حکومت کا 50 ہزار ٹن شوگر درآمد کرنے پر غور

عالمی منڈی میں چینی کی گرتی قیمتوں کے ساتھ ہی حکومت سرکاری نرخ پر قیمت برقرار رکھنے کےلیے 50 ہزار ٹن شوگر کی درآمد کےلیے بین الاقوامی ٹینڈر پر غور کر رہی ہے۔
وزیر خزانہ، محصول اور صنعت برائے صنعت حماد اظہر کی زیرصدارت قومی پرائس مانیٹرنگ کمیٹی (این پی ایم سی) کے اجلاس میں اس تجویز پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ گزشتہ ہفتے وفاقی کابینہ نے اقتصادی رابطہ کمیٹی کے اس فیصلے کو مشرد دیا کردیا تھا جس میں بھارت سے زمینی راستے کے ذریعے 50 ہزار ٹن چینی درآمد کرنے کی اجازت دی گئی تھی۔ وزارت صنعت ٹینڈر جاری کرے گی لیکن اس کا انحصار قیمت کے حوالے سے ہے۔ پہلے ٹینڈرز منسوخ کردیے گئے تھے کیوں کہ زیادہ قیمتوں کے حوالے کیا گیا تھا۔ موجودہ بین الاقوامی قیمت کے مطابق پاکستان میں چینی کی لینڈنگ لاگت 70 سے 80 روپے فی کلوگرام کی حد میں ہوگی جو پنجاب میں 85 روپے فی کلوگرام کے قریب ہے۔ دوسری جانب یوٹیلٹی اسٹورز کارپوریشن (یو ایس سی) کے آؤٹ لیٹس میں چینی کی قیمت 68 روپے فی کلو ہے۔ یوٹیلیٹی اسٹورز پر چینی کی عام فروخت ماہانہ 25 سے 30 ہزار ٹن ہوتی ہے۔ حکومت نے رمضان کےلیے 50 ہزار ٹن چینی کی منظوری دی ہے۔ ایک سرکاری اعلامیے میں کہا گیا کہ وزیر خزانہ حماد اظہر نے متعلقہ منڈیوں میں موجود چینی کی قیمتوں سے متعلق صوبائی فوڈ سیکریٹریوں سے تفصیلات طلب کیں۔ اعلامیے کے مطابق انہیں ہدایت کی گئی کہ وہ اس کی قیمتوں پر مستقل طور پر فراہمی کو یقینی بنائیں۔ وزارت انڈسٹری اینڈ پروڈکشن کے ایڈیشنل سیکریٹری نے این پی ایم سی کو چینی کی بین الاقوامی قیمتوں میں معمولی کمی کے بارے میں اپ ڈیٹ کیا جس سے گھریلو مارکیٹوں میں اجناس کی شرح میں اضافے کا دباؤ کم ہوگا۔ فوڈ سکیورٹی کے سیکریٹری غفران میمن نے کمیٹی کو ملک میں گندم کے ذخائر سے آگاہ کیا۔ علاوہ ازیں اجلاس میں متعلقہ صوبوں کی جانب سے گندم کے ذخائر کی رہائی کے مجموعی پوزیشن کا جائزہ لیا گیا۔ وزیر خزانہ نے صوبائی حکومتوں کے نمائندوں کو گندم کے آٹے کی قیمتوں کو برقرار رکھنے کےلیے مناسب اقدامات کرنے کی ہدایت کی۔ این پی ایم سی نے صوبوں پر زور دیا کہ وہ پورے بورڈ میں مناسب قیمتوں پر گندم کی آسانی سے فراہمی کو یقینی بنانے کےلیے ہر ممکن اقدامات کرے۔ چاروں صوبوں کے نمائندوں نے وزیر خزانہ کو گندم کی خریداری کے منصوبوں کے بارے میں آگاہ کیا۔
