حکومت کی امیدوں کا مرکز فوجی اسٹیبلشمنٹ ہے

حکومتی ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ مولانا فضل الرحمن کے حکومت مخالف لانگ مارچ کی کامیابی کے امکانات معدوم ہیں ہیں چونکہ موجودہ فوجی اسٹیبلشمنٹ حکومت کے ساتھ ہے اور اگر اس نے مولانا کا منصوبہ کامیاب ہونے دیا تو ملکی سیاست میں اسٹیبلشمنٹ کا اپنا سیاسی کردار کمزور پڑ سکتا ہے جس کی وہ کسی صورت اجازت نہیں دے گی۔
مولانا فضل الرحمن تحریک انصاف کی حکومت کو کٹھ پتلی اور سلیکٹڈ قرار دے کر اقتدار سے بے دخل کرنے کے لیے 27 اکتوبر کو اسلام آباد کی جانب آزادی مارچ اور لاک ڈاؤن کی کال دے چکے ہیں۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ مولانا کی یہ تحریک، اسٹیبلشمنٹ کی مدد کے بغیر کامیاب نہیں ہو سکتی۔ اسٹبلشمنٹ نہیں چاہتی کہ کوئی سیاسی یا مذہبی جماعت ان کی لائی گئی حکومت کو عوامی طاقت کے زور پر گھر بھجوا دے کیونکہ اس طرح طرح اسٹبلشمنٹ کا سیاسی کردار کمزور پڑ سکتا ہے۔ تاہم اس احتجاجی تحریک کی وجہ سے تحریک انصاف کا اسٹیبلشمنٹ پر انحصار مزید بڑھ جائے گا اور شاید اسٹیبلشمنٹ اسی لیے مولانا کو پہلے مرھلے پر روکنا نہیں چاہتی۔ پاکستان کی سیاسی تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ یہاں منتخب حکومتیں کئی دفعہ غیر فطری طریقے سے ختم کی جاچکی ہیں۔ تاہم صرف دو مرتبہ ہی ایسا ہوا کہ اپوزیشن جماعتوں کے احتجاج کے باعث کسی حکومت کو گھر جانا پڑا۔ پہلی مرتبہ فیلڈ مارشل محمد ایوب خان اور دوسری بار زلفقارعلی بھٹو احتجاجی تحریکوں کے باعث اقتدار چھوڑنے پر مجبور ہوئے۔ بظاہر عوام کے ووٹوں سے منتخب ہو کر اقتدار کے ایوانوں میں پہنچنے والی تحریک انصاف کو اپوزیشن جماعتیں سلیکٹڈ قرار دیتی ہیں اور جمعیت علماء اسلام ف نے دو بڑی اپوزیشن جماعتوں مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کی سو فیصد حمایت کے بغیر ہی 27 اکتوبر کو اسلام آباد کی جانب مارچ کا اعلان کرکے ایک بڑا جوا کھیلا ہے۔ ایسے میں تجزیہ کار یمیہ سوچ رہے ہیں کہ کیا اسٹیبلشمنٹ کی حمایت سے اقتدار میں آنے والی تحریک انصاف کو اسٹیبلشمنٹ کی مدد کے بغیر گرایا جا سکتا ہے۔ سوال کا جواب حاصل کرنے کے لئے تو ابھی کچھ انتظار کرنا پڑے گا مگر پاکستان کی سیاسی تاریخ یہ بتاتی ہے کہ یہاں برسر اقتدار حکمرانوں کا اقتدار مختلف وجوہات کی بنا پر ختم کرنے کی روایت موجود ہے۔ ایک مرتبہ موت کی وجہ سے وزیراعظم کی چھٹی ہوئی۔ دو بار وزیر اعظم کو قتل کردیاگیا۔ 6مرتبہ سربراہ ریاست یعنی صدر نے اپنے خصوصی اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے وزیراعظم کو گھر بھجوایا۔ 8مرتبہ وزرئے اعظم کو جبری استعفی دینے پر مجبور کیا گیا۔ دوبار کمزور عدالتی فیصلے وزیراعظم کو گھر بھجوانے کا باعث بنے ۔4مرتبہ مارشل لاز نے منتخب حکومتوں کا تختہ الٹا۔ دو بار مشکوک سمبلی ووٹ ووٹ وزرائے اعظم کو گھر بھجوا نے کا سبب بنے جبکہ سڑکوں پر احتجاجی مظاہرے کی وجہ سے بھی حکومتوں کی چھٹی ہو چکی ہے۔
