حکومت کا مزید ایک برس اسمبلیوں کی مدت بڑھانے پر غور

عمران خان کی جانب سے فوری الیکشن کے مطالبے کو رد کرنے کے بعد اب وفاقی حکومت نے موجودہ قومی اور صوبائی اسمبلیوں کی معیاد بڑھانے کی تجویز پر مشاورت شروع کر دی ہے۔ باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومتی اتحادی پارٹیاں اس تجویز پر سنجیدگی سے غور کر رہی ہیں کہ آئین کے اندر رہتے ہوئے موجودہ اسمبلیوں کی مدت میں کم از کم ایک برس کی توسیع کر دی جائے۔ واضح رہے موجودہ اسمبلیاں اگست 2023 میں اپنی مدت پوری کریں گی لیکن اگر انکی مدت ایک برس مزید بڑھا دی جاتی ہے تو پھر یہی اسمبلیاں اگست 2024 تک کام کرتی رہیں گی۔
یاد رہے کہ ن لیگ اور جے یو آئی کی قیادت کی جانب سے باقاعدہ قومی اور صوبائی اسمبلیوں کی مدت بڑھانے کا عندیہ دیا جا رہا ہے، چند روز پہلے نون لیگ کے رہنما ایاز صادق نے کہا تھا کہ موجودہ اسمبلیوں کی معیاد آئین کی روشنی میں بڑھائی جا سکتی ہے۔ اسکے بعد جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن بھی کہہ چکے ہیں کہ ’’ملک کو ٹھیک کرنے کے لیے وقت درکار ہے لہٰذا ہم الیکشن مزید ایک برس آگے بڑھانے کا سوچ رہے ہیں‘‘۔ ذرائع نے بتایا کہ حکومت اور اس کی اتحادی پارٹیوں کے مابین اسمبلیوں کی معیاد میں توسیع کی تجویز پر تین ماہ پہلے غوروخوص کا آغاز ہوا تھا۔
درحقیقت اتحادی پارٹیوں کے بیشتر رہنمائوں کا خیال ہے کہ سیلاب کی تباہ کاریوں کے باعث کم از کم ڈیڑھ برس تک جنرل الیکشن کروانا ممکن نہیں۔ سیلاب سے متاثرہ ملک کے ایک تہائی حصے کے لوگ دوسروں شہروں میں نقل مکانی کر چکے ہیں اور وہ اپنے آبائی علاقوں میں واپسی کے بعد ہی الیکشن میں ووٹ ڈال سکیں گے۔ لہٰذا سیلاب متاثرین کی بحالی اور ان کی اپنے آبائی علاقوں میں واپسی سے پہلے الیکشن کرانے کا مطلب یہ ہو گا کہ ملک کے ایک تہائی حصے کے لوگوں کو حق رائے دہی سے محروم کر دیا جائے۔ حکومتی ذرائع نے بتایا کہ سیلاب کے علاوہ اسمبلیوں کی مدت بڑھانے کا دوسرا بڑا جواز معیشت کی بحالی کا ہے۔اتحادی حکومت چاہتی ہے کہ الیکشن سے پہلے ملک کی معیشت ہر صورت بہتر بنائی جائے۔ تاہم اس وقت ملک کی معیشت کو جس نوعیت کے چیلنجز درپیش ہیں۔ اس کے لیے اتحادی حکومت کو کم از کم ڈیڑھ سے دو برس درکار ہیں۔ جبکہ موجود اسمبلیوں کی مدت تقریباً نو ماہ بعد پوری ہو رہی ہے۔ اسی تناظر میں اتحادی پارٹیوں کی قیادت میں اسمبلیوں کی مدت بڑھانے کی سوچ پیدا ہوئی۔
