حکومت کا رویہ افسوسناک ہے

سینیٹ میں اظہار خیال کرتے ہوئے پاکستان مسلم لیگ ن کے سینئر رہنما راجا ظفر الحق کا کہنا تھا کہ ان سنگین حالات میں حکومت کو بذاتِ خود پارلیمان کا اجلاس بلانا چاہیے تھا لیکن ایسا نہ ہوسکا تو اپوزیشن کو مجبوراً ریکوزیشن کرنا پڑا۔
ان کا کہنا تھا کہ آئینی اداروں بالخصوص پارلیمان سے انہیں مواقعوں کےلیے آراء اور مشورے لیے جاتے ہیں انہیں ان کا کردار دیا جاتا ہے جس پر وہ حکومت کو اپنی تجاویز فراہم کرتے ہیں اس لحاظ سے اس وقت کوشش یہ کرنی چاہیے تھی کہ حکومت ایسا رویہ اختیار کرتی کہ قومی یکجہتی کی فضا پیدا ہوتی۔ ان کا کہنا تھا کہ افسوس کی بات یہ ہے کہ ایسا ہو نہ سکا بلکہ اس کے برعکس پالیسی پر عمل کیا جارہا ہے۔ حکومت بجائے یہ کہ اپوزیشن کے ساتھ مل بیٹھ کر اس سارے مسئلے کا حل تلاش کرتی انہوں نے اپوزیشن کے ساتھ رابطہ رکھنا تک گوارا نہیں کیا جو بہت منفی سوچ ہے۔
راجا ظفر الحق نے کہا کہ حکومت کی جانب سے یکساں رویہ اختیار نہیں کیا گیا بلکہ تقسیم کی آوازیں سنائی دی گئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کابینہ کے 2، 3 اراکین کو یہ ذمہ داری دے دی جاتی ہے کہ وہ اپوزیشن کے خلاف وہی رویہ اختیار کریں جو عام طور پر انتخابات کے موقع پر سیاسی طور پر کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ابتدا سے ہی حکومت کا رویہ منفی، غیر پیداواری اور تفرقہ انگیز رہا ہے جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے اور یہ سلسلہ مسلسل جاری ہے اور ان کو شاباش دی جاتی ہے جو اپوزیشن کے خلاف یہی سب کرتے رہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس وباء کے دوران کچھ ایسا فلسفہ پروان چڑھایا جارہا ہے کہ اپوزیشن کے خلاف نفرت پروان چڑھائی جائے خواہ و جنرل اپوزیشن یا وہ ایک صوبہ جہاں ان کی حکومت نہیں وہاں ان کے خلاف پروپیگنڈہ کیا جائے۔
راجہ ظفر الحق کا کہنا تھا کہ ایسے الزامات لگائے گئے گویا سندھ کی حکومت ملک دشمن ہے اور صرف مرکزی حکومت پاکستان اور اس کے عوام کا خیال رکھ رہی ہے، یہ رویہ قابل مذمت ایسا نہیں ہونا چاہیئے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ حکومت نے پہلے لاک ڈاؤن کے حوالے سے کنفیوژن پیدا کی اور پھر لاک ڈاؤن بھی ہوا حالانکہ ماہرین صحت نے پریس کانفرنس کر کے کہا کہ اس طرح سے وائرس مزید پھیلے گا۔
انہوں نے کہا کہ صوبہ سندھ کے خلاف منفی تاثر دیا جارہا ہے اور ان کو کام کرنے سے روکا جارہا ہے یہ افسوسناک ہے ایسا نہیں ہونا چاہیئے۔
