خبردار، پاکستان میں کرونا سے نمٹنے کے لیے تیاریاں ادھوری ہیں

خونخوار کرونا وائرس پاکستان پہنچ چکا ہے مگر ایک حقیقت واضح ہے کہ حکومت پاکستان اس سے نمٹنے کے لیے بالکل بھی تیارنظر نہیں آتی۔
حیرت انگیز بات یہ ہے کہ پاکستان بھر کی کسی بھی لیبارٹری میں کرونا وائرس کی تشخیص کے لیے مطلوبہ کیمیکل ہی دستیاب نہیں جو انسانی جسم میں اس مہلک وائرس کے ہونے یا نہ ہونے کا سراغ لگانے میں مدد دیتا ہے۔ اس طرح صوبہ بلوچستان اور سندھ میں کرونا وائرس کے کیس سامنے آنے کے باوجود ابھی تک ملک کے کسی بھی صوبے میں قرنطینہ مراکز بھی قائم نہیں کئے گئے جہاں اس مرض کا شکار ہونے والوں کو ائسولییٹ کرکے ان کا علاج کیا جاتا ہے۔ اس بنا پر خدشے کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ یہ مہلک وبا خدانخواستہ پاکستانیوں کے لئے قیامت نہ لے آئے جیسی کہ ہمسایہ ملک چین میں آچکی ہے۔
چین میں کرونا وائرس پھیلنے سے دنیا بھر میں اس وبا کے پھیلنے کے خدشات پہلے ہی درست ثابت ہورہے ہیں۔ کرونا وائرس اس وقت دنیا کے جن 24 سے زیادہ ممالک میں پھیل چکا ہے ان میں چین کے علاوہ دو اور پاکستان کے ہمسایہ ممالک افغانستان اور ایران شامل ہیں۔
پاکستان میں کرونا وائرس کے مریض سامنے آنے کے بعد اب ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت پاکستان ہنگامی بنیادوں پر اس مرض کی تشخیص کے لیے لئے دستیاب ٹیکنالوجی حاصل کرے اور چین سے اس کے علاج کی ویکسین منگوائے۔ چین نے اس وبا سے نمٹنے کے لیے غیر معمولی اقدامات کیے ہیں۔ جدید دنیا کی تاریخ میں پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ کروڑوں کی تعداد میں لوگوں کی نقل و حرکت کو محدود کر دیا گیا ہے، عوامی اجتماعات پر پابندی ہے اور سینیما گھر بند کیے جا رہے ہیں، جبکہ دوسری طرف اس وائرس کا توڑ کرنے کے لیے سرتوڑ کوششیں ہو رہی ہیں اور مریضوں کے علاج کے لیے راتوں رات ایک جدید ہسپتال تعمیر کیا گیا۔ لیکن سوال یہ ہے کہ پاکستان میں کرونا کی روک تھام کے لیے کیا ہو رہا ہے؟ اگر خدانخواستہ یہاں کرونا وائرس کی وبا پھیل جاتی ہے تو کیا ہو گا؟ اس حوالے سے پاکستان کے قومی ادارہ برائے صحت کے چیف پبلک ہیلتھ لیبارٹریز ڈویژن ڈاکٹر محمد سلمان کا کہنا ہے کہ کرونا وائرس سے نمٹنے کے لیے وزارتِ صحت نے ایک ہنگامی مرکز قائم کیا ہے جس میں قومی سطح کی ٹیمیں بنائی گئی ہیں۔ ان میں خاص طور پر نگرانی اور جوابی کارروائی کا بندوبست کیا گیا ہے تاکہ مرض کی جلد تشخیص ہو سکے اور تشخیص کے بعد اسے محدود کیا جا سکے۔ اس کے علاوہ لوگوں کی آگہی کے لیے بھی ٹیم بنا دی گئی ہے تاکہ انہیں خطرے کے بارے میں بتایا جا سکے۔ڈاکٹر سلمان کا کہنا تھا کہ اس مقصد کے لیے روزانہ کی بنیاد پر وزیرِ صحت کی نگرانی میں میٹنگز ہو رہی ہیں، جبکہ قومی سطح پر قائم ہنگامی کمیٹی کا اجلاس ہر دو دن بعد ہو رہا ہے۔
