خاتون صحافی نسیم زہرہ نے جنرل باجوہ کو جھاڑ کیوں پلائی؟

معروف اینکر پرسن حامد میر نے انکشاف کیا ہے کہ اپنی ریٹائرمنٹ سے پہلے صحافیوں سے آخری ملاقات میں جنرل قمر باجوہ نے نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی اسلام آباد میں صحافیوں کے حوالے سے ریڈ لائن کراس کی تو خاتون صحافی نسیم زہرہ نے انہیں جھاڑ پلادی۔ نسیم زہرہ نے جنرل باجوہ سے کہا کہ آپ نے صحافیوں پر ٹیکس چوری کا الزام لگایا ہے تو اسے ثابت کرنے کے لیے ثبوت بھی دیں ورنہ اپنے الفاظ واپس لیں۔ حامد میر نے بتایا کہ جنرل باجوہ نے نسیم زہرہ کو دبانے کی کوشش کی لیکن جب اس جرات مند خاتون نے بھی جواب میں بلند آواز میں آرمی چیف سے بار بار کہا کہ ثبوت کے ساتھ بات کریں تو پاکستان کی طاقتور ترین شخصیت نے بات بدل دی۔
حامد میر نے اپنی ایک تحریر میں لکھا ہے کہ حقیقت یہ ہے کہ سویلینز کی کمزوریاں سازشی جرنیلوں کی طاقت بنتی ہیں۔ چونکہ نسیم زہرا کی کوئی کمزوری باجوہ کے پاس موجود نہیں تھی لہٰذا انہوں نے ایک منٹ میں آرمی چیف کو چپ کرا دیا جس کے بعد موصوف بات بدل گئے تا کہ جان چھڑوائی جا سکے۔

تاہم مکافات عمل کے اصول کے تحت جنرل باجوہ کی ریٹائرمنٹ سے چند روز پہلے ہی معروف تحقیقاتی ویب سائٹ فیکٹ فوکس نے جنرل باجوہ کی اپنی ٹیکس چوری اور جائیدادوں کا سکینڈل بے نقاب کر دیا۔ ’فیکٹ فوکس‘ میں احمد نورانی کی رپورٹ میں ٹیکس گوشواروں اور ویلتھ سٹیٹمنٹ کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا گیا تھا کہ جنرل باجوہ کے خاندان نے گزشتہ 6 برسوں میں 12 ارب روپے سے زائد کی جائیدادیں اور اثاثے بنائے۔ باجوہ خاندان کی جائیداد اور اثاثوں کے حوالے سے خبر بریک کرنے سے پہلے فیکٹ فوکس نامی تحقیقاتی ویب سائٹ نے سابق وزیر اعظم عمران خان، سابق فوجی حکمراں جنرل پرویز مشرف اور سابق فوجی ترجمان لیفٹیننٹ جنرل عاصم سلیم باجوہ کی کرپشن کے حوالے سے بھی خبریں شائع کی ہیں۔

آرمی چیف کے خاندان کے مبینہ ٹیکس ریکارڈ کے حوالے سے جاری فیکٹ فوکس کی رپورٹ کے دعووں کے مطابق پاکستان کے اندر اور باہر آرمی چیف کے معلوم اثاثوں اور کاروبار کی موجودہ مارکیٹ ویلیو 12 ارب 70 کروڑ روپے ہے۔ ویب سائٹ نے اپنی رپورٹ میں 2013 سے 2021 تک جنرل قمر جاوید باجوہ اور ان کے خاندان کی مبینہ ویلتھ اسٹیٹمنٹس بھی شیئر کی ہیں۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ جنرل باجوہ کی اہلیہ عائشہ امجد کے اثاثے جو 2016 میں صفر تھے، وہ بعد کے 6 برسوں میں 2 ارب 20 کروڑ روپے ہو گئے۔ رپورٹ میں دعویٰ کہا گیا ہے کہ اس رقم میں فوج کی جانب سے ان کے خاوند کو ملنے والے رہائشی پلاٹ، کمرشل پلاٹ اور مکانات شامل نہیں ہیں۔

Back to top button