حکومت کیسے پتا چلاتی ہے کس علاقے میں اسمارٹ لاک ڈاؤن نافذ کرنا ہے؟

آزمودہ طریقہ تو یہ تھا کہ جہاں کورونا وائرس تیزی سے پھیل رہا ہو وہ پورا شہر ہی بند کر دیا جائے۔ ترقی یافتہ ممالک نے ایسا ہی کیا۔ ابتدا میں پاکستان میں بھی یہی کیا گیا تاہم یہاں گنجان آباد بڑے شہروں کو پوری طرح بند کروانا عملی طور پر انتہائی مشکل ثابت ہوا۔
شہر کے شہر بند کرنے سے کورونا کا پھیلاؤ تو نہ رک پایا تاہم معیشت کا پہیہ ضرور رکنے لگا۔ ایسے میں حکومت نے کئی کاروبار کھولنے کی اجازت دے دی۔ پھر عیدالفطر کا موقع آیا اور لوگوں کے ہجوم خریداری کو نکل آئے۔ نتیجہ یہ ہوا کے عیدالفطر کے بعد کے ہفتوں میں پاکستان میں کورونا وائرس اس قدر تیزی سے پھیلا ہے کہ ہسپتالوں میں مریضوں کے لیے گنجائش ختم ہو گئی تھی اور یہ حکومت کے لیے ایک مشکل صورتحال تھی۔ شہر کھولیں تو مشکل، نہ کھولیں تو مسئلہ۔
اس کا ایک حل یہ نظر آ رہا تھا کہ پورا شہر بند کرنے کے بجائے صرف مخصوص علاقے بند کر دیے جائیں تاکہ ان کے باہر باقی شہر میں کاروبارِ زندگی چلتا رہے۔ یہ وہ علاقے تھے جہاں نہ صرف کورونا کے مریضوں کی تعداد زیادہ تھی بلکہ یہاں سے وبا کے تیزی سے پھیلنے کا اندیشہ بھی تھا۔ لیکن مشکل یہ تھی کہ ایسے علاقوں کا پتا کیسے لگایا جائے۔ مریضوں کے اعداد و شمار سے یہ تو معلوم ہو سکتا تھا کہ کن علاقوں میں ان کا تناسب زیادہ ہے لیکن یہ کیسے معلوم ہو کہ کن علاقوں سے وبا تیزی سے پھیل سکتی ہے۔ اس حکمت عملی کی کامیابی کے لیے یہ بھی ضروری تھا کہ ایسے زیادہ تر علاقوں کو ایک ہی وقت پر بند کیا جائے اور جتنی دیر میں اعداد و شمار جمع کر کے اس کا تخمینہ لگایا جاتا، وائرس مزید علاقوں میں پھیل چکا ہوتا۔ ایسے میں جدید ٹیکنالوجی نے حکومت کی معاونت کی۔ اسلام آباد میں حکومتی ادارے نیشنل انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ یعنی این آئی ٹی بی نے ایک ایسا خودکار نظام بنایا جس کی مدد سے ایک ہی وقت میں ملک کے مختلف شہروں میں کئی مخصوص علاقوں کو بند کیا گیا۔ ان علاقوں کو ’ہاٹ اسپاٹس‘ اور ان کو بند کرنے کے عمل کو حکومت نے ’اسمارٹ لاک ڈاؤن‘ کا نام دیا۔
این آئی ٹی بی کے چیف ایگزیکیٹو آفیسر شباہت علی شاہ نے بی بی سی کو بتایا کہ اس نظام کا دارومدار اعداد و شمار پر ہے۔ لیکن اسلام آباد میں بیٹھ کر وہ کیسے پتا چلا لیتے ہیں کہ کراچی یا لاہور میں کون سے علاقے ہاٹ اسپاٹس ہیں اور انہیں فوری بند کرنے کی ضرورت ہے۔
شباہت علی شاہ کے مطابق ہاٹ سپاٹس کی نشاندہی کا یہ نظام مندرجہ ذیل طریقے سے کام کرتا ہے:
