حکومت کی چئیرمین نیب کے عہدے میں توسیع کیلئے ترمیم تجویز

حکومت نےنیب ترمیمی بل کامسودہ تیارکرلیا ہے۔ جس کے مطابق حکومت نے چیئرمین نیب، ڈپٹی چیئرمین اور پراسیکیوٹر جنرل کی مدت ملازمت میں توسیع کی تجویز دی ہے۔ مجوزہ ترمیم کے تحت نیب آرڈیننس کےسیکشن 6 سے ناقابل توسیع کالفظ نکال دیا جائے گا. ترمیم سے چیئرمین نیب کی مدت ملازمت میں توسیع کی جاسکےگی۔ نیب آرڈیننس کے سیکشن 7 میں ترمیم کر کے ڈپٹی چیئرمین نیب اور سیکشن 8 میں پراسیکیوٹر جنرل کی مدت ملازمت میں ناقابل توسیع کا لفظ نکال دیا جائے گا جس کے بعد ڈپٹی چیئرمین نیب اور پراسیکوٹر جنرل نیب کی مدت ملازمت میں بھی توسیع کی جاسکے گی.مجوزہ مسودے کے تحت وفاقی اورصوبائی ٹیکس اورلیوی کےمعاملات نیب کےاختیارمیں نہیں رہیں گے۔
خیال رہے کہ موجودہ نیب قانون کے تحت چیئرمین کی مدت ملازمت 4 سال اور ناقابل توسیع ہے جبکہ  ڈپٹی چیئرمین اور پراسکیوٹر جنرل کی مدت ملازمت 3 سال اور نا قابل توسیع ہے۔
حکومتی ترمیمی مسودے کے مطابق وفاقی اور صوبائی ٹیکس معاملات پر نیب قانون لاگو نہیں ہوگا اور  ٹیکس، لیویز اور محصولات کی تفتیش نیب کے بجائے متعلقہ ادارے کریں گے جبکہ مقدمات نیب کی بجائے فوجداری عدالت میں چلیں گے۔ نیب قانون کا اطلاق اس شخص پرنہیں ہوگا جس کا کسی عوامی عہدے دار سے براہِ راست یا بالواسطہ تعلق نہ ہو اور  اگر عوامی عہدے دار کے خلاف حکومتی منصوبے یا اسکیم سے مالی فائدہ اٹھانے کا ثبوت نہیں تو قواعد و ضوابط کی بے قاعدگی ہونے پر بھی نیب قانون لاگو نہیں ہوگا۔
عوامی عہدے دار کے زیر کفالت یا بے نامی دار نے فائدہ اٹھایا تو نیب قانون لگے گا، اس کے علاوہ عوامی عہدے دار کے اثاثے اس کے ذرائع آمدن سے میل نہیں کھاتے تو اصل قیمت کا تعین ڈسٹرکٹ کلیکٹر اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر)کرے گا۔ عوامی عہدے دار اور اس کے زیر کفالت کے ناجائز فائدہ اٹھانے سے متعلق ٹھوس ثبوت پر ہی اختیارات کا ناجائز استعمال تصور کیا جائے گا جبکہ عوامی عہدیدار کے اچھی نیت سے کیے گئے عمل پر نیب قانون لاگو نہیں ہوگا۔ مالی فائدہ لینے کے سوا حکومتی منصوبے یا سکیم میں ضابطے کے نقائص عوامی عہدہ رکھنے والے پر لاگو نہیں ہونگے. رائے یا رپورٹ دینے پر عوامی عہدہ رکھنے والے متعلقہ شخص کیخلاف کارروائی نہیں ہوگی جب تک مالی فائدے کے ثبوت نہ ہوں.مجوزہ مسودہ پارلیمانی کمیٹی برائے قانون سازی میں اپوزیشن کو مشاورت کے لیے پیش کردیا گیا ہے۔
خیال رہے کہ اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے قومی احتساب بیورو (نیب) قوانین میں ترمیم کے معاملے پر 24 رکنی پارلیمانی کمیٹی برائے قانون سازی کے قیام کی منظوری دے رکھی ہے۔ وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کمیٹی کے چیئرمین نامزد کئے گئے ہیں جبکہ وفاقی وزرا پرویز خٹک، اسد عمر، شفقت محمود، سینیٹر شبلی فراز، شیریں مزاری اور وزیر مملکت علی محمد خان حکومت کی نمائندگی کر رہے ہیں۔وزیر اعظم کے مشیر ڈاکٹر ظہیر الدین، بابر اعوان اور مرزا شہزاد اکبر بھی کمیٹی میں شامل ہیں جب کہ حکومتی اراکین قومی اسمبلی و سینیٹ ملک محمد عامر ڈوگر، سینیٹر ڈاکٹر فروغ نسیم، سینیٹر انوار الحق کاکڑ اور غوث بخش خان مہر بھی کمیٹی کا حصہ ہیں۔اپوزیشن کی کمیٹی میں مسلم لیگ (ن) کی نمائندگی شاہد خاقان عباسی، سردار ایاز صادق، خواجہ سعد رفیق، رانا ثنا اللہ، احسن اقبال چوہدری اور سینیٹر محمد جاوید عباسی کر رہے ہیں۔پیپلز پارٹی کے راجہ پرویز اشرف، سید نوید قمر، سینیٹر شیری رحمٰن، سینیٹر فاروق نائیک جب کہ متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کی شاہدہ اختر علی کمیٹی میں شامل ہیں۔
یاد رہے کہ
یاد رہے کہ گزشتہ سال 27 دسمبر کو وفاقی کابینہ نے بذریعہ سرکولیشن قومی احتساب بیورو (نیب) ترمیمی آرڈیننس 2019 کی منظوری دی تھی جس کے بعد صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے بھی آرڈیننس پر دستخط کر دیے تھے۔صدر مملکت کے نیب ترمیمی آرڈیننس پر دستخط کے بعد یہ آرڈیننس نافذ العمل ہوگیا مگر اپوزیشن کی جانب سے آرڈیننس پر شدید ردعمل کا اظہار کیا گیا اور اسے سپریم کورٹ میں چیلنج بھی کیا گیا۔
دوسری جانب 15 جنوری 2020ء  کو سپریم کورٹ  نے نیب آرڈیننس کی شق 25 اےکے تحت پلی بارگین (بدعنوانی سے حاصل کی گئی رقم رضامندی سے  واپس کرنے)  سے متعلق از خود نوٹس کیس میں حکومت کو نیانیب قانون لانے کے لیے 3 ماہ کی مہلت دی تھی۔ عدالت نے ریمارکس دیے تھے کہ ‘توقع کرتے ہیں حکام نیب قانون سے متعلق مسئلے کو حل کرلیں گے اور نیب قانون کے حوالے سے مناسب قانون پارلیمنٹ سے منظور ہوجائے گا جب کہ 3 ماہ میں مسئلہ حل نہ ہوا تو عدالت قانون اورمیرٹ کو دیکھتے ہوئے فیصلہ کرے گی’۔
خیال رہے کہ  نیب آرڈیننس کی شق 25 اےکے تحت پلی بارگین کے خلاف ازخود نوٹس 2016ء میں اس وقت کے چیف جسٹس آف پاکستان انور ظہیر جمالی نے لیا تھا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button