حکومت کو نئے الیکشن پر مجبور کرنے کا اصل منصوبہ کیا ہے؟


اگر مولانا فضل الرحمان کی کوششوں کے نتیجے میں پیپلز پارٹی نے سندھ اسمبلی سے بھی استعفے دینے کا فیصلہ کر لیا تو قومی اور صوبائی اسمبلیوں کی 44 فیصد یعنی 470 نشستیں خالی ہوجائیں گی جس کے بعد حکومت کے لیے ان پر ضمنی الیکشن کروانا ناممکن ہو جائے گا اور بات نئے الیکشن کی جانب چلی جائے گی۔ اپوزیشن اتحاد کی جانب سے استعفوں کے فیصلے کا ایک بڑا مقصد نئے جنرل الیکشن کا راستہ ہموار کرنے کے علاوہ اگلے سال مارچ میں ہونے والے سینٹ کے الیکشن کو رکوانا بھی یے جن کے نتیجے میں تحریک انصاف ایوان بالا میں اکثریتی جماعت بن سکتی ہے۔
اپوزیشن ذرائع کا کہنا ہے کہ مولانا فضل الرحمان کی جانب سے صرف قومی اسمبلی سے مستعفی ہونے کے بجائے تمام صوبائی اسمبلیوں سے بھی استعفے دینے کی تجویز کا بنیادی مقصد سارے نظام کو مفلوج کرنا ہے تاکہ حکومت کو نئے الیکشن پر مجبور کیا جائے۔
اگر پی ڈی ایم کی آئین ساز جماعتوں سے وابستہ تمام قانون ساز اپنے استعفے پیش کردیتے ہیں جیسا کہ 11 جماعتی اپوزیشن اتحاد نے اعلان کیا ہے تو حکومت کے پاس اتنے وسیع پیمانے پر بائی الیکشن کروانے کا جواز نہیں بچے گا اور اسے نئے الیکشن کی طرف جانا پڑے گا۔ اس وقت قومی اسمبلی اور چار صوبائی اسمبلیوں کے اراکین کی مجموعی تعداد 1070 ہے۔ ان میں سے چھ نشستیں یعنی دو قومی اور چار صوبائی نشستیں اس وقت خالی ہیں اور ضمنی انتخابات کی منتظر ہیں، جسے الیکشن کمیشن نے کووڈ 19 کی وجہ سے ملتوی کردیا ہے۔
قومی اسمبلی کے کل 342 ارکان ہیں؛ پنجاب اسمبلی کے اراکین کی تعداد 371 ہے؛ سندھ اسمبلی 168 قانون سازوں پر مشتمل ہے؛ خیبر پختونخواہ اسمبلی میں 124 قانون ساز ہیں اور بلوچستان اسمبلی میں 65 ارکان ہیں۔ اپوزیشن کے سینیٹرز کو اس فہرست میں شامل نہیں کیا گیا ہے جیسا کہ پی ڈی ایم نے صرف براہ راست منتخب اسمبلیوں سے باہر جانے کی بات کی ہے اور بالواسطہ منتخب پارلیمان کے ایوان بالا سے نہیں جس پر ان کا غلبہ ہے۔ حکومت پنجاب کی حمایت کرنے اور نون لیگ کی پالیسیوں کے خلاف جانے پرپنجاب اسمبلی کے پانچ ارکان مسلم لیگ نون کو پارٹی سے نکال دیا گیا ہے۔ اسی طرح بلوچستان اسمبلی کے رکن ، سابق صوبائی وزیر اعلیٰ سردار ثناء اللہ زہری ، جو مسلم لیگ (ن) کے ٹکٹ پر منتخب ہوئے تھے ، نے حالیہ جھگڑےکے بعد پارٹی کو الوداع کہہ دیا۔ عوامی نیشنل پارٹی جو پی ڈی ایم کا ایک جزو ہے ، بلوچستان کی مخلوط حکومت میں شریک ہے۔ اس کے چار قانون ساز ہیں۔ یہ معلوم نہیں کہ وہ بھی اپنی پارٹی کی کال کا احترام کرتے ہوئے سبکدوش ہوجائیں گے یا نہیں۔ مسلم لیگ (ن) کے پاس قومی اسمبلی کے 83 ایم این ایز ہیں؛ پاکستان پیپلز پارٹی کے پاس 55 وفاقی قانون ساز ہیں؛ بلوچستان نیشنل پارٹی مینگل کے چار قانون ساز ہیں اور اے این پی کے پاس صرف ایک رکن ہے۔
قومی اسمبلی کے ریکارڈ کے مطابق یہ تمام مجموعی طور پر 143 ایم این ایز ہیں۔
مسلم لیگ (ن) کے پاس پنجاب اسمبلی کے 165 ایم پی ایز ہیں اور پیپلز پارٹی کے پاس سات قانون ساز ہیں۔ سندھ اسمبلی میں پیپلز پارٹی کے پاس 96 ایم پی ایز ہیں۔ اگر یہ سب اسمبلی چھوڑ جاتے ہیں تو مقننہ متروک ہو جائے گا کیونکہ وہ اکثریت میں ہیں۔ خیبر پختون خواہ اسمبلی میں متحدہ مجلس عمل اور جمعیت علماء اسلام کے پاس 17 ایم پی ایز ہیں۔ اے این پی کے 12 ارکان ہیں۔ مسلم لیگ نون کے 6 قانون ساز ہیں اور پیپلز پارٹی کے پانچ ایم پی ایز ہیں۔ یہ تمام 40 ایم پی ایس بنتے ہیں۔ ایم ایم اے اور بی این پی (ایم) کے بلوچستان میں دس، دس ایم پی ایز ہیں اور پختونخوا عوامی ملی پارٹی کے محمود اچکزئی کے پاس صرف ایک ممبر اسمبلی ہے جبکہ اے این پی کے پاس چار اراکین ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button