خبردار، ائیرکنڈیشنر سے بھی کرونا وائرس پھیل سکتا ہے

چین میں ہونے والی تازہ ترین تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ کرونا وائرس کے پھیلاؤ میں ائیرکنڈیشنر بھی معاون ثابت ہوتا ہے۔ چینی ماہرین کے انکشاف نے لوگوں میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔
گزشتہ سال چین کے شہر ووہان سے پھیلنے والے کرونا وائرس نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے، جب سے یہ وائرس سامنے آیا ہے اس وقت سے لے کر اب تک سائنسدان مسلسل اس وائرس کے حوالے سے مختلف تحقیقات میں مصروف سے ہیں کہ یہ وائرس پھیلا کیسے، کس کس طرح پھیلتا ہے، اس سے بچا کیسے جائے اور اس کاعلاج کیا ہے، یہی وجہ ہے کہ روز ایک نئی تحقیق سامنے آتی ہے جو گزشتہ تحقیق سے اکثر مختلف ہوتی ہے۔
اب چین میں ہونے والی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ کرونا وائرس کے پھیلاؤ میں ائیرکنڈیشنر بھی معاون ثابت ہوسکتا ہے۔ جنوبی چین کے ایک ریسٹورنٹ میں جانے والے 3 خاندانوں کے 10 افراد میں کرونا وائرس کی تصدیق ہونے پر اس حوالے سے تحقیق میں عندیہ دیا گیا کہ ائیرکنڈیشنر نے ان لوگوں میں وائرل ذرات کی منتقلی میں معاونت کی۔
ماہرین کی تحقیق کے مطابق چین کے گوانگزو شہر کے ایک ریسٹورنٹ میں ائیرکنڈیشنر سے ہوا کے بہاؤ سے کرونا کے وائرل ذرات 3 میزوں تک بیٹھے لوگو تک پہنچے۔ محققین نے مشورہ دیا ہے کہ میزوں کے درمیان فاصلے کو بڑھانے اور اے سی سے ہوا کے اخراج کے نظام کو بہتر کرکے اس طرح کے وائرس انفیکشن کا خطرہ کم کیا جاسکتا ہے۔
چینی تحقیق کے مطابق ان 10 مریضوں میں سے ایک ووہان سے واپس آیا تھا، یعنی وہ شہر جہاں سب سے پہلے یہ وائرس پھیلنا شروع ہوا۔ اس مریض نے اگلے دن ریسٹورنٹ میں خاندان کے 3 افراد کے ساتھ دوپہر کا کھانا کھایا، اس ریسٹورانٹ میں کھڑکی نہیں تھی بلکہ ہر ایک منزل پر ایک ائیرکنڈیشنر موجود تھا۔ اسوقت دو دیگر خاندان بھی ارگرد کی میزوں پر موجود تھے اور ان میں ایک میٹر کا فاصلہ تھا جبکہ اوسطاً ایک گھنٹے تک وہ لوگ وہاں موجود رہے۔ پہلے مریض میں اسی دن بخار اور کھانسی کی علامات سامنے آگئیں اور وہ اسپتال چلا گیا، اگلے 2 ہفتے میں اس کے خاندان کے مزید 4 افراد، دوسرے خاندان کے 4 اور تیسرے خاندان کے 3 افراد کرونا وائرس سے ہونے والی بیماری کووڈ 19 کے شکار ہوگئے۔
تفصیلی تحقیقات کے بعد چینی سائنسدانوں نے دریافت کیا کہ دوسرے اور تیسرے خاندان میں اس وائرس کے پہنچنے کی وجہ ریسٹورنٹ میں موجود پہلا مریض تھا۔ تحقیق کے مطابق وائرس کی ترسیل کے ممکنہ ذرائع کا جائزہ لینے کے بعد ہم نے نتیجہ نکالا کہ اس کی ممکنہ وجہ وائرل ذرات ہی ہوسکتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ مزید تجزیے سے معلوم ہوا یہ وائرل ذرات ائیرکنڈیشنر کے وینٹی لیشن سے پھیلے۔ چینی
سائنسدانوں نے دریافت کیا کہ اسی منزل پر پہلے مریض کے ساتھ 73 مزید افراد بھی کھانا کھا رہے تھے مگر ان میں بیماری کی علامات 14 دن کے قرنطینہ میں ظاہر نہیں ہوئیں اور ٹیسٹ بھی نیگیٹو رہے، اسی طرح ریسٹورنٹ کے عملے میں سے بھی کوئی متاثر نہیں ہوا۔ محققین کا کہنا تھا کہ تحقیق محدود پیمانے پر ہوئی کیوں کہ اس میں تجربہ کرکے اس تھیوری کو آزمایا نہیں گیا، تاہم اس طرح کے مسئلے سے بچنے کا بہتر طریقہ یہ ہے کہ ائیرکنڈیشنر کا استعمال کریں مگر کھڑکیوں کو بھی اکثر کھول لیا کریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button