حکومت کا نیب آرڈی نینس این آر او کیوں قرار دیا گیا؟

بے لاگ احتساب کے دعویدار وزیراعظم عمران خان کی حکموت کی جانب سے جاری کردہ نیب ترمیمی آردیننس کو این آر او قررا دیا جا رہا ہے کیونکہ اس سے نہ صرف متنازعہ چیئرمین نیب کو توسیع دی گئی ہے بلکہ بااثر شخصیات اور اداروں کو بھی نیب سے بچانے کا سامان کیا گیا ہے۔ اسی لیے اپوزیشن نے اس آرڈیننس کو یکسر مسترد کرتے عمران کے ساتھیوں کے لیے این آر او قرار دیا ہے اور اسکے خلاف اس ف سپریم کورٹ جانے کا اعلان کیا ہے۔
یاد رہے کہ صدارتی آرڈیننس فیکٹری سے ڈمی صدر عارف علوی کے ہاتھوں نیب ترمیمی آرڈیننس 2021 کی صورت میں ایک نیا شاہکار آرڈیننس مارکیٹ میں لانچ ہو چکا ہے۔ اس آرڈیننس کو اگر پارلیمانی تاریخ کے چند مکروہ ترین اور متنازعہ ترین آرڈیننسز میں شمار کیا جائے تو بے جا نہ ہو گا، بلاشبہ یہ صدارتی آرڈی ننس بدنیتی پر مبنی ہے، اور کپتان اینڈ کمپنی کے ذاتی مفادات کو تحفظ دینے کے لیے نافذ کیا گیا ہے۔
قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس آرڈیننس کے ذریعے آئین کی صریحاً خلاف ورزی کی گئی ہے اور چیئرمین نیب جن کی مدت عہدہ ناقابل توسیع ہے اسے توسیع دے کر آئین سے انحراف کے جرم کا ارتکاب کیا گیا۔ خیال رہے کہ نیب آرڈیننس اپنے قیام سے ہی متنازعہ رہا ہے، مشرف نے اسے غیر آئینی لیگل فریم ورک آرڈر کے تحت ایکٹ آف پارلیمنٹ کے ذریعے نافذ کیا تھا۔ جب 2008 کے انتخابات کے بعد پارلیمینٹ کے ذریعے آئین میں کی گئی ترامیم کو ختم کر کے 1973 کے آئین کو اس کی اصل روح کے مطابق 18 ویں آئینی ترمیم سے بحال کیا گیا تو پارلیمان کے پاس ایک موقع تھا کہ وہ آئین پہ لگے نیب کے سیاہ دھبے کو بھی مٹا ڈالے۔ مگر مسلم لیگ نون نے ایسا ہونے نہ دیا۔
وزیراعظم عمران خان خود جب اپوزیشن میں تھے تو نیب میں من پسند ترامیم کو ذاتی مفادات کا تحفظ قرار دیتے تھے۔ وہ چیئرمین نیب کی وزیراعظم کی جانب سے تقرری پہ بھی سخت تنقید کرتے اور اسے احتساب کی توہین قرار دیا کرتے تھے، مگر آج ماضی کے اپوزیشن لیڈر عمران خان وزیراعظم بن کر اپنے مفادات کو تحفظ دینے، اور کرپٹ ترین مافیاز کو بچانے کے لیے ایسا آرڈیننس لائے ہیں جس کے بعد ان کا کرپشن کے خاتمے کا بیانیہ ہی دفن ہو گیا ہے۔ ناقدین کا کہنا یے کہ نیب آئین پر ایک سیاہ دھبہ یے جو کہ عدالت عظمیٰ کے ہاتھوں بھی چارج شیٹ ہو چکا ہے۔ اسلامی نظریاتی کونسل نے اپنی سفارشات میں نیب قانون کو قرآن و سنت میں وضع کیے گئے عدل و انصاف کے تقاضوں کے منافی اور آئین پاکستان سے متصادم قرار دیتے ہوئے اس کی منسوخی کی سفارش کی تھی۔ سپریم کورٹ بارہا چیئرمین نیب اور نیب کے ادارے کی کارکردگی اور سیاستدانوں کے ساتھ ناروا رویوں، احتسابی عمل کی شفافیت پر نہ صرف سوالات اٹھا چکی ہے بلکہ چیئرمین نیب سمیت نیب افسران پہ سخت برہمی کا بھی اظہار کرتی رہی ہے۔ دوسری جانب اپوزیشن، کاروباری طبقہ، بیوروکریسی اور سرکاری ملازمین نیب کے مظالم اور اسکی زیادتیوں کے خلاف احتجاج بھی کرتے رہے ہیں۔
