مسلم لیگ ن نے وزیر اعظم کے استعفے کا مطالبہ کر دیا

پاکستان مسلم لیگ ن نے وزیراعظم سے استعفے کا مطالبہ کر دیا۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینئر نائب صدر اور سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے حکومت نے اپنی نالائقی، نااہلی کا بوجھ عوام پر ڈال دیا ہے۔ عمران خان ناکامی کا اعتراف کرتے ہوئے گھر چلے جائیں، مہنگائی کا طوفان سونامی کی صورت اختیار کرچکا، حکومت نے پٹرولیم مصنوعات پر اضافی ٹیکس لگائے۔
شاہد خاقان نے خواجہ آصف اور احسن اقبال کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا 31 مئی 2018 کو جب حکومت چھوڑی پاکستان پیٹرول 72.11 روپے میں خریدتا تھا جو ٹیکس ڈال کر 87.70 روپے میں فروخت ہوتا تھا، آج جو پیٹرول کی قیمت رکھی گئی اس کی قیمت 55 روپے ہے، پیٹرول پر 44 روپے سے زائد ٹیکس لاگو کیا گیا ہے، 55 سے 56 روپے پٹرول کی قیمت پر ٹیکس لگا کر اسے 67 کے قریب فروخت ہونا چاہیے۔لیگی رہنما نے مزید کہا جہاں معیشت تباہ ہے وہاں پٹرول کی قیمتوں میں اس قدر اضافہ باعث افسوس ہے، وزیراعظم ایوان میں کہتے کہ میرے پاس آپ پر اضافی بوجھ پٹرول کی مد میں ڈالنے کے سوا کوئی حل نہیں، حکومت ٹیکس اکٹھا کرنے، انڈسٹری بڑھانے اور سرمایہ کاری میں ناکام ہوچکی ہے، پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے سے حکومت کی ناکامیوں میں اضافہ ہوا ہے، ایک طرف اسمبلی بجٹ پر بحث کر رہی ہے جبکہ دوسری طرف پیٹرول پر 34 فیصد اضافے سے عوام پر بوجھ ڈال دیا۔
خواجہ آصف کا کہنا تھا عمران خان نے 2013 اور 2018 میں پٹرول پر ٹویٹ کیا، آج پیٹرول کی قیمتیں بڑھیں، بجلی کی قیمتیں بھی بڑھیں گی، عمران خان نے پیٹرول کی قیمتوں سے متعلق تنقید کی تھی، اگر جرات ہے تو عمران خان استعفیٰ دیں، پی ٹی آئی اپنا نیا لیڈر چن لے، سارا پاکستان عمران خان کی انا کی زد میں ہے، مہنگائی کا طوفان یہاں نہیں رکے گا، اپوزیشن کی تمام پارٹیوں سے مل کر مشترکہ لائحہ طے کریں گے۔ خواجہ آصف نے کہا کہ وزیراعظم اپنی ٹوئٹس پڑھ لیں کہ وہ کیا کہتے تھے اور آج کیا کررہے ہیں؟ پیٹرول کی قیمتیں بڑھی ہیں تو زیادہ دیر نہیں لگے گی اور بجلی کی قیمتیں بڑھ جائیں گی کیونکہ پاور سیکٹر پیٹرولیم مصنوعات، فرنس آئل پر انحصار کرتا ہے۔اپنی بات جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ سلسلہ صرف یہی نہیں رکے گا بلکہ زرعی مصنوعات، اشیائے خور و نوش سمیت ہر چیز کو متاثر کرے گا۔مسلم لیگ(ن) کے رہنما نے کہا کہ حکومت جو طوفان شروع کیا ہے یہ تھمے گا نہیں، اس وقت صورتحال یہ ہے کہ پاکستان اور عمران خان ایک ساتھ نہیں چل سکتے۔ خواجہ آصف نے کہا کہ اگر عمران خان کو زیادہ مہلت ملی اور وہ یہی پالیسیاں جاری رکھتے رہے تو پاکستان ایک ایسے مقام پر پہنچ سکتا ہے جہاں سے واپسی ناممکن ہوجائے۔
