حکومت IMF کے معاشی اہداف حاصل کرنے میں ناکام

پاکستان تحریک انصاف کی حکومت شروعات سے ہی ملکی معیشت کو بہتر بنانے میں ناکامی کا شکار رہی ہے۔ تاہم اب اس کی مشکلات میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔ ایف بی آر کی طرف سے ٹیکس ٹارگٹ حاصل کرنے میں ناکامی اور ستمبر 2019 کیلئے ریفنڈ بقایا جات کے ذخیرے میں کمی کرنے سے متعلق دو اہداف پورے نہ ہونے کے باعث پاکستان کو آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ سے استثنٰی کی درخواست کرنا پڑے گی۔
بیرون ملک سے ’ہاٹ منی‘ کے ذریعےآئی ایم ایف پروگرام کے تحت مطلوبہ ہدف تک غیر ملکی کرنسی کے ذخائر میں اضافے اور خالص بین الاقوامی ذخائر کو حتمی شکل دینے کیلئے حکومت نے غیر ملکی سرمایہ کاروں کے ذریعے 328 ملین ڈالرز سر کاری بانڈز اور ٹریژری بلز میں لگانے کیلئے قائل کرلیا ہے۔ 14 فیصد سے زائد کی رینج میں زیادہ شرح سود پر یہ ہاٹ منی بہت زیادہ متنازع اقدام ہے جس پر مسلسل کئی آزاد ماہرین معاشیات کی جانب سے تنقید کی جاتی رہی ہے لیکن پالیسی سازوں کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگی۔
تاہم حکومت ستمبر 2019 تک 23 ارب روپے کے بڑے گردشی قرضے میں کمی کرنے کیلئے کیلئے تیسرے اشارتی ہدف پورا کرنے میں بھی مشکل کا سامنا کر رہی ہے جیسا کہ تازہ ترین تخمینے بتاتے ہیں کہ گردشی قرضے گزشتہ تین ماہ (جولائی تا ستمبر) میں 60 ارب روپے تک بڑھ گئے ہیں۔
ستمبر 2019 کیلئے آئی ایم ایف کے اشارتی ہدف کے تحت 23 ارب روپے پاور سیکٹر کے بقایا جات میں کمی کیلئے حکومت اسے مطلوبہ حدود میں رکھنے کی پوری کوشش کر رہی ہے۔تاہم وزارت خزانہ اور پاور کی اعلیٰ شخصیات کئی کوششوں کے باوجود اس موضوع پر گفتگو کرنے میں ہچکچاہٹ کا شکار ہے۔ ایف بی آر کے 1071 ارب روپے کے سہہ ماہی ہدف پر ایف بی آر نے 1070 ارب روپے اکٹھے کرلئے ہیں اور ڈومیسٹک ٹیکسز کے محاذ پر متاثر کن ترقی دکھائی ہے۔
