خاموش رہیں اندر لڑکی قتل ہو رہی ہے

گھر بڑا نہیں ہے، باہر محافظوں کی بھی چوکی نہیں، کبھی کبھی محلے والوں کو چیخوں کی آواز بھی آتی ہے، رشتے دار آتے جاتے لڑکی کے زخم بھی دیکھ جاتے ہیں۔ لڑکی چار بچوں کی ماں بھی بن جاتی ہے۔ بچے اپنے قاتل باپ کے ڈر سے خاموش ہیں، یار دوست کبھی سمجھاتے بھی ہیں لیکن ساتھ ساتھ یہ حوصلہ بھی دیتے ہیں کہ وہ مرد ہی کیا جو بیوی کو دو چار ہاتھ نہ لگا سکے لیکن وہ بھی خاموش ہیں یہ جاننے کے باوجود کہ ان کے دوست کی اب مار پیٹ سے بھی تسلی نہیں ہوتی۔لڑکی پھر قتل ہو جاتی ہے، اب ہمیں خاموشی توڑنے کی اجازت ہے، اب ہم ماتم بھی کر سکتے ہیں، ہیش ٹیگ بھی بنا سکتے ہیں، فوری پھانسی کا مطالبہ بھی کر سکتے ہیں، مرد کو درندہ بھی کہہ سکتے ہیں، میرا جسم میری مرضی والوں کو ایک بار پھر گالی دے سکتے ہیں، فیتہ پکڑ کر لڑکی کے لباس کی پیمائش بھی کر سکتے ہیں، ہمارے مثالی خاندانی نظام کا رونا بھی رو سکتے ہیں کیونکہ اس کے بعد اگلی لڑکی کے قتل تک ہمیں پھر خاموش ہونا ہے۔
ایک دفعہ میں نے چھ مہینے تک ہر روز کراچی کے اخباروں کے مقامی صفحات میں صرف عورتوں کی قتل کی خبروں کی تلاش میں گزارا۔ چھ مہینے میں شاید ہی کوئی ناغہ ہوا ہو جس دن کراچی میں عورت قتل نہیں ہوئی۔کبھی گولی مار کے، کبھی ہاتھوں سے گلا دبا کے، کبھی شہ رگ کاٹ کے، کبھی باورچی خانے میں جلا کر، کبھی بوری میں بند کر کے، کبھی ٹکڑے کر کے ندی میں بہا دیا تو کبھی گھر کے صحن میں دبا دیا۔ہمارے ہمدرد مرد جب یہ کہتے ہیں کہ لڑکیوں کے لیے جان بچانے کا واحد طریقہ یہ ہے کہ وہ گھر سے نہ نکلیں یا کسی اجنبی سے نہ ملیں تو وہ یہ نہیں بتاتے کہ 80 فیصد لڑکیوں کو قتل ہونے کے لیے گھر سے نہیں نکلنا پڑتا۔لڑکی کا قتل ہمارے مثالی خاندانی نظام کا لازمی حصہ ہے اور اس سے پہلے ایک گہری خاموشی مردانہ معاشرتی نظام کی اساس ہے۔ تو خاموش رہیں لیکن یہ یاد رکھیں کہ آپ کی خاموشی کی وجہ سے ایک اور لڑکی قتل ہونے جا رہی ہے۔
تحریر:محمد حنیف ، بشکریہ بی بی سی اردو
