۔
خیال رہے کہ وزیراعظم عمران خان اپنے بڑے سیاسی حریف میاں نواز شریف کی برطانیہ روانگی سے ناخوش ہیں اور سمجھتے ہیں کہ اس سے ان کے بے لاگ احتساب کے بیانیے پر زد پڑی ہے۔ عمران خان کا خیال ہے کہ اگر شریف فیملی کے دیگر افراد کے بعد مریم نواز شریف بھی آسانی سے لندن بھجوادی گئیں تو تحریک انصاف کا احتساب کا بیانیہ اپنی موت آپ مر جائے گا یعنی آسان لفظوں میں حکومت نے اس وقت مریم نواز کو شریف فیملی کی گارنٹی کے طور پر پاکستان میں رکھا ہوا ہے بالکل اسی طرح جیسے دو عشرے قبل جنرل پرویز مشرف نے شریف فیملی کی سعودی عرب جلاوطنی کے موقع پر حمزہ شہباز شریف کو بطور گارنٹی پاکستان میں روک لیا تھا۔
قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ مریم نواز شریف کو اپنے والد کی تیمارداری کے لیے لندن جانے کے حوالے سے لاہور ہائی کورٹ ہی حتمی فیصلہ کرے گی اور اگر لاہور ہائیکورٹ نے مریم نواز کو پاسپورٹ واپس کرکے اپنے والد کے پاس لندن جانے کی اجازت دے دی تو عمران خان بھی انہیں جانے سے نہیں روک سکیں گے۔ تاہم اس وقت حکومت کی بھرپور کوشش ہے کہ میاں نواز شریف کی بیماری کو ڈرامہ قرار دے کر انہیں بدنام کیا جائے۔
اندر کی خبر رکھنے والوں کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف حکومت چاہتی ہے کہ شریف فیملی پاکستان واپس نہ آئے لیکن پھر بھی اپنے ووٹرز کو خوش کرنے کے لئے حکومت انہیں برطانیہ سے ڈی پورٹ کروانے اور انہیں سیاسی طور پر گندا کرنے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔ دوسری جانب نواز شریف شہباز شریف سے اس لیے ناراض ہیں کہ انہیں علاج کی غرض سے لندن لے جاتے وقت شہبازشریف نے یقین دلایا تھا کہ اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ طے شدہ معاملات کے تحت مریم نواز بھی جلد آپ کے پاس برطانیہ میں ہوں گی تاہم سولہ ہفتے سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود شہباز شریف اپنی کمٹمنٹ پوری نہیں کر سکے۔ اس حوالے سے کہا جا رہا ہے کہ شہباز شریف نے مقتدر حلقوں سے رابطہ کرکے مریم نواز کو ریلیف دلوانے کی بات کی ہے جس کی وجہ سے اسٹیبلشمنٹ اور حکومت کے مابین بھی اختلافات بڑھ گئے ہیں اور پچھلے چند مہینوں سے حکومت کی حمایت میں اسٹیبلشمنٹ کا کوئی بیان سامنے نہیں آیا۔
واقفان حال کا کہنا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کی بھرپور کوشش ہے کہ مریم نواز کو ریلیف دلوایا جائے اور نون لیگ کے ساتھ طے شدہ ڈیل کے تحت معاملات کو آگے بڑھایا جائے لیکن اس معاملے میں عمران خان نے اسٹیبلشمینٹ کی بات ماننے سے انکار کر دیا ہے اور اپنے احتساب کے بیانیے کے نام پر شریف فیملی اور اسٹیبلشمنٹ کے لیے بھرپور مشکلات پیدا کر رہے ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آنے والے چند دنوں میں پتہ لگ جائے گا کہ عمران خان اپنا احتساب کا بیانیہ بچانے کے لیے کس حد تک جاتے ہیں اور اسٹیبلشمنٹ نئے گیم پلان کو آگے بڑھانے کے لیے کونسا ترپ کا پتہ کھیلتی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button