حکومت کی ہائی کورٹس بینچ بڑھانے کے بل کی مخالفت

سینیٹ میں حکومت نے حیران کن اقدام اٹھاتے ہوئے ایک آئینی ترمیمی بل کی مخالفت کردی جس کے تحت ملک بھر میں ہائی کورٹ بینچوں کی تعداد میں اضافے کا مطالبہ کیا گیا تھا تاکہ عوام کو سستا انصاف فراہم کیا جا سکے۔
مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر جاوید عباسی کے ذریعہ اس بل کو پیش کرنے کی کوشش کی گئی جس کی وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور علی محمد خان نے مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ اس بل کی موجودہ شکل اختیارات کی تین حصوں میں تقسیم کی سوچ متاثر ہو گی اور اسے ایگزیکٹو کے اختیارات میں پارلیمنٹ کی مداخلت تصور کیا جائےے گا تاہم اپوزیشن نے ان کے موقف کو مسترد کردیا۔ گرما گرم بحث کے بعد بل کو ووٹ کے لیے ڈال پیش کیا گیا، اگرچہ بل کے حق میں 57 اور اس کے خلاف 13 ووٹ ڈالے گئے تاہم یہ اقدام ناکام رہا کیونکہ آئینی ترمیمی بل کی منظوری کے لیے دو تہائی اکثریت (104 رکنی ایوان میں کم از کم 69 سینیٹرز) کی ضرورت ہے۔ حزب اختلاف نے حکومت کے اس طرز عمل کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے ایوان سے واک آؤٹ کیا۔
قبل ازیں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے قانون کے سربراہ جاوید عباسی نے کہا تھا کہ کمیٹی کی جانب سے اتفاق رائے سے بل کی منظوری کے بعد قانونی چارہ جوئی کرنے والے سیکڑوں ہزاروں افراد کی زندگیاں آسان ہوجائیں گی جنہیں دور دراز علاقوں سے سفر کر کے آنا پڑتا ہے اور ہوٹل کے بلوں کی قیمت برداشت کرنے کے ساتھ ساتھ وکیل کے اضافی اخراجات بھی برداشت کرنا پڑتے ہیں۔ علی محمد خان نے اس بل کی روح کو سراہتے ہوئے اصرار کیا کہ اس بل کے ساتھ تکنیکی مسائل ہیں اور معاملہ دوبارہ کمیٹی کے حوالے کرنے کی درخواست کی، انہوں نے حکومت اور اپوزیشن کو اتفاق رائے سے بل لانے کی تجویز پیش کی۔
بل کی منظوری ناکامی کا شکار ہونے کے بعد جاوید عباسی نے کہا کہ حکمران جماعت پی ٹی آئی بے نقاب ہو گئی ہے اور یہ بات سب کو معلوم ہوگئی ہے کہ وہ لوگوں کو سستا انصاف فراہم کرنے میں دلچسپی نہیں رکھتے، انہوں نے کہا کہ یہ بل صرف اس لیے ناکمای سے دوچار ہوا کیونکہ یہ حزب اختلاف نے پیش کیا تھا۔ لاہور ہائیکورٹ کی صوبائی دارالحکومت میں اصولی نشست ہے لیکن اس کے علاوہ راولپنڈی، ملتان اور بہاولپور میں بھی بینچ موجود ہیں اور اس بل میں پنجاب میں مزید چار بینچ بنانے کا مطالبہ کرتے ہوئے سرگودھا، گوجرانوالہ، فیصل آباد اور ڈیرہ غازی خان می بینچ بنانے کا مطالبہ کیا گیا۔
سندھ ہائی کورٹ کی کراچی میں اصولی بینچ کے علاوہ صرف سکھر مں ایک بینچ میں ہے اور بل میں حیدرآباد اور لاڑکانہ میں اضافی بینچوں کے قیام کا مطالبہ کیا گیا تھا ۔
پشاور ہائی کورٹ کی خیبر پختونخوا کے دارالحکومت میں مرکزی بینچ ہے جبکہ اس کے علاوہ ایبٹ آباد، مینگورہ اور ڈیرہ اسماعیل خان میں بھی بینچ موجود ہیں اور اس بل کے تحت مہمند ایجنسی اور شمالی وزیرستان میں بھی بینچز کے قیام کی تجویز دی گئی تھی۔
کوئٹہ میں اصولی بینچ کے علاوہ بلوچستان ہائی کورٹ کے سبی اور تربت میں بھی بینچ ہیں اور اس بل میں خضدار اور لورالائی میں نئے بنچوں کی تجویز دی گئی تھی۔
بعد میں اپوزیشن کے اراکین کو ایک اور بل پر ووٹنگ کے لیے ایوان میں آنے پر راضی کیا گیا۔ سینیٹ میں پیپلز پارٹی کی پارلیمانی لیڈر شیری رحمٰن نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 63 میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ اگر پارلیمنٹ کا رکن غیر ملکی ریاست کی شہریت حاصل کرلیتا ہے تو وہ نااہل ہے، اس آرٹیکل کے تحت کچھ اراکین کو دونوں ایوانوں سے تاحیات نااہل کردیا گیا ہے تاہم انہوں نے حیرانی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کن وجوہات اور اخلاقیات کے تحت وزیر اعظم کے معاون خصوصی نے دو ممالک کا حلف اٹھایا ہے؟۔
سینیٹر رحمان نے کہا کہ اس سلسلے میں میڈیا پر مباحثوں نے حکومت کی کارکردگی کو سیاسی اور اخلاقی طور پر بے نقاب کردیا ہے، وزیر اعظم عمران خان نے خود قانون سازوں کی دوہری شہریت کی مخالفت کی ہے اور ان کا کہنا ہے کہ فیصلہ سازی میں صرف پاکستانیوں کا کردار ہونا چاہیے، انہوں نے کہا کہ حساس اداروں میں دوہری شہریوں کو ملازمت نہیں دی جاسکتی، انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم کہا کرتے تھے کہ پاکستانیوں کو ملک کے معاملات چلانے چاہئیں۔
سینیٹ کے سابق چیئرمین اور پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما میاں رضا ربانی نے بھی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ جب کسی شخص نے دوسرے ملک سے حلف لیا ہوتا ہے تو اس نے اس ملک سے اپنی وفاداری ثابت کی ہوتی ہے، دہری شہریت کے حامل جن اراکین کو کابینہ میں فیصلہ سازی کے لیے بیٹھنے کی اجازت دی جارہی ہے وہ پارلیمنٹ کے رکن بننے کے ہی اہل نہیں ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button