حکومت کاایک بار پھر موبائل فون سمز کی تصدیق کا فیصلہ

دہشتگردوں اور جرائم میں ملوث افراد کی طرف سے موبائل سمزکے غلط استعمال سےمتعلق قانون نافذ کرنے والےاداروں کا مؤقف اور تجاویز سامنے آنے کے بعد حکومت نے سموں کی دوبارہ تصدیق کا فیصلہ کیا ہے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ ہر سم وہی شخص استعمال کر رہا ہے جس کے نام پر اسے موبائل فون کمپنی نے جاری کیا ہے اور اس کے ذریعے جرائم پیشہ افراد کی نشاندہی بھی ہو سکے۔
ذرائع کے مطابق وفاقی تحقیقاتی ادارے اور قانون نافذ کرنے والے دیگر ادارروں کا مؤقف ہے کہ اس وقت متعدد جرائم حتیٰ کہ دہشت گردی کے لیے بھی جرائم پیشہ افراد ایسی سمیں استعمال کرتے ہیں جو ان کے نام پر نہیں ہوتیں۔ اس حوالے سے وزارت داخلہ کے ایک اعلیٰ افسر نے بتایا کہ وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے اور دیگرقانون نافذ کرنیوالے اداروں کی جانب سے دی جانے والی تجویز کی اصولی منظوری دے دی گئی ہے اور امید ہے کہ دوبارہ تصدیق کا عمل رواں برس ہی مکمل کر لیا جائے گا۔
ایک سوال پر کہ بائیومیٹرک تصدیق کے باوجود سمیں کیسے غلط استعمال ہوتی ہیں اعلیٰ افسر کا کہنا تھا کہ جرائم پیشہ گینگ معصوم دیہاتی افراد سے موبائل کمپنیوں کی انگوٹھا لگانے والی مشینوں پر چند روپوں اور اشیائے خورونوش کے بدلے انگوٹھا لگوا لیتے ہیں اور ان کے نام پر سمیں جاری کروا کر انہیں استعمال کرتے ہیں۔ان جعلی سموں کے ذریعے مختلف قسم کے جرائم جن میں بینک فراڈ، شناخت کی چوری، سائبر کرائم اور دہشت گردی کی وارداتیں کی جاتی ہیں۔
ذرائع کے مطابق تمام سموں کی دوبارہ تصدیق کے لیے اب نئی مشینیں استعمال کی جائیں گی اور انگوٹھے کی ویری فیکیشن کے لیے استعمال کی جانے والی مشینوں کی تعداد کم کی جائے گی تاکہ جرائم پیشہ افراد انہیں استعمال نہ کر سکیں۔ اس وقت ملک بھر میں تقریبا 14 ہزار ایسی مشینیں زیر استعمال ہیں۔
ایف آئی اے کے سائبر کرائم ونگ کے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے دفاع میں پیش کیے گئے اعدادو شمار کے مطابق گزشتہ چار سالوں میں سائبر کرائمز میں واضح اضافہ دیکھا گیا ہے اور اس کی ایک وجہ موبائل فون سموں کا غلط استعمال بھی ہے۔ایف آئی اے کی طرف سے قائمہ کمیٹی کو بتایا گیا تھا کہ سال 2019 میں جنسی استحصال اور انعامی رقم نکلنے کے جعلی پیغامات سمیت سائبر کرائم سے متعلقہ 56 ہزار 696 شکایات موصول ہوئیں جو 2018 کے مقابلے میں تین گنا زیادہ ہیں۔
بریفنگ کے دوران کمیٹی کے ارکان نے ایف آئی اے حکام سے استفسار کیا تھا کہ انعامی رقم کے جعلی میسجز اور فون کالز کرنے والوں کے خلاف کارروائی کیوں نہیں کی جاتی؟
ایف آئی اے کے ڈائریکٹر سائبر کرائم ونگ وقار چوہان نے کمیٹی کو بتایا کہ’جعلی انعامی رقم نکلنے کے میسجز اور کال کرنے والے نمبرز کے ڈیٹا تک رسائی تو مل جاتی ہے لیکن جب ایسے نمبرز کا کھوج لگایا جاتا ہے تو پتہ چلتا ہے کہ اکثر نمبرز دیہات میں کسی بوڑھی خاتون یا ادھیڑ عمر شخص کے نام پر رجسٹرڈ ہوتے ہیں۔
ایف آئی اے حکام نے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کو بتایا کہ جو لوگ یہ نمبرز استعمال کرتے ہیں ان تک رسائی کے لیے ایف آئی اے کے پاس ’لوکیٹرز‘ کی صلاحیت موجود نہیں ہے۔ کوئی نمبر کس جگہ سے استعمال ہو رہا ہے اس مقام تک رسائی حاصل کرنے کی سہولت آئی ایس آئی، آئی بی اور پنجاب پولیس کے پاس موجود ہے۔حکام کے مطابق محدود وسائل کے باعث ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ کے پاس کال کرنے والے کی درست جگہ کا تعین کرنا ممکن نہیں ہوتا۔
خیال رہے کہ پاکستان میں مختلف نمبرز سے موبائل فون صارفین کو انعامی رقم نکلنے کے پیغامات اکثر موصول ہوتے رہتے ہیں۔جبکہ اس وقت ملک میں 16 کروڑ 40 لاکھ موبائل فون استعمال کرنے والے صارفین موجود ہیں جن میں سے 7 کروڑ 46 لاکھ تھری جی اور فور جی سمارٹ فونز استعمال کرتے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button