حکومت نے جبری میڈیا سنسر شپ کے تمام ریکارڈ توڑ دیئے

پاکستانی میڈیا کی آزادی کے حوالے سے سال سن 2019 حکومتی اور ریاستی ہتھکنڈوں کے بے جا استعمال کی وجہ سے ہولناک سال ثابت ہوا جس میں آزاد میڈیا کو غلام بنانے کیلئے تمام اوچھے ہربے استعال کئے گئے
کپتان کی زیر قیادت میڈیا پر جبری سینسر شپ کے ماضی کے تمام ریکارڈ توڑ دیے گے۔ صحافیوں پر قاتلانہ حملے کروائے گئے، بے بنیاد کیسز بنا کر حراست میں رکھا گیا اور انہیں ریاست کا تابع فرماں بنانے کے لیے پیمرا کی جگہ پمرا جیسے ادارے کا قیام عمل میں لانے کی کوشش کی گئی۔ موجودہ حکومتی روش کے پیش نظر ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ رواں برس صحافت کے لئے مزید مہلک ثابت ہوسکتا ہے۔
2019 پاکستان میں صحافیوں کے لئے قیامت خیز ثابت ہوا اور سات صحافی قتل کر دئیے گئے تاہم ایک غیر سرکاری ادارے کی تازہ رپورٹ کے مطابق قدامت پسند پالیسی تجاویز میں ایک سب سے بھونڈی کوشش تمام میڈیا ریگولیٹرز کو ایک مرکزی ادارے پاکستان میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی یعنی پمرا میں تبدیل کرنا ہے جسے عوام، میڈیا اور سول سوسائٹی نے مشترکہ طور پر مسترد کرچکے ہیں۔
غیر سرکاری تنظیم انسٹیٹیوٹ فار ریسرچ، ایڈوکیسی اینڈ ڈیولپمنٹ نے "جابرانہ سینسر شپ اور خاموش ہوتا ہوا پاکستان” کے عنوان سے سالانہ رپورٹ تیار کی ہے جس کے مطابق انسانی حقوق کے کارکنان اور سیاستدانوں کو ٹیلی ویژن پر آ کر بولنے سے روکنے پر مجبور کیا گیا اور تقریباً 10 لاکھ سوشل میڈیا ویب سائٹس بلاک کی گئیں۔ ڈیجیٹل حقوق، معلومات کے حق، آزادی اظہار رائے پر عدالتی، قانونی اور قانون سازی کی پیشرفت کے جائزے سے یہ بات سامنے آئی کہ حکومت شہری آزادیوں پر حملے کررہی ہے اور اس سلسلے میں لبرل انتظامی حدود اور قدامت پسند پالیسی تجاویز کا مجموعہ اختیار کیا۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ پاکستان الیکٹرونک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی یعنی پیمرا حکومتی اور ریاستی ایما پر نجی ٹیلی ویژن چیننلز کو پورا سال ہدایات، ایڈوائزیریز اور اظہار وجوہ کے نوٹسز‘ جاری کرنے اور جرمانے کرنے میں مصروف رہا۔ اسی طرح اپوزیشن کے رہنماؤں کی لائیو پریس کانفرنسز پر نہ صرف ڈیفیکٹو پابندی عائد کی گئی بلکہ شہری حقوق کے لیے کام کرنے والے گروہ مثلاً عوامی ورکرز پارٹی کی بھی کسی قسم کی کوریج پر پابندی تھی۔
رپورٹ میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا کہ پاکستان ٹیلی کمیونکیشن اتھارٹی نے الیکٹرانک کرائمز کی روک تھام کے قانون پیکا کی دفعہ 37 کے تحت حاصل اختیارات کے ذریعے مختلف وجوہات مثلاً’ فحش یا گستاخانہ مواد یا ریاست، عدلیہ اور فوج کے خلاف جذبات‘ پر 9 لاکھ سے زائد ویب سائٹس بلاک کیں۔ علاوہ ازیں گزشتہ سال کے دوران کم از کم 7 صحافی ہلاک ہوئے جبکہ متعدد حملے کا نشانہ بنے یا زخمی ہوئے ان میں سے کچھ کو حکام کی جانب سے قانونی مقدمات کا سامنا کرنا پڑا۔ آئی آر اے ڈی اے کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر محمد آفتاب عالم کا کہنا ہے کہ پورے سال پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کی توجہ آمرانہ رجحانات اور جابرانہ رویوں کی عکاسی کرتے ہوئے مین اسٹریم میڈیا اور سوشل میڈیا کو غیر مستحکم کرنے پر مرکوز رہی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق 2019 کے تجربات 2020 کے لیے میڈیا کے معاملات کو مذید بگڑتا ہوا ظاہر کرتے ہیں جس میں اظہار رائے کی آزادی کو مزید محدود کیے جانے کا امکان ہے۔
