حکومت کس خوف سے اوپن بیلٹ الیکشن کروانا چاہتی ہے؟

سرکاری ذرائع نے انکشاف کیا یے کہ حکومت سینٹ الیکشن میں اوپن بیلٹ پیپر کے ذریعے رائے شماری اس لیے کروانا چاہتی ہے کہ خفیہ رائے شماری میں اسے گزشتہ انتخابات کی طرح اس بار بھی خدشہ ہے کہ اسکے ارکان کہیں اپوزیشن کے سینیٹ امیدواروں کو ووٹ نہ دے دیں۔
وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ حکومت سینیٹ الیکشن وقت سے قبل کروائے گی اور یہ شو آف ہینڈز کے ذریعے ہوگا جب کہ اپوزیشن رہنماؤں نے قبل ازوقت انتخابات اور شو آف ہینڈز کے طریقہ کار کی مخالفت کی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم اپنے کچھ قریبی رفقاء کو سینٹر منتخب کروانا چاہتے ہیں اور انہیں ڈر ہے کہ کہیں ان کے دوستوں کو الیکشن میں ان کے اپنے ممبران اسمبلی انکے امیدواروں کو فارغ نہ کر دیں۔ دوسری طرف الیکشن کمیشن نے واضح کر دیا ہے کہ سینٹ کے الیکشن 10 فروری سے پہلے ممکن نہیں ہیں۔ واضح رہے کہ موجودہ سینیٹ کے آدھے ارکان اگلے سال گیارہ مارچ کو اپنی چھ سالہ مدت پوری کر لیں گے اور اس سے قبل ان کی نشستوں پر نئے انتخابات ہوں گے۔ آئین کے مطابق سینیٹ کے 104 ممبران ہیں ان میں آدھے ہر تین سال بعد ریٹائر ہو جاتے ہیں اور ان کی نشستوں پر انتخابات منعقد کیے جاتے ہیں۔
اس وقت سینیٹ میں جس کو پارلیمنٹ کا ایوان بالا بھی کہا جاتا ہے اپوزیشن کو حکومت پر واضح عددی اکثریت حاصل ہے جس کی وجہ سے حکومت کو کسی بھی قانون کی ایوان بالا سے منظوری کے لیے اپوزیشن کی مدد کی ضرورت ہوتی ہے۔چونکہ سینیٹ کے انتخابات کا الیکٹورل کالج قومی اور صوبائی اسمبلیاں ہوتی ہیں جہاں 2018 کے انتخابات میں کامیابی کے بعد پی ٹی آئی کی اکثریت ہے اس لیے حکومت بے تابی سے سینٹ انتخابات کا انعقاد چاہتی ہے اور وزیراعظم نے انتخابات کو وقت سے قبل کروانے کا عندیہ دیا ہے۔ موجودہ قومی اسمبلی اور چاروں صوبائی اسمبلیوں کے ذریعے 12 مارچ تک خالی ہونے والی 52 نشستوں پر سینیٹ انتخابات ہونے کی صورت میں پی ٹی آئی کی سینیٹ میں اقلیت اکثریت میں اور اپوزیشن کی اکثریت اقلیت میں بدل جائے گی۔ اس وقت سینیٹ میں 104 کے ایوان میں اپوزیشن جماعتوں کے 63 اور حکومتی جماعتوں کے 41 سینیٹرز ہیں ، موجودہ اسمبلیوں سے انتخابات ہونے سے سینٹ میں حکومتی اتحاد کے ارکان کی تعداد 41 سے بڑھ کر 55اور اپوزیشن جماعتوں کے اراکین کی تعداد 63 سے کم ہو کر 49 ہونے کا قوی امکان موجود ہے۔ اسکے علاوہ اپوزیشن کی جماعتوں جماعت اسلامی، اے این پی، پختونخوا ملی عوامی پارٹی، پی این پی مینگل اور وفاق سے مسلم لیگ (ن) کا سینیٹ میں صفایا ہو جائے گا جبکہ مسلم لیگ (ن)، جے یو آئی اور ایم کیو ایم کے ریٹائر ہونے والے 20 سینیٹرز میں سے 12 سینیٹرز دوبارہ منتخب نہیں ہو سکیں گے۔ دوسری طرف اپوزیشن اتحاد پی ڈی ایم کا کہنا ہے کہ 2018 کے انتخابات شفاف نہیں تھے اس لیے ان کی بنیاد پر سینیٹ میں پی ٹی آئی کو اکثریت حاصل کرنے کا حق حاصل نہیں۔ اسی وجہ سے اپوزیشن نے سینیٹ انتخابات سے قبل اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کا اعلان کر رکھا ہے تاکہ انتخابات کے انعقاد سے پہلے حکومت کا حاتمہ ہو سکے۔
وزیراعظم عمران خان نے چند دن قبل پشاور میں میڈیا سے گفتگو میں یہ تسلیم کیا کہ حکومت سینیٹ الیکشن قبل ازوقت کروانا چاہتی ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ہارس ٹریڈنگ کے خاتمے کے لیے شو آف ہینڈز کے ذریعے سینیٹ الیکشن کروانے کا فیصلہ کیا ہے۔ وزیراعظم نے اپوزیشن جماعتوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ یہ سارا ڈرامہ ہو رہا ہے، ان کا خیال ہے کہ سینیٹ کا الیکشن نہ ہو، وہ تو فیل ہونا ہے کیونکہ ہم الیکشن پہلے کرائیں گے۔ تاہم اٹارنی جنرل نے تجویز دی ہے کہ چونکہ یہ معاملہ حساس ہے اس لیے حکومت کو چاہیے کہ اس پر سپریم کورٹ سے رائے لے۔ بعد ازاں اٹارنی جنرل خالد جاوید خان نے واضح کیا کہ سینیٹ الیکشن شو آف ہینڈ نہیں بلکہ اوپن بیلٹ کے ذریعے ہوں گے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ شو آف ہینڈ کے ذریعے سینیٹ الیکشن ممکن نہیں کیونکہ سینیٹ انتخابات میں ووٹر ایک سے زائد نشستوں کے لیے ووٹ استعمال کرتا ہے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ ہر ووٹ پر ووٹر کا نام درج ہو گا اس لیے یہ شو آف ہینڈز کی طرح ہی کھلے رائے شماری سمجھی جائے گی۔
