حکومت کا خالد جاوید خان کو نیا اٹارنی جنرل مقرر کرنے کا فیصلہ

وفاق حکومت نے خالد جاوید خان کو انور منصور خان کی جگہ اٹارنی جنرل تعینات کرنے کا فیصلہ ہے.. خالد جاوید خان اس سے قبل 2018 میں بھی اٹارنی جنرل آف پاکستان کے عہدے پر تعینات رہ چکے ہیں۔
خیال رہے کہ حکومت نے اٹارنی جنرل آف پاکستان انور منصور خان سے استعفیٰ لے لیا ہے جس کے بعد وہ اپنے عہدے سے دستبردار ہوگئے ہیں۔
ذرائع کے مطابق اٹارنی جنرل انور منصور خان کے استعفے کے بعد حکومت نےاٹارنی جنرل کےعہدےکیلئےسینئر قانون دان مخدوم علی خان اورنعیم بخاری کو پیشکش کی لیکن انھوں نے معذرت کرلی تھی جبکہ سابق وزیرقانون بیرسٹر علی ظفرنےبھی پیشکش قبول کرنے سے انکار کر دیا تھا. جس کے بعد سابق اٹارنی جنرل خالد جاوید خان کو اٹارنی جنرل تعینات کرنے کا فیصلہ کیا گیا.
کراچی سے تعلق رکھنے والے خالد جاوید کا شمار ملک کے نامور وکلاء میں ہوتا ہے۔ ۔ اس سے قابل وہ اٹارنی جنرل کے ایڈوائز بھی رہ چکے ہیں۔۔۔سندھ کے ایڈووکیٹ جنرل کے عہدے پر بھی تعینات رہے ہیں. خالد جاوید خان 2018 میں بھی اٹارنی جنرل رہ چکے ہیں۔ بیرسٹر خالد جاوید خان پیپلز پارٹی کے سابق رہنما این ڈی خان کے صاحبزادے ہیں۔ 2 عشروں سے زائد وکالت کا تجربہ رکھنے والے نئے اٹارنی جنرل سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو کے قانونی مشیر بھی رہ چکے ہیں۔ بیرسٹر خالد جاوید خان نے لندن سے ایل ایل بی کیا اور بی سی ایل کی ڈگری اوکسفورڈ یونیورسٹی سے حاصل کی۔ ہاورڈ یونیورسٹی سے ایل ایل ایم کرنے کے بعد لنکن ان سے بار ایٹ لا کیا۔
بیرسٹر خالد جاوید خان نے 1991 میں ہائی کورٹ سے وکالت شروع کی اور 2004 میں سپریم کورٹ کے وکیل بن گئے۔ خالد جاوید نے 2013 میں ایڈووکیٹ جنرل سندھ کی خدمات بھی انجام دیں۔ بیرسٹر خالد خان نے پی سی او کے معاملے پر سابق صدر پرویز مشرف کیخلاف طویل جنگ لڑی ہے۔.
یاد رہے کہ حکومت نے اٹارنی جنرل آف پاکستان انور منصور خان سے استعفیٰ لے لیا ہے جس کے بعد وہ اپنے عہدے سے دستبردار ہوگئے ہیں۔ اٹارنی جنرل انور منصور خان نے اپنا استعفیٰ منظوری کے لیے صدر مملکت کو بھجوا دیا ہے جس میں درخواست کی گئی ہے کہ استعفیٰ فوری طور پر منظور کیا جائے۔