پہلے گزشتہ 12 روز میں پاکستان بھر میں جہاں کہیں بھی کورونا کے مریضوں کی تصدیق ہوتی ہے ان کے اعداد و شمار لے لیے جاتے ہیں
ان کو جمع کرنے کا نظام خودکار ہے
ایک ٹیم ان اعداد و شمار کا جائزہ لیتی ہے اور پتا لگایا جاتا ہے کہ مریض کن علاقوں میں موجود ہیں
کمپیوٹر پر بنے پاکستان کے نقشے پر یہ مریض جھرمٹ کی شکل میں ابھرتے رہتے ہیں
جہاں جھرمٹ بڑا ہوتا ہے اس علاقے کے ہاٹ سپاٹ ہونے کے امکانات ہو سکتے ہیں
یعنی ایک خودکار نظام میں مریضوں کے اعداد و شمار جمع ہو رہے ہوتے ہیں جنہیں جائزے کے لیے جب مخصوص الگورتھم سے گزارا جاتا ہے تو وہ کورونا کے مریضوں کے جھرمٹ بنا دیتا ہے۔ ان کے حجم کی بنیاد پر فیصلہ کیا جاتا ہے کہ کون سا علاقہ ہاٹ اسپاٹ ہے۔
لیکن یہاں بھی ایک مسئلہ ہے۔
کیا یہ ضروری ہے کہ ہر وہ علاقہ جس میں مریضوں کی تعداد زیادہ ہو یعنی اس علاقے میں بننے والا جھرمٹ بڑا ہو تو وہ ہاٹ اسپاٹ ہو گا؟ کیا ہر ایسے علاقے کو بند کرنے کی ضرورت ہو گی جہاں مریضوں کی تعداد زیادہ ہو گی؟
این آئی بی ٹی کے سی ای او شباہت علی شاہ کا کہنا ہے کہ ایسا نہیں ہے۔ ان کے مطابق وہ جب کسی علاقے کو بند کرنے کا فیصلہ کرتے ہیں تو اس سے پہلے اس بات کا تعین کر لیا جاتا ہے کہ وہ ہاٹ اسپاٹ ہے یعنی ایسا علاقہ جہاں سے وبا کے پھیلنے کا خطرہ بہت زیادہ ہے۔
شباہت علی شاہ کے مطابق اس کے لیے وہ مریضوں کے جھرمٹ بنانے والے نقشے پر ایک لہر اس نقشے کی چلاتے ہیں جو پاکستان کے مختلف علاقوں میں آبادی کا تناسب ظاہر کرتا ہے۔اس طرح یہ معلوم ہو جاتا ہے کہ جس علاقے میں ایک بڑا جھرمٹ بن رہا ہے اس میں آبادی کتنی ہے۔ اگر وہاں مریض زیادہ بھی ہیں لیکن آبادی کم ہے تو وہ ہاٹ اسپاٹ نہیں ہے لیکن اگر وہاں آبادی زیادہ ہے تو اس صورت میں اسے کو ہاٹ اسپاٹ قرار دیا جائے گا۔
شباہت علی شاہ اس کو اس طرح واضح کرتے ہیں کہ فرض کریں لاہور کے ایک نواحی علاقے میں 50 مریضوں کا ایک جھرمٹ سامنے آتا ہے لیکن کیونکہ وہاں آبادی بہت کم ہے اس لیے وہاں وسائل استعمال کر کے اس کو بند کرنے کا جواز نہیں بنتا لیکن اگر یہی 50 مریض گوالمنڈی میں سامنے آتے ہیں تو وہاں وائرس کے جلدی پھیلنے کے امکانات بہت زیادہ ہیں کیونکہ وہ گنجان آباد علاقہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس طرح ان کا لاک ڈاؤن لگانے والا نظام ان کے لیے ایک پولی گون یا کثیر الزاویہ شکل تشکیل دیتا ہے جو انہیں بتاتا ہے کہ ’فلاں علاقہ بہت زیادہ متاثر ہے، جائیں اور فوری طور پر اسے بند کریں۔‘ اس کے بعد ان کا ادارہ یہ معلومات متعلقہ صوبائی حکومت کو پہنچاتا ہے اور وہ اپنے وسائل کو استعمال کرتے ہوئے اس علاقے کو اسمارٹ لاک ڈاؤن کر کے بند کرتے ہیں۔
