میرے سوا کوئی چوائس نہیں، حکومت اپنی مدت پوری کرے گی

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ اپوزیشن روز حکومت ختم ہونے کے بیانات دے رہی ہے، حکومت کہیں نہیں جا رہی، اپنی مدت پوری کرے گی کیونکہ میرے سوا کوئی ‘چوائس’ نہیں۔پارٹی اور اتحادیوں کے ساتھ تعلقات خرابی کی باتیں درست نہیں ہم سب اتحادیوں کو ساتھ لیکر چلیں گے.
حکومتی و اتحادی ارکان پارلیمنٹ کے اعزاز میں عشائیے سے خطاب کرتے ہوئےوزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ اس ملک کو صرف اور صرف تحریک انصاف ہی بدل سکتی ہے۔وہ اپوزیشن حکومت پر تنقید کرتی ہے جو تیس سال حکومت کر چکی۔ ان کا کہنا تھا کہ مافیا کا پیچھا چھوڑ دوں تو سب اچھا ہو جائے گا۔ یہ مافیاملک کو تباہی کے دہانے پر لے کر آئے، ان سے کیسے ہاتھ ملاؤں؟ وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ بہت پہلے بتایا دیا تھا کہ مشکل وقت آئے گا، تو یہ سب اکٹھے ہوں گے۔ یہ عوام کے مفاد میں نہیں، اپنی کرپشن کے دفاع کے لیے اکٹھے ہوئے ہیں۔
عمران خان نے دعویٰ کیا کہ پارٹی میں کوئی اختلافات نہیں، اتحادیوں کو ساتھ لے کر چلیں گے، مشکل ترین حالات میں مجبوراً مشکل فیصلے کرنا پڑتے ہیں۔ وزیراعظم نے کہاکہ ہر روز نئے محاذ کا مقابلہ کرتا ہوں۔۔حالات کا ڈٹ کر مقابلہ کروں گا،جلد مشکل سے نکلیں گے۔۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ہم اپنے نظریے پر کھڑے ہیں اور کھڑے رہیں گے۔ہم اس وقت نیچے گریں گے جب اپنے نظریے سے ہٹیں گے. ان کا مزید کہنا تھا کہ اپوزیشن صرف اور صرف ہمارے خلاف پراپیگنڈا کررہی ہے میرے سوا کوئی چوائس نہیں یہ پانچ سال بھی پورے کریں گے، آئندہ پانچ سال بھی ہمارے ہیں. ان کا کہنا تھا کہ لوگ کبھی خوش ہوں گے کبھی ناراض لیکن ہم نے لوگوں کی حالت بدلنی ہے، ملائیشیا کے مہاتیر محمد اسٹیٹس کو کے خلاف ہار گئے، ہم اسٹیس کو کے خلاف لڑ رہے ہیں۔
عشائیے سے خطاب میں وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ پارٹی میں کوئی اختلافات نہیں، سب متحد ہیں۔ تحریک انصاف جمہوری پارٹی ہے، اس میں سب کو اظہار رائے کی آزادی ہے۔ پیپلزپارٹی اپنے نظریے سے ہٹ کر تباہ ہوگئی لیکن ہم اپنے نظریے پر کھڑے ہیں اور کھڑے رہیں گے۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ کرونا وائرس کی وجہ سے ملک کو معاشی نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔ اس کے باوجود حکومت نے ملکی معیشت مستحکم کرنے پر بھرپور توجہ دی۔عمران خان نے کہا کہ روز صبح خبرملتی ہے آج جا رہا ہوں، کل جا رہا ہوں، لیکن میرے سوا کوئی چوائس نہیں ہے، حلقوں میں جاتے ہیں تو عوام کہتے ہیں یہ سب آزمائے ہوئے ہیں۔ عمران خان نے کہا کہ چینی رپورٹ کے حوالے سے میرے اوپر دباؤ تھا۔مشرف نے اپنے دور میں دباؤ میں آکر دو مرتبہ چینی کی رپورٹ مسترد کی۔پی آئی اے میں جعلی ڈگریوں پر پائلٹ بھرتی ہوئے، جس سے دنیا بھر میں ملک کی بدنامی ہوئی۔پی آئی کی رپورٹ پر بھی دباؤ تھا، اگر چاہتا تو بہت ساری چیزیں چھپا سکتا تھا لیکن حقائق عوام کے سامنے لانے کو ترجیح دی.انہوں نے کہا کہ کورونا صورتحال کے پیش نظر ارکان اسمبلی سے ملاقاتیں کم ہوئیں۔ اب انشاء اللہ تمام پی ٹی آئی اور اتحادی ارکان سے ملاقاتوں کا سلسلہ جاری رکھیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ کورونا صورتحال میں حکومت نے موثر حکمت عملی اپنائی۔ میں پہلے دن سے لاک ڈاؤن کے خلاف تھا، اس لئے وبا سے نمٹنے کیلئے سمارٹ لاک ڈاؤن کی طرف گئے۔ آج دنیا بھی لاک ڈاؤن کی بجائے سمارٹ لاک ڈاؤن کی طرف جا رہی ہے۔
وزیراعظم عمران خان نے ارکان اسمبلی کو بجٹ منظوری کے وقت حاضری یقینی بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ مشکل حالات میں اور شدید مالی مشکلات کے باوجود ٹیکس فری بجٹ دیا۔ کل تمام حکومتی ارکان اور اتحادی اجلاس میں شریک ہوں، بجٹ منظوری کے بعد اتحادیوں سے معاہدوں پر عمل درآمد ہوگا۔عمران خان کا کہنا تھا کہ حکومت سنبھالی تو ملک چلانے کے لیے پیسے نہیں تھے۔ معیشت بہتر ہوئی تو کورونا وائرس آ گیا۔ ارکان پارلیمنٹ کے مسائل سے واقف ہوں۔ مشکل ترین حالات میں مجبوراً مشکل فیصلے کرنا پڑتے ہیں۔رواں سال کا بجٹ مشکل ترین مالی حالات میں پیش ہوا.
ذرائع کے مطابق ارکان نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھانے پر وزیراعظم کے سامنے اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے سوالات اٹھائے اور کہا کہ اچانک قیمتیں بڑھانے سے عوامی حلقوں میں تنقید ہو رہی ہے۔اس کا جواب دیتے ہوئے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ عالمی مارکیٹ میں پٹرول مہنگا ہونے کے باوجود ہم نے قیمت میں صرف 25 روپے لیٹر اضافہ کیا۔ پاکستان خطے میں سب سے سستا پٹرول فروخت کرنے والا ملک ہے۔