اسلام آباد کے مضافات میں واقع نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ کے اندر 1983 سے وائرالوجی اور امیونالوجی سینٹر قائم ہے، جس کے اندر انفلوئنزا لیبارٹری بنائی گئی ہے۔ اس لیبارٹری میں پہلے ہی سے دوسرے وائرسز کے علاوہ کرونا وائرس کی تشخیص کی سہولیات بھی موجود ہیں لیکن حالیہ وائرس چونکہ کرونا وائرس گروپ کے اندر ایک نیا وائرس ہے اس لیے اس کی تشخیص کے لیے ہمارے پاس خصوصی کیمیکل (ریجنٹ) موجود نہیں ہے، البتہ وہ دو دن تک پہنچ جائے گا، جس کے بعد ہم ادارہ قومی صحت میں اس وائرس کے ٹیسٹ کی صلاحیت حاصل کر لیں گے۔
وزارت صحت کے مطابق ہوائی اڈوں پر تھرمل سکینر اور تھرمل گنز نصب کر دی ہیں جن کی مدد سے بخار والے مریض کی نشاندہی ہو سکتی ہے اور اگر کسی مسافر کے اندر کرونا وائرس کی دوسری علامات ملتی ہے تو ان کی تشخیص وہیں ہو سکے گی اور انہیں وہیں پر الگ تھلگ کر دیا جائے گا۔
یہاں ایک اور اہم سوال یہ ہے کہ پاکستانی ہسپتال کس حد تک تیار ہیں؟ اس حوالے سےڈاکٹر محمد سلمان کہتے ہیں کہ ہم نے وفاقی اور صوبائی دونوں سطحوں پر ہسپتالوں کو خبردار کر دیا ہے کہ وہ مریضوں کے قرنطینہ کا انتظام کر لیں تاکہ اگر کوئی مریض آتا ہے تو اسے اس جگہ پر الگ تھلگ کر کے ان کا مناسب علاج ہو سکے تاکہ بیماری عام لوگوں تک نہ پھیلے۔ تاہم انہوں نے تسلیم کیا کہ ہمارے پاس لوگوں کو بڑے پیمانے پر قرنطینہ میں رکھنے کی سہولیات موجود نہیں۔ ڈاکٹر محمد سلمان کے مطابق فی الحال عالمی ادارہ صحت کی جانب سے کوئی ایسی ہدایات موصول نہیں ہویئں۔ ڈاکٹر سلمان کے مطابق ابھی تک عالمی ادارہ صحت نے کرونا وائرس کو بین الاقوامی تشویش کی حامل ہنگامی صورت حال کے طور پر نشان زد نہیں کیا کیونکہ اس میں ہلاکتوں کی شرح دو فیصد سے زیادہ نہیں ہے۔ یاد رہے کہ حالیہ برسوں میں عالمی ادارہ صحت چار بار ایسی عالمی ہنگامی صورتِ حال کا اعلان کر چکا ہے، جن میں 2016 میں زیکا وائرس، 2014 میں ایبولا وائرس، 2014 میں پولیو کا خاتمہ، اور 2009 میں سوائن فلو پر جاری کیے گئے اعلامیے شامل ہیں۔
چین اور پاکستان کے دیگر ہمسایہ ممالک میں کرونا وائرس سے اموات کے بعد پاکستان بھی اس کی لپیٹ میں آ چکا ہے اور خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ معاشی بحران کا شکار پاکستان خدانخواستہ دیگرممالک کی نسبت اس بات سے زیادہ بری طرح متاثر ہو سکتا ہے کیونکہ حکومت کی جانب سے اس وبا کو روکنے کے لیے تاحال خاطر خواہ اقدامات نہیں کیے گئے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button