حکومت کا آئینی عدالتوں کے قیام کی تجویز پر غور

حکومت نے آئینی عدالت کے قیام کی تجویز پر غور کرنے پر رضامندی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ حتمی فیصلہ جلد بازی میں نہیں لیا جانا چاہیے۔
وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور علی محمد خان نے سینیٹ کو بتایا کہ یہ ایک اچھی تجویز ہے لیکن اس پر عدلیہ، بار کونسلز، تھنک ٹینکس، لا ڈویژن اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ پوری طرح بات چیت کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ موجودہ قوانین میں ایک اہم تبدیلی ہوگی اور اس کے لیے حکومت اپوزیشن کے ایک پیج پر ہونے کی ضرورت ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کے دروازے کھلے ہیں اور ہم کسی بھی قانون سازی کی تجویز پر بات کرنے کےلیے تیار ہیں۔
اس سے قبل مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر جاوید عباسی، جنہوں نے اس معاملے پر بات چیت کے لیے تحریک پیش کی تھی، نے کہا تھا کہ عدالت عظمیٰ پر دباؤ ڈالا جارہا ہے کیوں کہ وقت لینے والے آئینی مقدمات سمیت ہر قسم کے کیسز اس کو نمٹانے ہیں جس کی وجہ سے معمول کے مقدمات کی سماعت تاخیر کا شکار ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ سپریم کورٹ کی طرز پر آئینی عدالت قائم کی جائے۔ انہوں نے سینیٹ کے چیئرمین صادق سنجرانی سے تجویز کردہ تجویز پر تبادلہ خیال کرنے کے لیے تمام کمیٹی کا اجلاس طلب کرنے کو کہا۔
چیئرمین سینیٹ نے اس کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ وہ اس معاملے پر ایوان اور حزب اختلاف کے رہنماؤں سے بات کریں گے۔ پختونخوا ملی عوامی پارٹی (پی کے ایم اے پی) کے عثمان خان کاکڑ نے کہا کہ عدالت عظمی نے انتخابی معاملات کی بھی سماعت کی جس میں کبھی کبھی سال لگ جاتے ہیں۔ مسلم لیگ (ن) کے مشاہد حسین سید نے کہا کہ اعلی عدلیہ پر دباؤ ہے کیوں کہ گیم کے اصول طے نہیں ہوسکے ہیں۔ انہوں نے کہا اس لیے ایسے فیصلے دیے گئے جو متنازع ہو گئے، انہوں نے 1975 میں نیشنل عوامی پارٹی (نیپ) پر پابندی عائد کرنے، 1979 میں سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کو سزائے موت دینے اور 2017 میں اقامہ کیس میں نواز شریف کی نااہلی کے فیصلے کا حوالہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ بھٹو کی سزا کو بہت سے لوگوں نے عدالتی قتل کے طور پر دیکھا اور اس بات کی نشاندہی کی کہ وزیر اعظم عمران خان نے خود اقامہ فیصلے کو ایک ‘کمزور فیصلہ’ کہا تھا۔ انہوں نے کہا کہ مئی 2006 میں مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے دستخط کردہ میثاق جمہوریہ میں وفاقی آئینی عدالت کا بھی ذکر تھا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button