کروناوباء: دوران ڈیوٹی جاں بحق ہیلتھ ورکرز کے ورثاء کیلئے امدادی پیکج

وفاقی حکومت نے کووڈ19کی صورتحال میں جاں بحق ہیلتھ ورکرز ورثاء کیلئے پیکج کا اعلان کردیا ہے، معاون خصوصی صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا کہ کرونا مریضوں کی دیکھ بھال کے دوران جاں بحق ہیلتھ ورکر کو شہید کا درجہ دیا جائے گا،جاں بحق ہیلتھ ورکرز کو شہید کے برابر امدادی پیکج، اہلخانہ کو 30 لاکھ سے ایک کروڑ تک امدادی فنڈ، اور 100فیصد پنشن سمیت سرکاری گھر بھی برقرار رہے گا۔
میڈیا بریفنگ کو بریفنگ دیتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ وفاقی کابینہ میں ہیلتھ ورکز کی فلاح وبہبود کا جائزہ لیا گیا۔ کورونا وباء کی صورتحال میں فرنٹ لائن ورکرز کے تحفظ اور فلاح کیلئے حکومت فکرمند ہے۔ انہوں نے کہا کہ کورونا مریضوں کی دیکھ بھال کے دوران جاں بحق ہیلتھ ورکر کو شہید کا درجہ دیا جائے گا۔جاں بحق ہیلتھ ورکرز کو شہید کے برابر امدادی پیکج دیا جائے گا۔شہید کے اہلخانہ کو 30 لاکھ سے ایک کروڑ تک امدادی فنڈ دیا جائے گا۔جاں بحق ہیلتھ ورکر کیلئے 100فیصد پنشن اور سرکاری گھر بھی برقرار رہے گا۔ شہداء پیکج اسلام آباد، گلگت بلتستان، اور آزاد کشمیرکے ہیلتھ ورکرز کیلئے ہے.
معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا کا کہنا تھا کہ کورونا وائرس کے خلاف فرنٹ لائن پر موجود طبی عملے کے لیے حکومت قومی منصوبے پر کام کر رہی ہے جس کا چند روز میں اعلان کردیا جائے گا۔اسلام آباد میں کورونا وائرس سے متعلق میڈیا بریفنگ کے دوران ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا کہ ‘صوبائی ہیلتھ وزرا اور پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن سے بات چیت کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ طبی عملے کی حفاظت کے لیے ہم مل کر کام کریں گے اور ان سے اظہار یکجہتی کے لیے بھرپور مہم چلائی جائے گی۔’انہوں نے کہا کہ ‘ڈاکٹرز، نرسز اور پیرامیڈکس جو ذاتی حفاظت کا سامان استعمال کرتے ہیں اس حوالے سے ہمیں قومی گائیڈلائنز بنانی ہیں، یہ صوبائی اور وفاقی سطح پر پہلے سے موجود ہیں لیکن یہ طے کیا گیا ہے کہ ایک گائیڈلائن بنائی جائے جس سے ملک میں ہر سطح پر یکساں طور پر رہنمائی لی جاسکے۔’ان کا کہنا تھا کہ ‘اس حفاظتی سامان کی دستیابی بھی ضروری ہے، اس حوالے سے این ڈی ایم اے نے نظام وضع کیا ہوا ہے کہ تمام ہسپتالوں میں براہ راست ذاتی حفاظت کا سامان فراہم کیا جارہا ہے، اس نظام سے سامان کی دستیابی کے مسائل کافی حد تک ختم ہوگئے ہیں لیکن سامان کے صحیح طریقے سے استعمال کا مسئلہ اب بھی باقی ہے۔’معاون خصوصی نے کہا کہ ‘حکومت کی ترجیحات میں اپنے فرنٹ لائن طبی عملے کے لیے بہت زیادہ اہمیت ہے اور وہ سب کیا جائے گا جو ایک حکومت کو کرنا چاہیے۔’
کرونا کے تازہ اعداد و شمار بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ‘پاکستان میں متاثرہ افراد کی تعداد 14 ہزار 80 ہے، چوبیس گھنٹے میں 751 نئے کیسز سامنے آئے جن میں سب سے زیادہ سندھ میں 341، پنجاب میں 194، خیبر پختونخوا میں 120، بلوچستان میں 72، اسلام آباد میں 16، گلگت بلتستان میں 2 اور آزاد کشمیر میں 6 کیسز شامل ہیں۔’ان کا کہنا تھا کہ ‘پاکستان میں اب تک کورونا کے ایک لاکھ 57 ہزار سے زائد ٹیسٹ ہوچکے ہیں، 3 ہزار سے زائد افراد صحتیاب بھی ہوچکے ہیں، گزشتہ چوبیس گھنٹے میں 20 اموات ہوئیں، گزشتہ دو ہفتوں میں کورونا سے جو اموات ہو رہی ہیں ان کے نمبرز مستحکم ہیں۔’
ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا کہ ‘اس وقت پہلے سے زیادہ ضرورت اس بات کی ہے کہ احتیاطی تدابیر پر عمل کیا جائے، رمضان میں افطاری سے قبل بازاروں میں رش دیکھا جارہا ہے، کئی مساجد ایس او پیز پر عمل نہیں کر رہیں۔’انہوں نے کہا کہ ‘یہ ہمارے ہاتھ میں ہے، اگر ہم احتیاطی تدابیر اپنائیں گے تو بیماری کم پھیلے گی اور بندشیں جلد ختم ہوجائیں گی، لیکن اگر سلسلہ ایسے ہی چلتا رہا تو آنے والے دنوں میں ہمیں لاک ڈاؤن بڑھانا پڑے گا، جب عوام اپنا خیال رکھیں گے تو بلاواسطہ وہ دوسروں کی بھی حفاظت کر رہے ہوں گے۔
واضح رہے کہ پاکستان میں 26 فروری کو کورونا وائرس کا پہلا کیس کراچی میں رپورٹ ہوا تھا جبکہ 18 مارچ کو ملک میں وائرس سے پہلی موت کی تصدیق خیبرپختونخوا میں ہوئی تھی۔اگر وائرس کے کیسز کے پھیلاؤ پر نظر ڈالیں تو 25 مارچ تک ملک میں ایک ہزار کیسز تھے تاہم اس کے بعد سے اب تک تقریباً 13 ہزار نئے کیسز رپورٹ ہوچکے ہیں۔اسی طرح مارچ کے آخر تک پاکستان میں اموات کی تعداد 26 تھی جو تاہم اپریل میں ابھی تک 265 سے زائد اموات سامنے آچکی ہیں۔
