حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمت پر بھی عوام کی جیب کاٹ لی

عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں تاریخی کمی کے باوجود کپتان حکومت نے سستے تیل سے ملنے والی ریلیف عوام کو منتقل کرنے کی بجائے پٹرولیم مصنوعات پر ٹیکسوں میں 200 فیصد تک اضافہ کردیا۔ یوں حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں معمولی ترین کمی کر کے عوام کو ٹرخا دیا۔ اندر کی خبر رکھنے والوں کا کہنا ہے کہ عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں ہو شربا کمی کے بعد عوام کو کم از کم بھی پچاس روپے فی لیٹر ریلیف ملنا چاہئے تھا لیکن عوام دشمن حکومت نے چالاکی دکھاتے ہوئے اوگرا کی سفارشات کے برعکس پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں نصف سے زائد کمی کرنے کی بجائے پٹرولیم لیوی یعنی تیل پر ٹیکس کی شرح 200 فی صد تک بڑھا کر عوام کو سہولت دینے کی بجائے اپنی تجوریاں بھرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق وفاقی حکومت نے سوسرے۔ممالک کی طرح پٹرولیم لیوی یا تیل پر ٹیکس 200 فیصد بڑھا کر صارفین کو پورا ریلیف منتقل کرنے کی بجائے ماموں بنا ڈالا۔ حکومتی دستاویز کے مطابق ایک ماہ میں حکومت نے مٹی کے تیل پر پٹرولیم لیوی 6؍ روپے سے بڑھا کر 18؍ روپے 2؍ پیسے کر دی ہے یعنی مٹی کے تیل پر پٹرولیم لیوی 12؍ روپے 2؍ پیسے فی لیٹر بڑھائی گئی ہے، ڈیزل پر پٹرولیم لیوی 24؍ روپے 20؍ پیسے سے بڑھا کر 30؍ روپے کی گئی، یعنی ڈیزل پر فی لیٹر پٹرولیم لیوی 5.8 روپے بڑھائی گئی، اسی طرح پٹرول پر فی لیٹر پٹرولیم لیوی 18.90؍ روپے سے بڑھا کر 23؍ روپے 76؍ پیسے کی گئی ہے یعنی پٹرول پر ٹیکس میں 4 روپے 86 پیسے اضافہ کیا گیا ہے۔
دستاویزت کے مطابق پیٹرول پر45 روپے 85 پیسے فی لٹر ٹیکس، لیوی، ڈیوٹیز عائد ہے، پیٹرول کی قیمت خرید 35.73 روپے، قیمت فروخت 81.58روپے فی لٹر مقرر کی گئی ہے۔ دستاویزات کے مطابق ڈیزل کے پر 49.11 پیسے فی لٹر ٹیکس، لیوی اور ڈیوٹیز عائد کی گئی ہے، ڈیزل کی قیمت خرید 30 روپے99 پیسے، قیمت فروخت 80 روپے 10 پیسے فی لٹر مقرر کی گئی ہے، ہائی سپیڈ ڈیزل کے ایک لیٹرپر پیٹرولیم لیوی میں 14 روپے 51 پیسے کا اضافہ کیا گیا ہے۔ہائی اسپیڈ ڈیزل پر لیوی 15.49روپے سے بڑھا کر 30 روپے فی لٹر کردی گئی، ہائی سپیڈ ڈیزل کے فی لیٹر پر 11 روپے 64 پیسے سیلز ٹیکس الگ سے عائد ہے، حکومت نے مٹی کے تیل پر پیٹرولیم لیوی بڑھاکر کر 18روپے 2 پیسے کردی، لائٹ ڈیزل پر پیٹرولیم لیوی بڑھاکر 11 روپے 18 پیسے کردی گئی ہے۔
دستاویزات کے مطابق ہائی سپیڈ ڈیزل کی سپلائی کاسٹ 30 روپے 99 پیسے فی لیٹر ہے، ہائی اسپیڈ ڈیزل کے فی لیٹر پر 3 روپے 12 پیسے ڈیلر مارجن عائد کیا گیا ہے، ہائی سپیڈ ڈیزل پر او ایم سی مارجن 2 روپے 81 پیسے وصول کیا جارہا ہے۔ہائی اسپیڈ ڈیزل کے فی لیٹر پر آئی ایف ای ایم 1 روپے 54 پیسے وصول کیا جا رہا ہے، پیٹرول کے فی لیٹر پر پیٹرولیم لیوی میں 6 روپے 60 پیسے کا اضافہ کردیا گیا، پٹرول پر لیوی 17.16 روپے سے بڑھاکر 23.76 روپے کردی گئی۔ پیٹرول کے فی لیٹر پر 11 روپے 85 پیسے سیلز ٹیکس الگ سے عائد ہے۔