حکومت کے لیے سعد رضوی کو مزید قید رکھنا مشکل ہو گیا

حکومت پنجاب کی جانب سے تحریک لبیک پاکستان کے سربراہ علامہ ساجد رضوی کو مزید جیل کی سلاخوں کے پیچھے رکھنا ممکن نظر نہیں آتا اور ان کی رہائی کے امکانات روشن ہوچکے ہیں۔
9 اکتوبر کو حکومت پنجاب نے وفاقی نظر ثانی بورڈ میں کالعدم تحریک لبیک پاکستان کے سربراہ حافظ سعد رضوی کی نظر بندی میں توسیع کی درخواست واپس لے لی۔ سپریم کورٹ کے جسٹس مقبول باقر کی سربراہی میں 3 رکنی بورڈ نے ویڈیو لنک کے ذریعے سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں سعد رضوی سمیت نظر بند ملزمان کے معاملے پر سماعت کی۔ نظرِ ثانی بورڈ نے استفسار کیا کہ جب ہائی کورٹ نے نظر بندی کالعدم قرار دے دی ہے تو پھر کس بنیاد پر ان کی نظر بندی میں توسیع مانگی جا رہی ہے؟
چنانچہ پنجاب حکومت نے مجبوری میں کالعدم تنظیم کے سربراہ کی نظر بندی میں توسیع کی درخواست واپس لے لی۔ وفاقی نظر ثانی بورڈ نے حکم دیا کہ اگر سعد رضوی کسی اور کیس میں مطلوب نہیں ہیں تو انہیں رہا کر دیا جائے۔ سعد رضوی کے وکلا کا کہنا ہے کہ اب حکومت کے پاس تحریک لبیک کے سربراہ کو مزید جیل میں رکھنا ممکن نہیں رہا اور ان کی رہائی جلد متوقع ہے۔ یاد رہے کہ یکم اکتوبر کو لاہور ہائیکورٹ نے کالعدم ٹی ایل پی کے سربراہ سعد رضوی کی نظر بندی کو کالعدم قرار دیا تھا۔ عدالت نے سعد رضوی کے چچا امیر حسین کی درخواست پر فیصلہ سنایا تھا جبکہ پنجاب حکومت اور وفاقی حکومت کے وکلا نے درخواست کی مخالفت کی تھی۔ تاہم حکومت نے انہیں رہا نہیں کیا تھا اور ان کی نظربندی میں توسیع کی درخواست دائر کر دی تھی۔
خیال رہے کہ سعد رضوی کو ان کی جماعت کی جانب سے گستاخانہ خاکوں کے معاملے پر فرانس کے سفیر کی ملک بدری کے مطالبے کے سلسلے میں ملک بھر میں دھرنوں کے بعد گرفتار کیا گیا تھا۔ دھرنوں کے دوران مظاہرین مشتعل ہوگئے تھے اور انہوں نے پولیس پر حملہ کردیا تھا۔ گزشتہ برس میں فرانس میں سرکاری سطح پر گستاخانہ خاکوں کی اشاعت پر مسلم دنیا میں سخت ردعمل آیا تھا خاص طور پر پاکستان میں بھی اس کی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی تھی اور تحریک لبیک پاکستان نے اسلام آباد میں احتجاج کیا تھا جسے حکومت کے ساتھ 16 نومبر کو معاہدے کے بعد ختم کردیا گیا تھا۔ لیخن مطالبات کی عدم منظوری پر تحریک لبیک نے 16 فروری کو اسلام آباد میں مارچ اور دھرنے کا اعلان کیا تھا۔
بعدازاں مہلت ختم ہونے کے باوجود حکومت کی جانب سے مطالبات کی عدم منظوری اور معاہدے پر عملدرآمد نہ کیے جانے پر تحریک لبیک نے 20 اپریل کو ملک گیر مظاہرے کیے تھے جس کے بعد سعد رضوی کو گرفتار کیا گیا تھا۔ واضح رہے کہ نظر ثانی بورڈ نے 2 جولائی کو سعد رضوی کی نظربندی میں توسیع کے لیے حکومتی درخواست مسترد کر دی تھی۔ توسیع نہ ہونے پر سعد رضوی کو انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت 10 جولائی کو دوبارہ نظر بند کر دیا گیا تھا جس کے خلاف لاہور ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی گئی تھی۔
