حکومت کو جسٹس عیسیٰ کیس میں مکمل وقت کیلئے وکیل مقرر کرنے کا حکم

سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت کو حکم دیا ہے کہ وہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیس میں ایک نئے وکیل کو مکمل وقت کے لیے مقرر کرے کیونکہ نئے اٹارنی جنرل خالد جاوید خان اور وزیرقانون فروغ نسیم کی جانب سے اس مقدمے کی پیروی نہیں کی جائے گی۔
ذرائع کے مطابق سپریم کورٹ میں جسٹس عمرعطا بندیال کی سربراہی میں 10 رکنی فل کورٹ نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی صدارتی ریفرنس کو چیلنج کی گئی درخواست پر سماعت کی، اس دوران نئے اٹارنی جنرل اور وزیرقانون دونوں پیش ہوئے۔
دوران سماعت جسٹس عمرعطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ نہ ہی اٹارنی جنرل اور نہ ہی وزیر قانون اس کیس میں وفاقی حکومت کی نمائندگی کریں گے، ساتھ ہی یہ ہدایت کی کہ 30 مارچ کو جب کیس کی سماعت دوبارہ ہوگی تو حکومت کو مکمل وقت کے لیے ایک وکیل مقرر کرنا چاہیے یا دوسری صورت میں ایڈیشنل اٹارنی جنرل چوہدری عامر رحمٰن حکومت کی طرف سے اس کیس کی پیروی کریں گے۔تاہم وزیر قانون صدارتی ریفرنس کے خلاف جسٹس عیسیٰ کی درخواست پر سماعت کرنے والے بینچ کے سامنے پیش ہوں گے کیونکہ فروغ نسیم کا نام اس کیس میں شامل کیا گیا تھا۔
علاوہ ازیں جب وفاقی وزیر نے اس کیس میں اپنی ذاتی حیثیت پر اپنے دفاع اور وفاقی حکومت کی جانب سے دلائل دینے کے لیے عدالت سے اجازت مانگی تو جسٹس قاضی محمد امید احمد نے حیرت کا اظہار کیا کہ آیا اپنا عہدے سے دستبردار ہوئے بغیر وزیر وفاقی حکومت کے لیے دلائل دے سکتا ہے، جس پر فروغ نسیم نے جواب دیا کہ ‘اسی وجہ سے میں نے اجازت طلب کی’ ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ انہیں ہمیشہ عدالت سے رہنمائی حاصل ہوئی ہے۔اسی دوران عدالت میں موجود سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن (ایس سی بی اے) کے صدر سید قلب حسن نے اعتراض کیا اور حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کس طرح وزیر وفاقی کابینہ کا دوبارہ حصہ بننے کے بعد کیس میں دلائل اور استدعا کرسکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ جب سے وہ دوبارہ کابینہ میں شامل ہوئے ہیں ان کا پریکٹسنگ سرٹیفکیٹ پاکستان لیگل پریکٹیشنرز اور بار کونسلز رولز 1976 کے رول 108-0 کے تناظر میں معطل تصور ہوگا۔
قبل ازیں کیس کی سماعت کے دوران نئے اٹارنی جنرل خالد جاوید خان نے سپریم کورٹ میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ سے متعلق کیس میں حکومت کی جانب سے پیروی کرنے سے معذرت کی۔
خیال رہے کہ وزارت قانون و انصاف نے سابق اٹارنی جنرل انور منصور خان کے استعفے کے بعد 22 فروری کو خالد جاوید کو نیا اٹارنی جنرل برائے پاکستان تعینات کردیا تھا۔
دوران سماعت اٹارنی جنرل خالد جاوید نے کیس لڑنے سے معذرت کی اور کہا کہ اس کیس میں مفادات کا ٹکراؤ ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل کو مقدمے میں وکیل مقرر کرنے کی درخواست دی ہے، لہٰذا عدالت سے استدعا ہے کہ اس درخواست کو قبول کیا جائے۔
اٹارنی جنرل نے بتایا کہ ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمٰن کی اس کیس کے حوالے سے تیاری ہے، جس پر جسٹس عمر عطا بندیال نے پوچھا کہ اگر ایڈیشنل اٹارنی جنرل دلائل دے سکتے ہیں تو آپ کو مزید تیاری کے لیے وقت دیتے ہیں۔
جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ آپ نے 3 ہفتوں کا وقت مانگا ہے، جس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ انہیں ملکی مفاد کی خاطر ملک سے باہر جانا ہے لہٰذا 20 مارچ تک مزید وقت دیں کیونکہ وہ کسی ذاتی کام سے بیرون ملک نہیں جا رہے، اس پر بینچ کے سربراہ نے کہا کہ مارچ میں ہم میں سے ایک جج کو بیرون ملک جانا ہے۔
دوران سماعت اٹارنی جنرل نے کہا کہ عدلیہ کی آزادی میرے لیے مقدم ہے، عدلیہ کی آزادی کے حوالے سے کوئی گمان ہوا تو آپ مجھے یہاں نہیں دیکھیں گے۔اس پر جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ گزشتہ سماعت پر جو کچھ ہوا ہم اسے قبول نہیں کرسکتے تھے، اس سماعت کے بعد کا نتیجہ آگیا ہے۔انہوں نے کہا کہ التوا دینے میں مسئلہ نہیں ہے لیکن اگلی سماعت پر کوئی التوا نہیں دیں گے، اگلی سماعت پر حکومتی وکیل عدالت کے سامنے پیش ہوں۔
سماعت کے دوران جسٹس عمر عطا بندیال نے قرآن پاک کی سورۃ الحجرات اور سورۃ آل عمران کا بھی حوالہ دیا۔انہوں نے ریمارکس دیے کہ قرآن مجید وہ کتاب ہے جس سے رہنمائی لی جاتی ہے، ساتھ ہی انہوں نے قرآن پاک کی آیت کا مفہوم بیان کرتے ہوئے کہا کہ سورۃ میں ہے کہ گمان نہ کرو یہ گناہ ہے، یہ بھی ہے کہ جاسوسی نہ کرو یہ بھی گناہ ہے۔
جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ اخباروں میں خبر پڑھ کر دکھ ہوا، میں نے کچھ غلط نہیں کہا تھا بس میری آواز اونچی تھی۔ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ عدلیہ کو تنقید برداشت کرنی پڑتی ہے، ہم اپنے فیصلوں سے بولتے ہیں۔
