خبردار، ہوشیار: کورونا وائرس پاکستان آرہا ہے

چین میں تباہی مچانے کے بعد ایران میں بھی موذی کرونا وائرس پھیلنے سے ہلاکتوں کے بعد اب یہ اطلاعات ہیں کہ کرونا اب ایران سے بلوچستان کے بارڈر کے راستے پاکستان میں داخل ہو رہا ہے۔ پاکستانی حکام نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ تفتان کے بارڈر سے روزانہ ہزاروں افراد کے ایران سے پاکستان میں داخل ہونے سے پاکستان بھی کرونا وائرس کا شکار ہو سکتا ہے۔ صورتحال کو کنٹرول کرنے کے لیے بلوچستان کے سرحدی راستوں سے ایران جانے پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔ اس کے علاوہ پاکستانی حکام نے اس خدشے کا بھی اظہار کیا ہے کہ نئے سال کی چھٹیاں گزارنے کے بعد چین سے واپس آنے والے گوادر پراجیکٹ پر کام کرنے والے سینکڑوں چینی انجینئرز کو بھی پاکستان آنے سے روکنے کی کوششیں کی جارہی ہیں تاکہ وہ اپنے ساتھ کرونا وائرس نہ لے آئیں۔
بلوچستان کی حکومت نے پہلے ہی فیصلہ کر لیا ہے کہ وہ صوبے کی سرحدی علاقوں سے تاحکم ثانی کسی کو بھی ایران جانے کی اجازت نہیں دے گی۔ یہی نہیں بلکہ بلوچستان حکومت نے وفاقی حکومت سے اپیل کی ہے وہ ایرانی حکومت سے رابطہ کرکے ان پانچ ہزار زائرین کو اس وقت تک پاکستان نہ بھیجے جب تک ان کی 14یوم کی قرنطینہ کی مدت پوری نہ ہو جائے۔ حکومت بلوچستان کے ترجمان لیاقت شاہوانی کے مطابق بلوچستان سے ایران آمدورفت کے پانچ پوائنٹس ہیں۔ ایران میں کورونا وائرس پھیلنے کے بعد بلوچستان حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ ان تمام پوانٹس کے علاوہ دیگر سرحدی علاقوں سے کسی کو بھی تاحکم ثانی ایران جانے کی اجازت نہیں دی جائے گی ۔
اس سلسلے میں وفاقی حکومت کے علاوہ دیگر صوبائی حکومتوں کو مراسلہ تحریر کرکے درخواست کی گئی ہے کہ وہ بلوچستان حکومت سے تعاون کریں اور وہاں کے شہریوں کو اس وقت تک ایران جانے سے روکیں جب تک کورونا وائرس کے حوالے سے ایران میں صورتحال ٹھیک نہیں ہوجاتی۔
بلوچستان حکومت نے سرحدی حکام کو سختی سے تاکید کی ہے وہ کسی پاکستانی کو بھی ایران جانے کی اجازت نہ دیں۔ سرحدی شہر تفتان میں ایران جانے کے لیے جو 98 زائرین اور دیگر افراد موجود تھے ان کو بھی روک دیا گیا ہے اور واپس ان کے علاقوں میں بھیج دیا جائے گا ۔ پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ اس وقت پاکستان سے پانچ ہزار زائرین بلوچستان کے راستے ایران گئے ہیں جن کے حوالے سے وفاقی حکومت کو درخواست کی گئی ہے کہ وہ ایرانی حکومت سے رابطہ کرکے ان زائرین کو 14یوم تک کوارنٹین کرے ۔ان کا کہنا تھا کہ ایرانی حکومت سے یہ بھی کہا جائے کہ وہ صرف ان لوگوں کو بھیج دے جو کہ کلیئر ہوں۔
پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ جو زائرین ایران سے بلوچستان میں داخل ہوں گے ان کو بھی سرحدی علاقوں میں 14یوم کے لیے کوارنٹین میں رکھا جائے گا۔ اگر کسی میں کورونا وائرس پایا گیا تو ان کو سرحدی علاقوں میں قائم آئیسولیشن مراکز میں رکھا جائے گا ۔ جہاں علاج معالجے اور مکمل صحت مند ہونے کے بعد ان کو ان کے علاقوں کی جانب جانے دیا جائے گا ۔
خیال رہے کہ جنوری 2020سے اب تک ایران سے 7ہزار ایک سو 64 زائرین واپس آئے ہیں۔ حکومت پاکستان نے ان سے درخواست کی ہے کہ وہ اپنے متعلقہ علاقوں میں جاکر چیک اپ کروائیں۔ پاکستانی حکام کے مطابق خدانخواستہ صورتحال بہت زیادہ خراب ہوئی تو بلوچستان حکومت وفاقی حکومت سے ایران اور افغانستان کے ساتھ مکمل طور پر سرحد کو سیل کرنے کی درخواست کرے گی تاہم ابھی تک بلوچستان حکومت نے اپنے طور پر کسی کو ایران جانے کی اجازت نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ حفظ ماتقدم کے طور پر سرحدی علاقوں میں دیگر اقدامات کے ساتھ ساتھ دس ہزار ماسک بھی بھیجوا دیئے گئے ہیں ۔
اسی طرح تفتان میں سو خیمے بھیجے گئے ہیں جن میں آئیسو لیشن وارڈ بنائے جائیں گے ۔ پاکستان سے زائرین کو بلاروک ٹوک ایران جانے سے تو روک دیا گیا ہے مگر بلوچستان کے علاقے گوادر میں کام کرنے والے چینی انجینئر بھی آئندہ چند روز میں پاکستان واپس آنا چاہ رہے ہیں۔ ایسے میں حکومت پاکستان نے سوچ بچار شروع کردی ہے کہ چینی انجینئرز کی پاکستان واپسی کو مؤخر کر دیا جائے کیونکہ تاحال کورونا وائرس پر قابو نہیں پایا جا سکا اور خدشہ ہے کہ اگر ہزاروں کی تعداد میں چینی انجینئرز کو فوری طور پر پاکستان داخلے کی اجازت دے دی گئی تو بلوچستان میں کورونا وائرس تباہی مچا سکتا ہے جس کے بعد اسے پاکستان بھر میں پھیلنے سے روکنا بہت مشکل ہوگا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button