مسلم لیگ ن کا 18ویں ترمیم میں تبدیلی کی مخالفت کرنے کا فیصلہ

مسلم لیگ ن کا 18 ویں ترمیم میں کسی قسم کی تبدیلی کی مخالفت کرنے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ دوسری طرف لیگی رہنما خواجہ سعد رفیق کا کہنا ہے کہ حکومت نے تاحال اٹھارویں ترمیم بارے مسلم لیگ ن سے رابطہ نہیں کیا.
لاہور میں شہباز شریف کی زیر صدارت پاکستان مسلم لیگ (ن) کا اجلاس ہوا جس میں 18ویں آئینی ترمیم سمیت نیب ترمیمی آرڈیننس پر غور کیا گیا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ ن لیگ نے 18ویں ترمیم میں کسی بھی قسم کی تبدیلی کی مخالفت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ذرائع کے مطابق اجلاس میں متفقہ فیصلہ ہوا کہ 18 ویں ترمیم آئین کا حصہ ہے اور ن لیگ اس میں تبدیلی کے حق میں نہیں ۔
ذرائع نے ن لیگی رہنما پرویز رشید کے حوالے سے بتایا ہے کہ قومی احتساب بیورو (نیب) ترمیمی آرڈیننس پر جب حکومت کوئی لائحہ عمل اپنائے گی تب ن لیگ اپنا ردعمل لائے گی اور شہباز شریف اپوزیشن جماعتوں سے مشاورت کے بعد قومی اسمبلی کے اجلاس میں تقریرکریں گے۔ ن لیگی رہنما کا کہنا تھا کہ کوئی بھی ایسی بات اجلاس میں زیر غور نہیں آئی کہ اپوزیشن اسمبلیوں سے استعفٰی دے۔پرویز رشید کا مزید کہنا تھا کہ حکومت نے خاص طور پر کورونا وائرس کے حوالے سے نامناسب اقدامات کیے ہیں، حکومت ڈاکٹروں کو حفاظتی کٹس فراہم کرنے میں بھی ناکام رہی ہے۔
خیال رہے کہ گذشتہ کچھ دنوں سے 18 ترمیم میں تبدیلی کے حوالے سے خبریں سامنے آرہی ہیں اور حکومتی رہنماؤں کی جانب سے ترمیم پر اعتراضات بھی سامنے آئے ہیں تاہم اپوزیشن کی جانب سے آئین میں کسی بھی تبدیلی پر سخت ردعمل کا اعلان کیا گیا ہے۔اس کے علاوہ وفاقی حکومت نے نیب کے نئے ترمیمی آرڈیننس کے لیے اپوزیشن سمیت تمام اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کا فیصلہ کر رکھا ہے۔
دوسری طرف مسلم لیگ ن کے رہنما سعد رفیق نے کہا ہے کہ نیب کا کالا قانون اور معیشت اکٹھے نہیں چل سکتے، 18 ویں ترمیم پر بات چیت ہو سکتی ہے تاہم حکومت نے تاحال ن لیگ سے اس حوالے کوئی رابطہ نہیں کیا.
احتساب عدالت لاہور میں پیشی کے بعد لیگی رہنما خواجہ سعد رفیق نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا 18ویں ترمیم میں پنجاب نے قربانی دی. پنجاب اپنے حقوق سے پیچھے ہٹااور اپنا حصہ چھوٹے صوبوں کو دیا۔ صوبائی خود مختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہونا چاہیے۔ خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ آئین انسان کا بنایا ہوا قانون ہے اس میں ترمیم کی ضرورت ہو تو بات کی جاسکتی ہے، آئین میں ترمیم ایک دن کا مسئلہ نہیں، اٹھارویں ترمیم بھی ایک دن یا مہینے میں نہیں ہوئی,ان کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ (ن) سے اٹھارویں ترمیم میں ترمیم کے حوالے سے کوئی رابطہ نہیں کیا گیا، صوبائی خود مختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہونا چاہیے، 18ویں ترمیم کے معاملے پر شور مچایا جارہا ہے.
سعد رفیق نے کہا کہ نیب قوانین کا 18ویں ترمیم سے کوئی تعلق نہیں، نیب کا قانون اور ریاستی امور ایک ساتھ نہیں چل سکتے، نیب قوانین سے سیاسی مخالفین کے ساتھ سرکاری افسران اور کاروباری طبقہ بھی متاثر ہوا ہے. ان کا کہنا تھا کہ جیلیں غیر سیاسی بے گناہ افراد سے بھری پڑی ہیں، کاروباری طبقہ نیب قوانین کے تحت جیلوں میں ہے ان کی داد رسی ہونی چاہیے۔
ادھر پیراگون ہاؤسنگ سوسائٹی ریفرنس میں سعد رفیق اور خواجہ سلیمان رفیق عدالت میں پیش ہوئے جبکہ سب رجسٹرار عزیز بھٹی ٹاؤن عمران صفدر نے پیرا گون ہاؤسنگ سوسائٹی کی رجسٹریوں کا ریکارڈ عدالت میں پیش کیا۔احتساب عدالت کے جج جواد الحسن نے خواجہ برادران کو پیرا گون ہاؤسنگ اسکینڈل کیس میں طلب کر رکھا تھا۔
احتساب عدالت لاہورمیں پیرا گون ہاؤسنگ اسکینڈل کیس کی سماعت 2جون تک ملتوی کردی گئی ہے اور آئندہ سماعت پرخواجہ برادران کے خلاف وعدہ معاف گواہ قیصر امین بٹ کو طلب کیا گیا ہے۔ عدالت نے حکم دیا کہ اگر قیصر امین بٹ پیش نہ ہوئے تو ان کے ورانٹ گرفتاری جاری کیے جائیں گے۔
خیال رہے کہ نیب نے 11 دسمبر2018 کو خواجہ برادران کو گرفتار کیا تھا۔ نیب نے الزام لگایا ہے کہ خواجہ سعد رفیق اور سلمان رفیق پیراگون ہاوسنگ سوسائٹی سے فوائد حاصل کرتے رہے ہیں اور ان کے نام 40 کنال اراضی موجود ہے۔ خواجہ سعد رفیق نے اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے غیر قانونی ہاوسنگ سوسائٹی کی تشہیر کی اور عوام سے اربوں روپے بٹورے۔ترجمان نیب نے کہا ہے کہ خواجہ برادران کو پیراگون سٹی کرپشن کیس میں مبینہ طور پر مالی فوائد حاصل کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔خواجہ برادران کی گرفتاری درخواست ضمانت مسترد ہونے کے بعد عمل میں لائی گئی ہے۔ ترجمان نیب کے مطابق ملزمان کیخلاف معقول شواہد پیش کرنیکی تصدیق بھی ہوئی ہے۔
سپریم کورٹ نے17مارچ2020 میں خواجہ برادران کی ضمانت منظور کرتے ہوئے ریمارکس دیے تھے کہ نیب کوئی ایسی چیز بتائے جس سے ثابت ہو کہ خواجہ برادران کو ضمانت نہ دی جائے، نیب کے پاس اب بھی کوئی واضح شواہد موجود نہیں ہیں۔سپریم کورٹ نے لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے ریمارکس دیے کہ نیب عدالت کو مطمئن نہیں کر سکی ہے جبکہ نیب میں نیب، اہلیت یا دونوں کا فقدان نظر آتا ہے۔ عدالت نے خواجہ برادران کی ضمانت 30، 30 لاکھ کے دو مچلکوں کے عوض منظور کی تھی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button