کہا جاتا ہے کہ میاں نوازشریف تاریخ میں ایسے واحد وزیراعظم ہیں جنہیں ہیں چار مرتبہ مختلف وجوہات کی بنا پر اقتدار سے ہاتھ دھونا پڑا۔ نواز شریف کا دور اقتدار اس اعتبار سے بھی منفرد ہے کہ انہیں ایک مرتبہ سڑکوں پر احتجاجی مظاہروں اور دوسری بار عدالت کے ذریعے اقتدار سے بے دخل کرنے کی کوشش کی گئی۔ مگر پھر بھی میاں نواز شریف کا اقتدار محفوظ رہا۔ میاں نواز شریف پاکستان کی سیاسی تاریخ میں اس اعتبار سے بھی منفرد ہیں کہ انہوں نے تین مرتبہ دیگر وزراء اعظم کی حکومتیں گرانے میں اہم کردار ادا کیا ان وزراء اعظم میں محمد خان جونیجو اور بینظیر بھٹو شامل ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ فوجی اسٹیبلشمنٹ کی مدد سے جمہوری اور غیر جمہوری حکومتیں لمبا عرصہ چلتی تو ہیں لیکن جب اسٹیبلشمنٹ ہی ان کے خلاف ہو جائے تو پھر حکومت فوجی ہو یا غیر فوجی اس کا اقتدار میں رہنا مشکل ہو جاتا ہے۔ ایوب خان اور ذوالفقار علی بھٹو کے معاملے میں ایسا ہی ہوا۔ موجودہ صورتحال میں سربراہ حکومت کے قتل، فوجی بغاوت یا صدارتی حکم کے ذریعے اقتدار کا خاتمہ ممکن نظر نہیں آتا۔ موجودہ سیاسی صورتحال میں صرف عدالتی فیصلوں کے ذریعے اقتدار سے الگ کرنا یا اسمبلی میں ووٹ کی طاقت استعمال کرکے ہی منتخب حکومت کو گرانے کا آپشن باقی رہ گیا ہے۔
پاکستان کی سیاسی تاریخ کو مدنظر رکھتے ہوئے اگر مولانا فضل الرحمن کے مجوزہ آزادی مارچ اور لاک ڈاؤن کے اثرات کا اندازہ لگایا جائے تو یہاں بھی اسٹیبلشمنٹ کا کردار کی کلیدی اہمیت واضح نظر آتی ہے۔ اگرچہ تحریک انصاف کو ایک منتخب جمہوری حکومت کہا جاتا ہے تاہم ابھی بھی سیاسی و غیر سیاسی حلقے اس حکومت کے پانچ سال پورے کرنے کا انحصار فوجی اسٹیبلشمنٹ کی مرضی اور منشا پر منحصر قرار دیتے ہیں۔ بعض حلقوں کا ماننا ہے کہ مولانا فضل الرحمن بعض لوگوں کے اشارے پر تحریک انصاف کے خلاف میدان میں نکلے ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ موجودہ اسٹیبلشمنٹ سالوں کی محنت اور ریاضت کرکے جسے اقتدار میں لے کر آئی اسے اتنی جلدی ایک مذہبی جماعت کے ہاتھوں کس طرح گھر بھجوانے پر راضی ہو سکتی ہے۔ بعض تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ جس طرح فوجی اسٹیبلشمنٹ نے 2003 کی دھاندلی شدہ حکومت کو تمام تر احتجاجوں اور عوامی دباؤ کے باوجود مدت پوری کروائی اسی طرح اسٹیبلشمنٹ کی خواہش ہے کہ وہ سیاسی جماعتیں بھی اپنا احتجاج کرتی رہی تاکہ تحریک انصاف کی برسر اقتدار حکومت ان کے کنٹرول میں رہے لیکن ساتھ ہی اسٹیبلشمنٹ فوری طور پر مولانا یا دیگر جماعتوں کے حکومت مخالف احتجاج یا دھرنوں کو کامیاب نہیں ہونے دے گی۔ اسٹیبلشمنٹ کا خیال ہے کہ اگر حکومت مکمل طور پر ناکام ہوتی ہے تو پھر اسے فارغ کرنے کے لیے کوئی اور راستہ بھی اپنایا جاسکتا ہے جس میں سرفہرست عدالت سے نااہلی یا ان ہاؤس تبدیلی ہے۔ اگر کسی سیاسی یا مذہبی جماعت نے تحریک چلا کر حکومت کو گھر بھجوا دیا یا تو پھر اسٹیبلشمنٹ کے لیے مستقبل میں مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔ مولانا کے دھرنے کے تناظر میں یہی امکان ظاہر کیا جارہاہے کہ مولانا فضل الرحمن کا آزادی مارچ اور لاک ڈاؤن کا منصوبہ اس قدر شدید نہیں ہوگا کہ وہ حکومت کو گھر بھجوانے پر مجبور کر دے البتہ یہ تحریک انصاف کی حکومت کو راہ راست پر لانے اور اسے اقتدار میں لانے والوں کے قدموں میں ایک بار پھر گرانے پر مجبور کردے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button