رہنما مسلم لیگ(ن) نے کہا کہ جو شخص قومی اداروں کو اپنی انا اور منتقم مزاجی کے مظاہرے کے لیے استعمال کرے اس سے بڑا بزدل شخص کوئی نہیں۔اپنی بات جاری رکھتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ اگر جرات ہے تو عمران خان اس ناکامی کا اعتراف کرتے ہوئے استعفیٰ دیں، پاکستان تحریک انصاف(پی ٹی آئی) اپنا نیا لیڈر چن لے تاکہ قوم کو اس شخص سے چھٹکارا ملے کیونکہ سارا پاکستان ان کی انا کی نذر ہوچکا ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت نے پیٹرول کی قیمتوں کا ڈاکا ڈالنے کے لیے 30 جون کا بھی انتظار نہیں کیا، پاکستان کے عوام یہ بوجھ برداشت نہیں کرسکے گے۔مسلم لیگ(ن) کے رہنما نے کہا کہ ہم اپوزیشن جماعتوں سے مل کر مشترکہ لائحہ عمل طے کریں گے اور عوام کو اس ایک نکتے پر جمع کریں گے کہ مہنگائی کا یہ طوفان جو 2 سال سے چل رہا ہے اور اب سونامی کی شکل اختیار کرچکا ہے تاکہ اس کے آگے بند باندھا جاسکے۔
لیگی رہنما احسن اقبال نے کہا حکومت نے پٹرولیم مصنوعات پر اضافی ٹیکس لگائے، حکومت نے چور دروازے سے پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ کیا، پٹرول کی قیمت میں اچانک اضافے سے ملک کی معیشت متاثر ہوگی، حکومت جب سے آئی مافیاز کے ہاتھوں یرغمال ہے، شاید حکومت نے الیکشن مہم میں مافیاز سے پیسے لیے تھے، پٹرولیم مصنوعات میں 25 روپے اضافہ معیشت کیلئے کمر توڑ وار ہے۔
شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ پیٹرول کی قیمت میں 25 روپے کے قریب کا اضافہ ہوا ہے اور وہ بھی آج عوام کی قوت خرید سے باہر ہے۔ شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ ‘ضرورت تو یہ تھی کہ وزیراعظم قومی اسمبلی میں آئے تھے تو کہتے کہ میں نے معیشت کو تباہ کردیا ہے، میں ٹیکس اکٹھے نہیں کرسکا، معیشت کو نہیں بڑھا سکا اور میرے پاس واحد راستہ ہے کہ آپ کے اوپر بوجھ ڈالوں اور پیٹرول پر ٹیکس کو 15 روپے 69 پیسے سے بڑھا کر 44 روپے 55 پیسے کررہا ہوں’۔انہوں نے کہا کہ اگر ہمت ہوتی تو وزیراعظم یہ بات کرتے، یہ بات یہاں پر نہیں رکے گی کیوں کہ حکومت معیشت کو بڑھانے، ٹیکس وصولی، معیشت کو سنبھالنے، صنعتوں کو بڑھانے، سرمایہ کاری کرنے میں ناکام ہوگئی ہے اور حکومت کے پاس ایک ہی راستہ ہے کہ پیٹرول، ڈیزل پر ٹیکس بڑھائے اور عوام پر بوجھ ڈالے۔
رہنما مسلم لیگ(ن) نے کہا کہ ہم یہ معاملہ قومی اسمبلی میں بھی اٹھائیں گے اور عوام کی عدالت میں یہ مقدمہ رکھ دیا ہے کہ حکومت کی ناکامیوں میں ایک اور اضافہ ہوگیا ہے،حکومت نے اپنی نالائقی، نااہلی کا بوجھ عوام پر ڈال دیا ہے۔
