خاوند کوئی بھی ہو تہمینہ ڈٹ کر ساتھ کھڑی ہوتی ہیں

سابق وزیرِ اعلیٰ پنجاب شہباز شریف کی چوتھی مگر سب سے چہیتی بیگم تہمینہ درانی سوشل میڈیا پر اپنے موجودہ شوہر کے دفاع میں آج کل پھر واویلا مچاتی نظر آ رہی ہیں۔ کچھ ایسا ہی واویلا وہ ماضی میں اپنے پہلے شوہر غلام مصطفی کھر کی رہائی کے لیے کیا کرتی تھی جب انہیں جیل میں ڈال دیا گیا تھا۔ ویسے شہباز شریف تو تہمینہ کے دیوانے ہیں ہی، تہمینہ بھی اپنے اس شوہر کی کم دیوانی نہیں؟ یہ اور بات کے تہمینہ ماضی میں اپنے سابق شوہر غلام مصطفی کھر کی بھی اتنی ہی دیوانی ہوتی تھیں۔
اسے تہمینہ کی خوش قسمتی یا سمجھ داری سمجھئے کہ ان کے سابق شوہر کھر پنجاب کے گورنر تھے اور ان کے موجودہ شوہر شہباز پنجاب کے سابق وزیراعلی ہیں۔ یہ بھی ایک حقیقت یے کہ جب بھی تہمینہ کے موجودہ شوہر یعنی ایکس چیف منسٹر شہباز سریف پر کڑا وقت آیا ہے یا نیب میں پیشی کے لئے بلاوا آیا تو تہمینہ نے فوراً سوشل میڈیا کا محاذ سنبھال لیا۔ حال ہی میں دوبارہ احتساب بیورو کے شہباز شریف کے خلاف متحرک ہو جانے کے بعد ایک طویل عرصہ کے بعد تہمینہ بھی ٹوئٹر پر دوبارہ متحرک ہوئی ہیں تاکہ اپنے شوہر پر نیب کا شکنجہ کسے جانے سے پہلے انھیں بحفاظت نکال کر لے جایئں۔ تاہم اس بار جیسے ہی چھوٹے میاں کے دفاع میں تہمینہ کی ٹوئٹس منظرِ عام پر آئیں، سوشل میڈیا صارفین ان پر برس پڑے۔
بقول تہمینہ، حکومت ان کے شوہر اور جیٹھ جی نواز سریف سے کروڑوں کا بھتہ وصول کرنے کے لئے اربوں روپے کے وسائل ہوا میں اُڑا رہی ہے جبکہ اس کے کچھ ہاتھ آنے والا نہیں۔ تہمینہ کہتی ہیں کہ حکومت کو یہ جان لینا چایئے کہ سیاست کی سائنس چوکے چھکے مارنے یا وکٹیں گرانے سے نہیں آتی؟ ویسے بھی کپتان نے میرے شوہر کے بنائے گئے پلوں پر اپنے نام کی تختیاں لگانے کے علاوہ اور کیا ہی کیا ہے؟
ایک اور ٹوئٹ میں تہمینہ نے حکومت پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے علاوہ پوری دنیا کے حکمران اپوزیشن کو ساتھ لے کر کرونا کی مشکل گھڑی کا مقابلہ کر رہے ہیں لیکن ہمارے حکمران اب بھی اپنی اوچھی سیاست سے باز نہیں آتے۔ اسلامی ریاستیں اسی لئے زوال کا شکار ہیں کہ ان میں اتحاد نام کی کوئی چیز نہیں۔ تہمینہ نے شدید حیرت اور صدمے کے ساتھ لکھا کہ سابق وزیرِ اعلیٰ شہباز شریف کی مہارت، تجربے اور خدمات سے کوئی فائدہ ہی نہیں اُٹھا رہا؟ کیا ”ڈینگی برادرز“ کسی کو یاد نہیں؟ یہاں ڈینگی کو کس نے مار بھگایا تھا؟
اب تہمینہ نے تو شوہر کی محبت میں یہ سب کہہ ڈالا لیکن سوشل میڈیا کی مخلوق کب چپ رہتی ہے۔ صارفین نے یہاں تک لکھا کہ 69 سال کے بوڑھے بیمار، کینسر کے مریض، جنھیں کرونا کے خطرے کے پیشِ نظر ڈاکٹر نے باہر نکلنے سے منع کر دیا ہے، وہ اب قوم کی کیا خدمت کر سکتے ہیں؟ ایک صارف نے لکھا کہ ”شریف فیملی“ اب تاریخ کا حصہ بن چکی ہے جسے اپنی کرپشن اور بدعنوانیوں کی وجہ سے لوگ شاید ہی کبھی بھُلا پائیں گے ویسے بھی یہ ڈینگی نہیں کرونا ہے کرونا…لوگ کچھ بھی کہیں مگر یہ طے ہے کہ تہمینہ شوہر پر جان چھڑکنے والی وفا شعار بیوی کا کردار نبھانا خوب جانتی ہیں لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ خاوند یا تو گورنر ہوا یا وزیراعلی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button