حکومت کا چھوٹے تاجروں کے بجلی کے تین ماہ کے بل ادا کرنے کا اعلان

وفاقی حکومت نے کرونا وائرس سے متاثر ہونے والے چھوٹے تاجروں کے لیے وزیراعظم چھوٹا کاروبار امدادی پیکج کا اعلان کردیا ہے جس کے تحت ان کے 3 ماہ کا بجلی کا بل حکومت ادا کرے گی جبکہ ’بیروزگار ہونیوالوں کو فی کس 12 ہزارروپے بھی دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے.
اقتصادی رابطہ کمیٹی نے ملازمتوں اور کاروبار سے متعلق دو پیکج منظور کرلیے۔اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر برائے صنعت و پیداوار حماد اظہر نے کہا کہ صعنت ،کاروبار اور ملازمتوں سے متعلق دوپیکج ای سی سی نے منظورکیے ہیں جو کل وفاقی کابینہ میں پیش کیے جائیں گے، کابینہ سے منظوری کے بعد پیکج کی تفصیلات ویب سائٹ پر ڈال دی جائیں گی۔انہوں نے کہا کہ بے روزگار ہونے والوں کے لیے 75 ارب روپے کا پیکج منظور کیا ہے، ملازمتوں سے بے روزگار ہونے والے خودکو پورٹل پر رجسٹرڈ کرائیں، احساس پروگرام اور وزرات صعنت و پیدوار پورٹل لانچ کرے گی۔
وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ پیکج کی تفصیلات وزرات صعنت و پیدوار اور احساس پروگرام کی ویب سائٹ پر ڈالی جائیں گی، پیکج کے تحت بے روزگار ہونے والوں کو فی کس 12 ہزار روپے دئیے جائیں گے. حماد اظہر نے مزید کہا کہ پاکستان میں 6کروڑ گھرانے ہیں اور ہم ایک کروڑ 70 لاکھ گھرانوں تک امداد پہنچائیں گے۔ جبکہ دوسرے پیکج کے تحت چھوٹےکاروبار والوں کے 3 ماہ کا بل حکومت اداکرے گی اس طرح 80 فی صد صنعتیں بل ادائیگی کے سلسلے میں مستفید ہوں گی۔ چھوٹا کاروبار امدادی پیکج نامی پروگرام سے پورے پاکستان میں 35 لاکھ کاروبار استفادہ کریں گے.وفاقی وزیر نے کہا کہ مذکورہ پیکج کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ ہم چاہتے ہیں کہ چھوٹے کاروبار جب بھی اپنے کاروبار کا بنیادی سلسلہ شروع کریں تو ان کے اگلے 3 ماہ کا بل حکومت پاکستان ادا کرے گی۔اپنی بات جاری رکھتے ہوئے حماد اظہر نے کہا کہ اس پروگرام کو ایسے نافذ العمل لائیں کہ جتنے لوگوں اور کمپنیوں کا 5 کلو واٹ تک کا کمرشل کنیکشن جو پورے پاکستان کے کمرشل کنیکشنز کا 95 فیصد بنتی ہیں اور 70 کلو واٹ صنعتی کنیکشن رکھنے والے جو تمام انڈسٹریل کنیکشنز کا 80 فیصد بنتا ہے وہ اس پالیسی سے مستفید ہوں گے۔ان کا کہنا تھا کہ بجلی کے بل کا تخمینہ گزشتہ برس مئی، جون اور جولائی کے مہینے میں بجلی کے بل کا مجموعی حجم ملا کر اتنی رقم بل میں شامل کردی جائے گی تاکہ بجلی استعمال ہو اور اس کا بل ادا نہ کرنا پڑے۔
وفاقی وزیر صنعت نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا یہ رقم صرف 3 ماہ کے لیے قابل قبول نہیں ہوگی جو 6 ماہ تک بل میں شامل رہے گی تاکہ جب بھی کاروبار کا سلسلہ شروع ہو یہ رقم استعمال میں لائی جاسکے۔اپنی بات جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اعداد و شمار کے مطابق 32 لاکھ کمرشل کنکشنز اور ساڑھے 3 سے 4 لاکھ چھوٹے تاجر اس پیکج سے مستفید ہوسکیں گے۔وزیر صنعت نے کہا کہ اس پیکج کا حجم 50 ارب ہے جو آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں بھی لاگو ہے، اس پیکج سے کراچی کی صنعتیں بھی مستفید ہوسکیں گی۔انہوں نے کہا کہ ہمارا مقصد ہے کہ ان بندشوں کی وجہ سے چھوٹے کاروباروں کی صلاحیت متاثر ہوئی ہے، اس اسکیم کے ذریعے چھوٹی دکانیں، کمرشل کنیکشن کی مارکیٹیں اور چھوٹی صنعتیں مستفید ہوں گی۔اپنی بات جاری رکھتے ہوئے حماد اظہر نے کہا کہ ہمارا مقصد یہی ہے کہ کاروبار اور صنعت میں جو سب سے چھوٹا اور پسماندہ طبقہ ہے جس کی تعداد 35 لاکھ ہم سب سے پہلے اس کی مدد کرنا چاہتے ہیں۔
وفاقی وزیر صنعت نے کہا کہ مزدور کے احساس اور وزیراعظم کا چھوٹا کاروبار امدادی پیکج نافذالعمل ہونے کے بعد چھوٹے کاروباری افراد کو بلاضمانت قرض دینے کی اسکیم لائی جائے گی۔حماد اظہر نے کہا کہ حکومت کا یہ پروگرام احساس پروگرام سے الگ ہے، احساس پروگرام کے ایک کروڑ 20 لاکھ افراد کے علاوہ یہ 60 لاکھ افراد الگ ہوں گے۔
وفاقی وزیر صنعت نے کہا کہ نوکری سے نکالے گئے افراد رجسٹر ہونے کے بعد اس پیکج سے مستفید ہوسکیں گے،ہماری تمام تر توجہ کرونا سے نمٹنے پر مرکوز ہے۔