دستاویز کے مطابق پٹرول کی فی لیٹر سپلائی کاسٹ 35 روپے 73 پیسے بنتی ہے، پٹرول کے فی لیٹر پر 3 روپے 70 پیسے ڈیلر مارجن وصول کیا جارہا ہے، پیٹرول پر او ایم سی مارجن 2 روپے 81 پیسے وصول کیا جارہا ہے، پیٹرول کے فی لیٹر پر آئی ایف ای ایم 3 روپے 73 پیسے وصول کیا جارہا ہے۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی کم ہوتی ہوئی قیمتوں کے مطابق پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں کم کی جاتی تو ملک بھر میں مہنگائی کا بڑھتا ہوا طوفان بھی تھم جاتا۔ لیکن لالچی حکمرانوں نے تیل کی قیمتوں میں خاطر خواہ کمی کے حوالے سے اوگرا کی طرف سے بھجوائی گئی سفارشات کو بھی نظر انداز کر دیا۔ اوگرا کی طرف سے عوام کو ریلیف دینے کیلئے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 44 روپے فی لیٹر تک کمی کی تجویز بھجوائی گئی تھی لیکن کپتان سرکار کی طرف سے عوامی مفاد کی تجویز کو نظر انداز کر دیا گیا۔ اوگرا نے پٹرول کی قیمت میں 20.68 روپے، ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 33.94روپے، مٹی کے تیل کی قیمت میں44.07روپے اورلائیٹ ڈیزل کی قیمت میں 24.57 روپے فی لٹر کمی کی سفارش کی تھی۔ تاہم حکومت نےاوگراکی سفارشات کے برعکس پٹرول کی قیمت میں 15 روپے فی لٹر ، ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 27روپے 15 پیسے فی لٹر، مٹی کے تیل کی قیمت میں 30روپے ایک پیسے فی لٹر اور لائیٹ ڈیز ل آئل کی قیمت میں 15 روپے فی لٹر کمی کی ہے۔ جس کے بعد پٹرول کی قیمت 96 روپے 58پیسے سے کم ہو کر 81روپے 58 پیسے فی لٹر ، ہائی سپیڈ ڈیز ل کی قیمت 107روپے25 پیسے سے کم ہو کر 80روپے 10 پیسے فی لٹر ، مٹی کے تیل کی قیمت 77روپے45 پیسے سے کم ہوکر 47روپے44 پیسے فی لٹر ااور لائٹ ڈیزل آئل کی قیمت 62روپے51 پیسے فی لٹر سے کم ہو کر 47 روپے51 پیسے فی لٹر ہو گئی ہے۔
یاد رہے کہ عالمی مارکیٹ میں کرونا وائرس کے باعث تیل کی کھپت میں تاریخی کمی آنے کے بعد اس کی قیمتیں بھی زمین سے جا لگی ہیں۔ عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں گراوٹ کے مد نظر پاکستان میں پٹرول کی قیمت میں 40 فیصد سے زائد تک کمی کا امکان ظاہر کیا جارہا تھا کیونکہ حکومت نے رواں ماہ 28 ڈالر 51 سینٹ فی بیرل میں تیل خریدا تھا۔ جس کے مطابق مقامی سطح پر پٹرول کی فی لیٹر قیمت 35 روپے فی لیٹر بنتی ہے۔ حکومت پٹرول پر فی لیٹر 35 روپے ٹیکس وصول کرتی ہے۔ جس کے بعد اسکی قیمت 70 روپے تک کم کی جا سکتی تھی۔ تاہم حکومت نے عوام کو مکمل ریلیف پہنچانے کی بجائے قیمتیں واجبی طور پر کم کر کے انہیں ٹرخا دیا۔
عالمی مارکیٹ میں تیل کی کم ہوتی ہوئی قیمتوں کے مطابق عوام کو ریلیف نہ دینے پر سوشل میڈیا پر تبدیلی سرکار کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ عوام کا کہنا ہے کہ کرونا وائرس کی وجہ سے پہلے ہی عوام بے روزگاری کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں اور ہر گزرتے دن کے ساتھ گزر اوقات مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ حکومت نہ تو خود عوام کی فلاح کیلئے کوئی اقدامات کر رہی ہے اور الٹا قدرتی طور پر عوام کو ملنے والا ریلف بھی چھینا جا رہا ہے حالانکہ ملک میں عالمی مارکیٹ کے مطابق پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں کم کی جاتی تو اس سے نہ صرف عوام کو سہولت ملتی بلکہ مہنگائی پر بھی کسی حد تک قابو پانے میں مدد ملتی۔