اس حوالے سے سوالات سامنے آتے رہے ہیں کہ اسمارٹ لاک ڈاؤن کا لائحہ عمل پاکستان میں کورونا وائرس کے پھلاؤ کو روکنے میں کتنا کامیاب ہوا۔ حکومت یہ دعویٰ کرتی نظر آتی ہے کہ ملک میں کورونا کے مریضوں کی تعداد میں کمی اسمارٹ لاک ڈاؤن ہی کی وجہ سے ہے۔ اسمارٹ لاک ڈاؤن نافذ کرنے کے نظام کا تمام تر دارومدار اعداد و شمار پر ہے اور اس بات کی کیا گارنٹی ہے کہ پورے ملک کے ہزاروں اسپتالوں اور لیبارٹریوں سے این آئی ٹی بی کو ملنے والے اعداد و شمار مستند ہیں۔
شباہت علی شاہ پُراعتماد ہیں کہ جن اعداد و شمار کی بنیاد پر وہ کسی علاقے کو لاک ڈاؤن کرنے کا فیصلہ کرتے ہیں وہ انتہائی مستند ہیں اور اس کی وجوہات یہ ہیں:
وہ گزشتہ تین ماہ سے صوبائی اکائیوں سے اعداد و شمار جمع کرنے کا نظام ترتیب دے رہے ہیں
انہیں کووڈ 19 کی سہولیات والے تقریباً چار ہزار ہسپتالوں کے اعداد و شمار موصول ہوتے ہیں
سینکڑوں لیبارٹریاں اس کے علاوہ ہیں جہاں کورونا کے ٹیسٹ ہوتے ہیں
ان سب کے اعداد و شمار خودکار طریقے سے ان کے سسٹم میں اکٹھے ہوتے رہتے ہیں
ان کی چھانٹی کر کے دوہرا پن ختم کیا جاتا ہے
شباہت علی شاہ کے مطابق ’ہمیں پورا اعتماد ہے کہ اس کے بعد ہمارے پاس جو اعداد و شمار آتے ہیں وہ انتہائی صاف ستھرے اور مستند ہوتے ہیں۔‘
اسمارٹ لاک ڈاؤن کے لیے ترتیب دیے جانے والے نظام کے لیے جو اعداد و شمار جمع ہوتے ہیں ان کی مدد سے این آئی ٹی بی کورونا کے مریضون کو مزید سہولیات بھی فراہم کرتا ہے۔ ان میں اسپتالوں میں دستیاب کورونا کی سہولیات یعنی بستر، وینٹی لیٹر، آئی سی یو وغیرہ شامل ہیں۔
اگر کسی ہسپتال میں وینٹیلیٹرز یا بستروں کی تعداد انتہائی کم ہو جائے تو سسٹم ایک الرٹ جاری کرتا ہے
عوام اور صوبائی حکومتوں کو فوری طور پر اس سے آگاہ کر دیا جاتا ہے
عوام کی آسانی کے لیے ایک موبائل ایپلیکیشن ’پاک نگہبان‘ کے نام سے جاری کی گئی ہے۔ ایمرجنسی کی صورت میں اس پر آپ دیکھ سکتے ہیں کہ کس ہسپتال میں بستر یا وینٹیلیٹر میسر ہیں
اس نظام کے ذریعے اس حد تک معلوم کیا جا سکتا ہے کہ کسی ایک علاقے کی کس گلی یا گھر میں کورونا کے مریض موجود ہیں۔ اس طرح ضرورت کے مطابق صرف اس گلی کو بھی بند کیا جا سکتا ہے۔اس کی مدد سے پیشگوئی کرنے والے چند ماڈلز کو استعمال کر کے یہ بھی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ آنے والے دنوں میں کورونا کے مریضوں کی تعداد کس حد تک بڑھ سکتی ہے، این آئی ٹی بی کے سی ای او شباہت علی شاہ کا کہنا ہے کہ اگر ضرورت پڑی تو مستقبل میں اس نظام کو کسی دوسری ممکنہ آفات کے دوران بھی استعمال کیا جا سکے گا۔
