حکومت کا اسمبلی اجلاس 21 کی بجائے 25 مارچ کو بلانے پرغور

اپوزیشن کی جانب سے قومی اسمبلی میں دھرنے کی دھمکی کے بعد حکومت نے اسمبلی اجلاس 21 کی بجائے 25 مارچ کو بلانے پرغور شروع کر دیا ہے. میڈیا رپورٹس کے مطابق اپوزیشن رہنماؤں کی جانب سے کی جانے والی پریس کانفرنس کے بعد وزیراعظم عمران خان، اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر اور دیگر وزراء میں رابطہ ہوا ہے. بتایا گیا ہے کہ اس رابطے میں حکومت کی 21 مارچ کو قومی اسمبلی اجلاس بلانےکے معاملے پر مشاورت جاری ہے اور 21 کی بجائے25 مارچ کو اجلاس بلانے پرغور کیا جا رہا ہے. ذرائع وفاقی کابینہ کے مطابق او آئی سی اجلاس کے بعد قومی اسمبلی کا اجلاس بلایا جائے گا. بتایا گیا ہے کہ او آئی سی اجلاس کے باعث قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کا چارج وزارت خارجہ کے پاس ہے. ذرائع نے یہ بھی بتایا ہے کہ ریکوزیشن جمع ہونے کے 14 دن میں اجلاس بلانا لازم ہے تاہم یہ لازم نہیں کہ اجلاس لازمی ہو.
واضح رہے کہ اپوزیشن جماعتوں نے حکومت کو دھمکی دی ہے کہ پیر کو تحریک عدم اعتماد قومی اسمبلی میں پیش نہ ہوئی تو اسمبلی میں دھرنا دے دیں گے. میڈیا رپورٹس کے مطابق پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ اسپیکر قومی اسمبلی پیر کے دن عدم اعتماد پیش نہیں کرتے تو ہم ایوان سے نہیں اٹھیں گے. متحدہ اپوزیشن کے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو میں بلاول بھٹو نے کہا کہ اگر اسپیکر پیر کے دن عدم اعتماد پیش نہیں کرتے تو ہم ایوان سے نہیں اٹھیں گے. چیئرمین پیپلز پارٹی نے حکومت کو یہ دھمکی دی ہے کہ اگر ہم اسمبلی میں دھرنے پر بیٹھ گئے تو پھردیکھتےہیں آپ او آئی سی کی کانفرنس کیسے کرتے ہیں؟ انہوں نے سخت لہجے میں کہا کہ ہم وہاں اسی فلورپربیٹھے رہیں گے جب تک ہمارا حق نہیں دیا جاتا. تازہ صورت حال کے مطابق حکومت نے 21 مارچ کے پارلیمانی اجلاس میں اپوزیشن کی جانب ست ممکنہ دھرنے کے پیش نظر اجلاس 21 مارچ کی بجائے 25 مارچ کو بلانے پر غور شروع کر دی ہے.