ماہرین کے مطابق حکومت کھلی رائے شماری اس لیے چاہتی ہے کہ خفیہ رائے شماری میں خدشہ ہے کہ گزشتہ انتخابات کی طرح اس بار بھی پی ٹی آئی کے ارکان کہیں اپوزیشن کے سینیٹ امیدواروں کو ووٹ نہ دے دیں۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ عمران خان اپنے ذاتی دوست اور خصوصی مشیر زلفی بخاری اور فردوس عاشق اعوان کو بھی سینیٹر منتخب کروانا چاہتے ہیں لیکن انہیں خدشہ ہے کہ شاید ان کے ممبران اسمبلی ان دونوں کو ووٹ نہ دیں۔ لہذا سینٹ کے الیکشن میں رسک لینے سے بہتر ہے کہ شو آف ہیںنڈ یا اوپن بیلٹ کا طریقہ کار آزمایا جائے۔
دوسری جانب اپوزیشن رہنماؤں نے حکومت کی طرف سے قبل ازوقت انتخابات یا شو آف ہینڈز یا کھلی رائے شماری کی تجویز کو مسترد کر دیا ہے اور اس حوالے سے قانونی لڑائی لڑنے کا بھی اعلان کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ آئین کی تشریح کر سکتی ہے نیا قانون نہیں بنا سکتی۔ ایک حالیہ پریس کانفرنس کے دوران مسلم لیگ نواز کی نائب صدر مریم نواز کا کہنا تھا کہ وہ شو آف ہینڈز کے خلاف نہیں مگر اس وقت اس کے پیچھے شفافیت نہیں ہے۔ پیپلز پارٹی کے رہنما رضا ربانی کا کہنا ہے کہ آئین میں خفیہ رائے شماری کا مقصد ایوان بالا میں ہر صوبائی نکتہ نظر کو جگہ دینا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ شو آف ہینڈز کے ذریعے قوم پرست اور مذہبی جماعتیں حصہ نہیں لے سکیں گی۔
اس حوالے سے سابق سیکرٹری الیکشن کمیشن کنور دلشاد نے وزیراعظم عمران خان کے قبل ازوقت سینٹ انتخاب اور اٹارنی جنرل کے خط میں اٹھائے گئے نکتے سے اختلاف کیا۔ان کا کہنا تھا کہ اٹارنی جنرل نے اپنے خط کے ذریعے پارلیمنٹ کے ایوان بالا کی حثییت ایک یونین کونسل کے برابر کر دی کیونکہ یونین کونسل میں انتخاب شو آف ہینڈز کے ذریعے ہو سکتا ہے سینٹ میں اس حوالے سے آئین واضح ہے کہ سیکرٹ بیلٹ ہو گا۔ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کو قبل ازوقت انتخاب کا بیان نہیں دینا چاہیے تھا کیونکہ ایسا کرکے انہوں نے الیکشن کمیشن کے کام میں مداخلت کی۔ کنور دلشاد کے مطابق آئین کے آرٹیکل 59, 213 اور 224 میں سینیٹ انتخابات کے حوالے سے تمام اختیارات الیکشن کمیشن کو دیے گئے ہیں اور وزیراعظم کے بیان سے اس حوالے سے ابہام پیدا ہوا۔ان کا کہنا تھا کہ تین سال قبل جب انتخابات ہوئے تھے تو الیکشن کمیشن نے دو فروری کو شیڈول جاری کیا تھا.
اسی طرح سابق سیکرٹری الیکشن کمیشن کے مطابق اٹارنی جنرل نے وزیراعظم کو خط لکھ کر الیکشن کمیشن کو مکمل نظر انداز کیا۔’پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار ہو رہا ہے کہ حکومت الیکشن کمیشن کو نظر انداز کر رہی ہے۔‘ ان کا کہنا تھا کہ چیف الیکشن کمشنر کی حثیت سپریم کورٹ کے جج کے برابر ہوتی ہے۔
دوسری جانب الیکشن کمیشن کے ترجمان ندیم قاسم کا موقف ہے کہ کمیشن کی پوزیشن واضح ہے کہ سینیٹ انتخابات آئین کے تحت ہوتے ہیں اور آئین کے تحت انہیں ارکان کی مدت ختم ہونے سے ایک ماہ قبل کسی بھی وقت کروایا جا سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ چونکہ آدھے ارکان کی مدت گیارہ مارچ 2021 کو ختم ہو رہی ہے اس لیے الیکشن گیارہ فروری سے گیارہ مارچ تک کسی بھی وقت منعقد کیے جا سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ الیکشن آئین کے آرٹیکل 59 اور 224 کے تحت منعقد ہوں گے لہذا قبل از وقت انتخابات نہیں ہوں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button