حکومت پر امریکی تعلقات سے متعلق 2012 کی تجاویز پر عمل کرنے کیلئے زور

ا سینیٹ کمیٹی برائے دفاع و قومی سلامتی نے حکومت سے کہا ہے کہ وہ امریکا سے مستقبل کے تعلقات کے بارے میں پارلیمانی کمیٹی برائے قومی سلامتی (پی سی این ایس) کی 2012 کی رپورٹ میں دی گئی سفارشات پر عمل کرے۔

امریکی تعلقات سے متعلق سفارشات کی ایک کاپی جسے پارلیمنٹ نے 12 اپریل 2012 کو متفقہ طور پر منظور کیا تھا، کمیٹی نے اس نوٹ کے ساتھ وزارت دفاع کو بھیجا تھا کہ انہیں ‘پاکستان کی ریاستی پالیسی کے گائیڈ لائنز’ سمجھا جانا چاہیے۔

سینیٹر مشاہد حسین سید نے کمیٹی کو پی سی این ایس کی جانب سے تیار کردہ مشغولیات کی شرائط کی کاپی پیش کی جس کی سربراہی اس وقت سینیٹر رضا ربانی کر رہے تھے۔

رضا ربانی کی زیرقیادت پی سی این ایس کو حکومت نے یہ ذمہ داری سونپی تھی کہ وہ نومبر 2011 میں ہونے والے سلالا چیک پوسٹ واقعے کے بعد امریکا کے ساتھ تعلقات کی شرائط پر نظرثانی کرے۔

اس واقعے میں پاک افغان سرحد پر پاکستانی فوج کی چوکیوں پر امریکی فورسز کے حملے میں کم از کم 28 پاکستانی فوجی شہید ہوگئے تھے۔

تجویز کردہ مشغولیت کی شرائد میں فوجی اڈوں، غیر ملکی فوج کی ملک میں موجودگی اور پاکستانی سرزمین پر غیر ملکی انٹیلی جنس کارروائیوں جیسے معاملات کو دیکھتے ہیں۔

سینیٹ کی دفاعی کمیٹی نے نشاندہی کی کہ یہ سب اب پارلیمنٹ کی ہدایت کے تحت ممنوع ہیں۔

پی سی این ایس کی رپورٹ میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ ‘پاکستان کے اندر کسی بھی طرح کے خفیہ اور اعلانیہ آپریشن کی اجازت نہیں ہوگی، کسی بھی نجی سیکیورٹی کنٹریکٹرز اور/یا انٹیلیجنس اہلکاروں کو اجازت نہیں ہوگی اور غیر ملکی اڈوں کے قیام کے لیے پاکستان کی سرزمین فراہم نہیں کی جائے گا’۔

غیر ملکی حکومتوں کے ساتھ آئندہ کے معاہدوں کے لیے گائیڈ لائنز بھی پی سی این ایس نے طے کیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ مستقبل میں حکومت قومی سلامتی سے متعلق معاملات پر کوئی ‘زبانی معاہدے’ نہیں کرے گی۔

پی سی این ایس کی جانب سے مزید کہا گیا ہے کہ فوجی تعاون اور ترسیلات کے معاملات سے متعلق کوئی معاہدہ یا ایم او یو کو متعلقہ وزارتوں اور پارلیمنٹ کی قومی سلامتی سے متعلق کمیٹی کے درمیان جانچ کے لیے لایا جائے گا اور متعلقہ وزیر دونوں پارلیمنٹ کے ایوانوں میں اس معاملے پر پالیسی بیانات دیں گے۔

سینیٹ کی دفاعی کمیٹی نے حکومت کو پی سی این ایس کی اس رپورٹ کے بارے میں ایسے وقت میں یاد دلایا ہے جب واشنگٹن میں انتظامیہ میں تبدیلی اور افغانستان سے غیر ملکی افواج کی واپسی کے بعد امریکا اور پاکستان اپنے تعلقات کے مستقبل پر بات چیت کر رہے ہیں۔

پاکستان اس بات پر زور دے رہا ہے کہ وہ دو طرفہ تعلقات کے تجارتی اور معاشی پہلو پر توجہ دینے کا ارادہ رکھتا ہے تاہم امریکا افغانستان میں دہشت گردی کے خلاف مستقبل کی کارروائیوں کے لیے پاکستانی سرزمین پر ڈرون کے اڈوں کا مطالبہ کررہا ہے۔

وزیر اعظم عمران خان نے بار بار کہا ہے کہ حکومت امریکی اڈوں کی کبھی اجازت نہیں دے گی۔

Back to top button