دوسری جانب حکومتی ذرائع نے تسلیم کیا کہ اسمبلیوں کی معیاد بڑھانے کی تجویز ایک طرح سے سیاسی بھی ہے۔ حکومتی اتحاد میں شامل تمام پارٹیوں کو یہ ادراک ہے کہ عوام کو ریلیف دیئے بغیر الیکشن میں جانے کا نتیجہ شکست کی صورت میں نکل سکتا ہے۔ اسی لیے وزیر خزانہ اسحاق ڈار کو نواز شریف کی جانب سے ہدایات ملی ہیں کہ جس قدر ممکن ہو معیشت بہتر بنا کر عوامی ریلیف کے منصوبے شروع کیے جائیں جن میں پیٹرولیم اور بجلی کی قیمتوں میں کمی کا ٹاسک سرفہرست ہے۔ اس حوالے سے اتحادی پارٹیوں کا بھی وزیر خزانہ پر شدید دبائو ہے۔ اتحادی پارٹیوں کا اتفاق ہے کہ ملکی معیشت کی بہتری اور پھر عوام کو ریلیف دینے کے مجوزہ پلان پر عمل کے لیے کم از کم ایک سال کا عرصہ درکار ہے۔ اگر اتحادی حکومت کو مزید ایک برس مل جائے تو متذکرہ اہداف حاصل کیے جا سکتے ہیں۔
ذرائع نے بتایا کہ اسمبلیوں کی مدت بڑھانے سے متعلق مشاورت کا مرحلہ ابھی حتمی فیصلے میں تبدیل نہیں ہوا ہے۔ تاہم اتحادی پارٹیوں کی قیادت کے مابین اس ایشو پر ہونے والی مشاورت میں تیزی آئی ہے۔ جبکہ قانونی و آئینی ماہرین سے بھی رائے لی جا رہی ہے۔ذرائع کے بقول مشاورت مزید آگے بڑھتی ہے تو پھر اتفاق رائے کے لیے اتحادیوں کا باقاعدہ اجلاس بلایا جائے گا۔ اس سلسلے میں اب تک ہونے والی بات چیت میں نواز شریف، شہباز شریف، آصف زرداری اور مولانا فضل الرحمن، سب آن بورڈ ہیں۔
اس حوالے سے جمعیت علمائے اسلام کے مرکزی ترجمان اسلم غوری سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے تصدیق کی کہ موجودہ اسمبلیوں کی مدت بڑھانے کا معاملہ زیر غور ہے اور اتحادی پارٹیوں میں اس پر مشاورت ہو رہی ہے۔ اتحادی پارٹیوں کا ارادہ ہے کہ اسمبلیوں کی مدت میں کم از کم ایک برس کا اضافہ کر دیا جائے۔
پی ڈی ایم ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ پہلے عمران خان کے ناکام لانگ مارچ اور بعد میں آزاد کشمیر میں بلدیاتی الیکشن کے نتائج نے اتحادی حکومت کو خاصا حوصلہ دیا ہے۔ اتحاد میں شامل بیشتر پارٹیاں اب یہ سمجھتی ہیں کہ ہر گزرتے دن کے ساتھ عمران خان کی مقبولیت کا گراف بتدریج نیچے آرہا ہے۔ اگر اتحادی حکومت عوام کو تھوڑا بہت ریلیف بھی دینے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو اگلے الیکشن میں پی ٹی آئی کو شکست دینا مشکل نہیں ہوگا۔
اہم ترین حکومتی شخصیات کے بقول صوبائی اسمبلیوں کی تحلیل سے متعلق پی ٹی آئی میں پائی جانے والی کشمکش پر بھی اتحادی حکومت خوش ہے۔ اور اس کے خیال میں اس کا سیاسی فائدہ اتحادیوں کو پہنچ رہا ہے۔ اگرچہ عمران خان تاحال پنجاب اور خیبر پختونخوا اسمبلیوں کی تحلیل کی دھمکی پر عمل نہیں کر سکے تاہم اگر وہ یہ قدم اٹھا بھی لیتے ہیں تو ان صوبوں میں نیا الیکشن آگے بڑھانے کے لیے حکومت کے پاس آئینی گنجائش موجود ہے۔ اس بارے میں الیکشن کمیشن کے سابق سیکریٹری کنور دلشاد احمد کا کہنا ہے کہ صوبائی اسمبلیاں تحلیل کرنے کے باوجود آئین کی شق 232 کے تحت معاشی ایمرجنسی لگا کر نئے انتخابات تین ماہ تک مؤخر کیے جا سکتے ہیں۔
