حیدرآباد میں تبلیغی جماعت کا علاقائی مرکز قرنطینہ قرار

حیدرآباد کی مقامی انتظامیہ نے کورونا وائرس کا کیس سامنے آنے کے بعد تبلیغی جماعت کے علاقائی مرکز کو قرنطینہ قرار دے کر 210 اراکین کو مسجد سے باہر جانے سے روک دیا۔مقامی انتظامیہ کے مطابق چین سے تعلق رکھنے والے تبلیغی جماعت کے ایک رکن کا کورونا وائرس ٹیسٹ مثبت آیا تھا جس کے بعد مرکز میں موجود 210 افراد کو باہر جانے سے روک دیا گیا۔متاثرہ شخص کو گزشتہ روز ہی سول ہسپتال کے آئسولیشن وارڈ منتقل کیا گیا تھا جبکہ ان کے بھائی کا ٹیسٹ منفی آیا تھا۔
ایس ایس پی حیدرآباد عدیل چانڈیو نے مسجد کو قرنطینہ قرار دینے کی تصدیق کی اور کہا کہ تمام افراد کو وہی روک دیا گیا ہے۔پولیس اور مقامی انتظامیہ نے حفاظتہ اقدامات کے طور پر مرکز میں موجود تمام افراد کو باہر جانے کی اجازت نہیں دی جبکہ متاثرہ شخص اور ان کے بھائی کو لطیف آباد کے کوہسار ہسپتال میں رکھا گیا ہے جہاں مشتبہ افراد کے لیے قرنطینہ بنایا گیا ہے۔انچارج ڈاکٹر سریش کا کہنا تھا کہ جب مذکورہ فرد میں وائرس مثبت آیا تو مریض کو لیاقت یونیورسٹی ہسپتال کی سٹی برانچ میں منتقل کردیا گیا تھا جبکہ ان کے بھائی کو اب بھی قرنطینہ میں رکھا گیا ہے تاہم ان کی رپورٹ منفی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ انہیں احتیاطی طور پر قرنطینہ میں رکھا گیا ہے۔
خیال رہے کہ حیدر آباد میں اب تک 4 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جن میں سے 2 مقامی ہیں جبکہ ایران کا سفر کرنے والی متاثرہ خاتون صحت یاب ہوچکی ہیں تاہم ان کا چھوٹا بیٹا بھی متاثرہ ہوا تھا۔حکومت سندھ نے کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے صوبے بھر میں نماز جمعہ کے اجتماع پر پابندی عائد کردی تھی اور مساجد میں باجماعت نماز بھی معطل کرنے کا اعلان کردیا تھا۔وزیر اعلیٰ سندھ کے مشیر بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے کہا تھا کہ حکومت نے تمام مسالک کے علما سے مشاورت کرنے کے بعد یہ فیصلہ کیا۔
واضح رہے کہ پاکستان میں کورونا وائرس کا پہلا کیس کراچی میں 26 فروری کو سامنے آیا تھا جو صوبہ سندھ کا بھی پہلا کیس تھا تاہم متاثرہ نوجوان مکمل صحت یابی کے بعد ہسپتال سے ڈسچارج ہوچکے ہیں جبکہ صوبے میں متاثرین کی تعداد 400 سے تجاوز کرگئی ہے۔پاکستان میں اس وقت کورونا وائرس کے کیسز کی مجموعی تعداد 1415 ہوچکی ہے اور 12 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔
صوبوں کے اعتبار سے پنجاب سرفہرست ہے جہاں 497 کیسز ہیں، سندھ میں 457، خیبرپختونخوا میں 180، بلوچستان میں 133، گلگت بلتستان میں 107، اسلام آباد میں 39 اور آزاد کشمیر میں 2 افراد متاثر ہوئے ہیں تاہم اچھی بات یہ ہے کہ ایک ماہ سے زائد عرصے میں اس وائرس سے 25 افراد صحت یاب بھی ہوچکے ہیں۔
