حکومت کا سولر سسٹم لگانے والے صارفین کو رگڑا دینے کا فیصلہ

سولر سسٹم کے حوالے سے ہر گزرتے دن کے ساتھ بدلتی حکومتی پالیسیوں نے عوام کو پریشانی سے دوچار کر رکھا ہے۔ ماضی میں صارفین کو گھروں میں سولر سسٹم کی تنصیب کی ترغیب دینے کےلیے ے مختلف ریلیف پیکجز کا اعلان کرنے والی حکومت نے سولر پینلز صارفین کےلیے نیٹ میٹرنگ ختم کر کے گراس میٹرنگ کی پالیسی متعارف کرانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ جس کے بعد حکومت صارفین سے آدھی قیمت پر بجلی خرید کر وہی بجلی ڈبل قیمت پر سولر سسٹم لگانے والے صارفین کو مہیا کرے گی۔
خیال رہے کہ پاکستان میں بڑھتی ہوئی مہنگائی اور بجلی کے زائد بلوں سے پریشان عوام نے لاکھوں روپے خرچ کرکہ اپنے گھروں میں سولر پینل سسٹم لگایا تاکہ بجلی کے زائد بلوں سے جان چھڑا سکیں، ایسے افراد سوچتے رہے کہ ایک ہی مرتبہ سولر سسٹم لگا کر لاکھوں روپے کی ادائیگی کے بعد اب وہ مفت اور زیادہ بجلی کا استعمال کرسکیں گے اور بجلی کا بل بھی نہیں آئے گا۔ تاہم اب ان کے یہ خواب توٹتے دکھائی دیتے ہیں کیوں کہ نیٹ میٹنگ کی بجائے گراس میٹرنگ پالیسی کے نفاذ سے حکومت صارفین سے آدھی قیمت پر بجلی خریدے گی جب کہ وہی بجلی صارفین کو ڈبل قیمت پر مہیا کی جائے گی۔
واضح رہے کہ سولر پینل سسٹم کے تحت بجلی کے میٹر کے ساتھ ایک گرین میٹر نصب کر دیا جاتا ہے، اور نیٹ میٹرنگ کے ذریعے جو بجلی کے یونٹ سولر پینل بناتا ہے وہی استعمال کیے جاتے ہیں جب کہ اضافی یونٹ واپڈا کو واپس کردیے جاتے ہیں۔ نیٹ میٹرنگ کی بات کی جائے تو یہ پالیسی سنہ 2017 میں متعارف کرائی گئی تھی۔ اس پالیسی کے تحت ایسے صارفین جو سولر سسٹم سے بجلی خود پیدا کرتے ہیں، وہ اپنی ضرورت سے زیادہ بجلی کو متعلقہ بجلی سپلائی کمپنی کو واپس بھیج کر اس کی قیمت وصول کر سکتے ہیں۔
نیٹ میٹرنگ کےلیے صارف کے پاس بائی ڈائریکشنل یعنی دو طرفہ میٹر ہونا لازم ہوتا ہے۔ سولر سسٹم کی تنصیب کے بعد صارف نیپرا کے ذیلی ادارے ’الٹرنیٹو انرجی ڈویلپمنٹ بورڈ‘ کو نیٹ میٹرنگ کی درخواست دیتے ہیں۔ نیٹ میٹرنگ کی تنصیب کے بعد نیپرا کی جانب سے صارف کو ایک لائسنس کا اجرا کیا جاتا ہے جس کے بعد صارف فاضل بجلی متعلقہ بجلی کمپنی کو بیچتے ہیں۔
اس سسٹم کے ذریعے سولر صارفین خود بنائی گئی بجلی استعمال تو کرتے ہی ہیں اور بجلی کے اضافی یونٹس بیچ کر منافع بھی کما لیتے ہیں، جب کہ ان کا بل منفی آتا ہے یعنی صارفین کو بل ادا نہیں کرنا پڑتا۔
اس کے برعکس گراس میٹرنگ تھوڑا مختلف عمل ہے جس کے تحت سولر صارفین کبھی بھی خود کی پیدا کی ہوئی بجلی کا استعمال نہیں کرتے۔سولر پینلز کے ذریعے پیدا ہونے والی ساری بجلی نیشنل گرڈ میں برآمد کی جاتی ہے جس کے بعد صارف کو وہی بجلی گرڈ سے واپس درآمد کرنی پڑتی ہے۔
گراس میٹرنگ کے لیے بھی دو مختلف الیکٹرک میٹر استعمال کیے جاتے ہیں۔ ایک میٹر درآمد شدہ بجلی یعنی سولر سسٹم سے پیدا کردہ بجلی جبکہ دوسرا برآمد شدہ بجلی کا حساب لگاتا ہے۔نیٹ میٹرنگ میں جیسے صارفین بغیر بجلی کا بل ادا کیے اضافی یونٹس پر پیسہ کماتے ہیں، گراس میٹرنگ میں ویسا ممکن نہیں ہوتا۔صارف اپنے سولر سے پیدا کی ہوئی بجلی سستے داموں حکومت کو بیچتا ہے اور اس سے مہنگے حکومتی ریٹ پر وصول کرتا ہے اور اس پر بجلی کا بل بھی ادا کرتا ہے۔ اس ٹیرف کے فرق کی وجہ سے بجلی کے بل میں کمی تو واقع ہوتی ہے لیکن نیٹ میٹرنگ کی طرح مفت بجلی کا استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ نیٹ میٹرنگ میں صارف اپنی بنائی ہوئی بجلی استعمال کرتا ہے اور بغیر بل ادا کیے اضافی بجلی بیچ کر پیسے کماتا ہے، جبکہ گراس میٹرنگ پر سولر صارف اپنی بنائی ہوئی بجلی حکومت کو سستے داموں بیچ کر حکومتی یونٹ ریٹ پر بجلی خریدتا ہے اور اس پر بل بھی ادا کرتا ہے یعنی نئی پالیسی نافذ ہونے کے بعد سولر پینلز کے ذریعے پیدا کی جانے والی بجلی تقریباً نصف قیمت پر نیشنل گرڈ کو دی جائے گی، جب کہ صارفین کے استعمال ہونے والے بجلی یونٹ حکومتی ریٹ پر چارج ہوں گے، مطلب کہ حکومت آپ سے آدھی قیمت پر بجلی کا یونٹ خریدے گی اور آپ کو بجلی بلوں میں یونٹ کا مکمل حکومتی ریٹ ادا کرنا ہوگا۔
خیال رہے کہ حکومت کی جانب سے نیٹ میٹرنگ کا سسٹم ختم کرکہ گراس میٹرنگ پالیسی شروع کرنے کا ابھی حتمی فیصلہ تو نہیں ہوا تاہم اس پر غور کیا جا رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق گراس میٹرنگ پالیسی کی حتمی منظوری وفاقی کابینہ اور مشترکہ مفادات کونسل سے لی جائے گی۔