نیب کے سابق پراسیکیوٹر جنرل اور ماہر قانون عرفان قادر کے خیال میں نیب آرڈیننس ایک بھونڈا قانون ہے، جس سے تحریک انصاف حکومت کے ارادے کھل کر سامنے آ گئے ہیں۔ عرفان قادر نے کہا کہ نئے نیب چیئرمین کی تعیناتی کا عمل ابھی شروع ہی نہیں ہوا تھا اور حکومت نے قانون میں ترامیم کر دیں، جس سے ان کے عزائم کھل کر سامنے آ گئے ہیں۔ انکا کہنا تھا کہ قائد حزب اختلاف سے نئے چیئرمین کی تقرری پر مشاورت نہ کرنے کی حکومتی منطق بالکل ہی نرالی ہے۔
نیب کے سابق سپیشل پراسیکیوٹر عمران شفیق کے مطابق نیب ترامیم واضح طور پر شخصی مقاصد کے لیے لائی گئی ہیں، جن کے باعث اس اقدام سے آرڈیننس کی نام نہاد نیک نیتی پر سنگین سوالات اٹھتے ہیں۔عمران نے کہا کہ عین ممکن ہے کہ حکومت نئے آرڈیننس کے تحت موجودہ چیئرمین کو توسیع دلوا دے اور ترامیم کو ختم ہونے دے۔ ایسے میں چیئرمین بھی ان کی مرضی کا رہے گا اور پرانا قانون بھی واپس آ جائے گا۔ نیب کے سابق پراسیکیوٹر جنرل راجہ عامر عباس کہتے ہیں کہ احتساب کے قانون میں پہلے سے ’مقدس گائیں‘ موجود تھیں، جن کی تعداد میں اس آرڈیننس کے ذریعے اضافہ کر دیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال کی مدت ملازمت آٹھ اکتوبر کو ختم ہوئی، جبکہ نئے آرڈیننس کے تحت ان کی ملازمت میں توسیع کو ممکن بنانے کے علاوہ حکومت اور حزب اختلاف میں ان کے پیش رو سے متعلق مشاورت کے بعد اتفاق نہ ہونے تک وہ کام جاری رکھیں گے۔یاد رہے کہ صدارتی آرڈیننس کی عمر ایک سو 20 دن ہوتی ہے، جبکہ اسے دوبارہ ایک مرتبہ لاگو کیا جا سکتا ہے۔تاہم اس کے بعد اسے پارلیمان کے سامنے منظوری کے لیے پیش کرنا پڑتا ہے، بصورت دیگر ایسا قانون خود ہی ختم ہو جاتا ہے۔ پارلیمان سے اس آرڈیننس کی منظوری نہ ہونے کی صورت میں پہلا والا قانون واپس بحال ہو جائے گا، لیکن اس وقت تک حکومت اپنا من پسند چیئرمین اور احتساب جج لگا چکی ہو گی۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان جو نوے دن میں ملک سے کرپشن کے مکمل خاتمے کے بلند و بانگ دعوے کا کرتے تھے اور ان کی ساری سیاسی زندگی کا نصب العین ہی کرپشن کا خاتمہ رہا ہے، اس وقت پاکستان کی سیاسی تاریخ کے سب سے زیادہ کرپٹ ترین اور کرپشن کے سہولت کار وزیراعظم کے روپ میں سامنے آئے ہیں، ملکی سیاسی تاریخ کے جانے مانے کرپٹ، نوسر بازوں کے پورے کے پورے گروہ ان کا گھیراؤ کیے ہوئے ہیں اور وہ ان کے ہاتھوں کی عملی طور پر کٹھ پتلی بن کر رہ گئے ہیں۔ صدارتی آرڈیننس فیکٹری سے نکلے کرپشن کو تحفظ دینے والے اس شاہکار صدارتی قانون نے سپریم کورٹ کی جانب سے خان صاحب کے صادق و امین ہونے کے سرٹیفیکیٹ کو جھوٹا اور جعلی بنا دیا ہے۔
