حکومت کا اپوزیشن کو قابو کرنے کے لیے اسٹیبلشمنٹ سے رابطہ


فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) سے متعلق قانون سازی پر اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے جھنڈی دکھائے جانے کے بعد اب حکومت نے اسٹیبلشمنٹ کے ذریعے اپوزیشن کو قابو کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ ایف اے ٹی ایف پر قانون سازی نہ ہونے کی صورت میں پاکستان شدید مشکلات کا شکار ہو جائے گا چنانچہ اس معاملے پر اپوزیشن کو راضی کرنے کے لیے مقتدر حلقوں کی مدد حاصل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ کلبھوشن یادیو کے معاملے پر بھی اپوزیشن نے حکومت کو تنگ کرنے کی کوشش کی تھی لیکن اسٹیبلشمنٹ کی مداخلت کے بعد اپوزیشن خاموش ہوگئی۔
یاد رہے کہ اپوزیشن نے ایف اے ٹی ایف پر قانون سازی کو نیب قانون میں ترمیم سے مشروط کر دیا ہے اور اس کا مطالبہ ہے کہ احتساب آرڈیننس کی تمام غیر انسانی شقوں کا خاتمہ کیا جائے۔ دوسری طرف حکومت نے اعلان کیا ہے کہ احتساب کے معاملے پر کسی قسم کا کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور اپوزیشن کو کوئی ریلیف نہیں دی جائے گی۔ لہذا اب حکومت اور اپوزیشن کے مابین ایف اے ٹی ایف اور نیب قانون میں ترمیم پر ڈیڈ لاک ہو چکا ہے اور اپوزیشن نے حکومتی کمیٹی کے ساتھ مزید ملاقاتوں سے انکار کر دیا ہے۔ اب صورتحال یہ یے کہ دونوں فریقین اپنے اپنے مؤقف پر ڈٹے ہوئے ہیں۔
حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ڈیڈ لاک تب آیا جب حکومتی سائیڈ نے نیب قانون میں اپوزیشن کی تجویز کردہ تمام 35 ترمیم مسترد کر دیں۔اسکے بعد اپوزیشن نے حکومت کا پیش کردہ ایف اے ٹی ایف بل بھی قبول کرنے سے انکار کردیا اور اجلاس کا بائیکاٹ کرتے ہوئے یہ اعلان کیا کہ اب فیصلہ اپوزیشن جماعتوں کی آل پارٹیز کانفرنس میں ہی ہوگا۔
ذرائع کے مطابق دونوں فریقین کے درمیان بات چیت کا سلسلہ اس وقت ٹوٹا جب وزیر خارجہ اور وزیر قانون فروغ نسیم پر مشتمل حکومت ٹیم نے پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس سے قبل غیر رسمی بات چیت کرتے ہوئے اپوزیشن رہنماؤں کو واضح الفاظ میں بتادیا کہ قومی احتساب آرڈیننس میں ترامیم کے لیے اپوزیشن کی تجویز قابل قبول نہیں۔ اس وقت اپوزیشن اراکین نے بھی حکومتی ٹیم کو بتایا کہ وہ ایف اے ٹی ایف قانون سازی کی حمایت کرنے کو تیار ہیں لیکن اس کے لیے پیش کردہ بلز موجودہ حالت میں ان کے لیے قابلِ قبول نہیں۔ اپوزیشن راہنماؤں کا یہ موقف ہے کہ ایف اے ٹی ایف کا مجوزہ قانون مکمل طور پر غیر انسانی ہے اور اس میں بنیادی حقوق سلب کرنے کی بات ہے کی گئی ہے جو کہ پاکستان کے آئین کی بھی خلاف ورزی ہوگی لہذا اپوزیشن اس کی منظوری کا حصہ نہیں بنے گی۔
اپوزیشن نے الزام عائد کیا کہ حکومت ایف ای ٹی ایف قانون کے ذریعے منفی مقاصد حاصل کرنا چاہتی اور اس قانون میں کچھ ایسی دفعات بھی شامل کر دی ہیں جن کا ایف اے ٹی ایف کی شرائط سے دور کا بھی کوئی واسطہ نہیں۔ اس ضمن میں وزیر قانون فروغ نسیم نے بتایا کہ پاکستان کے گرے لسٹ سے اخراج کے لیے 6 اگست تک ایف اے ٹی ایف کے قانون کو منظور کرنا یو گا اور اس حوالے سے اپوزیشن کا حکومت کو بلیک میل کرنا افسوسناک ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ حکومت ڈیڈ لائن ختم ہونے سے قبل خود اپنے طور پر اس قانون کو منظوری کے لیے پیش کردے گی۔ دوسری طرف حکومتی ذرائع نے یہ انکشاف بھی کیا کہ ایف اے ٹی ایف کا قانون بھاری اکثریت سے پارلیمنٹ سے منظور ہو جائے گا کیونکہ حکومت نے اپوزیشن کی جانب سے تعاون سے انکار کے بعد یہ کام فوجی اسٹیبلشمنٹ کے ذمہ لگا دیا ہے۔ حکومتی ذرائع نے کہا کہ آرمی چیف کے عہدے کی معیاد میں توسیع کا مسئلہ ہو یا کلبھوشن یادیو کا مسئلہ، حکومت کو جہاں بھی اپوزیشن کی جانب سے مزاحمت آتی ہے، فوجی اسٹیبلشمنٹ آگے بڑھ کر اپوزیشن کو منا لیتی ہے اور انشاءاللہ ایف اے ٹی ایف کے معاملے پر بھی ایسا ہی ہوگا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button