خبردار لاہور میں مالشیے گاہکوں کی گردنیں توڑنے لگے

مالش کے شوقین افراد خبردار ہو جایئں کیونکہ لاہور پولیس نے نشے کے عادی ایسے سفاک مالشیوں کے گروہ کا سراغ لگایا ہے جس سے منسلک افراد سر کی مالش کے دوران جھٹکے سے گاہک کی گردن توڑ کر یا چھری سے شہ رگ کاٹ کر اس کی جیب صاف کر دیتے تھے۔
لاہور پولیس نے قاتل مالشیوں کے سرغنہ اعجاز عرف ججی کو گرفتار کر کے شہر میں پانچ اندھے قتل کی وارداتوں کو حل کیا ہے۔ ججی نے اعتراف جرم کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ وہ مالش کے بہانے اپنے شکار کو قابو کرنے کے بعد سنسان جگہ پر لے جا کر یا تو گردن توڑ کر قتل کر دیتا تھا اور یا چھری سے گردن کاٹ دیتا تھا۔ بود ازاں ججی اپنی نشے کی لت پوریی کرنے کیلئے مقتول گاہک کی نقدی اور قیمتی اشیاء لے کر رفو چکر ہو جاتا تھا۔ پولیس کے مطابق ملزم اعجاز عرف ججی رات کے وقت اکثر اپنے ساتھیوں کے ہمراہ مالشیے کے روپ میں مختلف پارکوں میں واردات کی نیت سے گھومتا اور آسان ٹارگٹ تلاش کرتا جسے وہ بعد ازاں مالش کے لیے سنسان جگہ چلنے پر آمادہ کرتا تھا تاکہ سکون سے واردات کر سکے۔
قتل کے بعد قاتل نشئی مقتول کی لاش کو وہیں چھوڑ دیتے اورموبائل اور نقدی لے کر فرار ہو جاتے تھے۔ ملزم اعجاز عرف ججی نے راوی روڈ، بھاٹی گیٹ، شادباغ، اسلامپورہ اور راولپنڈی میں 5 شہریوں کو مالش کے دوران گردن توڑ کر اور کاٹ کر لوگوں کو قتل کرنے کا انکشاف کیا ہے۔ پولیس کے مطابق لاہور کے علاقے بھاٹی گیٹ اور اسلام پورہ میں قتل کئے جانے والے افراد کی گردنیں چھری سے کاٹی گئیں جبکہ لاہور کے علاقے شاد باغ اور راوی روڈ پر قتل کئے جانے والے دو افراد کی گردنوں کی ہڈی توڑی گئی تھی۔
پولیس ذرائع کے مطابق کرمنل انویسٹیگیشن ایجنسی یعنی سی آئی اے صدرروایتی مخبری کے طریقہ کار اور جیو فینسنگ کے ذریعے شاطر قاتل مالشیے تک پہنچنے میں کامیاب ہوئی۔ سی آئی اے پولیس تحقیقات کے بعد ایک ایسے شخص تک پہنچ گئی جو ان چاروں قتلوں میں ملوث ہونے کے ساتھ ساتھ راولپنڈی میں بھی ایک شخص کو گردن توڑ کر قتل کر چکا تھا۔ سی آئی اے صدر کے تحقیقاتی افسر انسپکٹر محمد یعقوب کے مطابق ابتدائی طور پر قاتل کی موجودگی کا پتہ چلانے کے لیے ’جیو فینسنگ‘ کا طریقہ استعمال کیا گیا۔ اس طریقہ کار میں پولیس موبائل فون کمپنیوں یا کسی موبائل فون کی لوکیشن معلوم کرنے والے آلات کی مدد سے معلوم کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ وہ کس وقت کس علاقے میں موجود تھا۔ مختلف اوقات پر مختلف جگہ پر موجودگی کا ایک نقشہ بنا لیا جاتا ہے اور پھر اس شخص تک پہنچا جا سکتا ہے۔تاہم اس طریقہ کار سے لاہور میں قتل کئے جانے والے افراد کی قاتلوں کا پتا لگانے میں پولیس کو کوئی خاطر خواہ فائدہ نہیں ہوا تھا۔
لیکن پولیس نے مخبروں کی مدد سے حاصل ہونے والی معلومات پر چند افراد سے پوچھ گچھ کی تو 30 سالہ ملزم اعجاز عرف ججی نے اپنے جرائم کا اعتراف کر لیا۔ ججی نے پولیس کو بتایا کہ تین قتل اس نے اپنے ہاتھ سے کیے تھے اور دو کی منصوبہ بندی میں وہ شامل تھا جو کہ اس کے ساتھیوں نے کیے تھے۔ اعجاز نے پولیس کو بتایا کہ وہ ’مالش کے بہانے شکار کو قریب واقع پارک میں لے جاتا تھا اور چھری کا وار کر کے یا اس کی گردن کا منکا توڑ کر اسے ہلاک کر دیتا تھا۔ اس کے بعد وہ اس کا موبائل فون اور نقدی وغیرہ لے کر موقع سے فرار ہو جاتا تھا۔‘
ملزم اعجاز نے اپنے طریقہ واردات بارے پولیس حکام کا بتایا کہ ’میں مالش کے دوران اپنے شکار کو کہتا تھا کہ اپنی گردن کو ڈھیلا چھوڑ دو۔ پھر میں آپ س ایک گھٹنا اسکی گردن کے پیچھے رکھ کر دونوں ہاتھوں سے اسکا منکا توڑ دیتا تھا۔ پھر یہ دیکھے بغیر کہ اس شخص کا دم نکل چکا ہے یا نہیں میں اس کا قیمتی سامان اور پیسے لے کر جائے وقوعہ سے فرار ہو جاتا تھا۔ تاہم دو افراد کو قتل کرتے ہوئے اس نے منکا توڑنے کی بجائے چھری کے وار کیے۔ اعجاز کے مطابق اس نے پہلا قتل تین سال قبل راولپنڈی میں ایک راہ چلتے شخص کی گردن کی ہڈی توڑ کر کیا تھا۔ میں نے پیچھے سے جا کر مقتول کو دبوچ لیا اور گردن کے پچھے گھٹنا رکھ کر اس کی گردن کو دونوں ہاتھوں سے گھما کر توڑ دیا تھا۔ وہ شخص موقع پر ہلاک ہو گیا اور میں اس کے پاس موجود نقدی اور موبائل فون لے کر فرار ہو گیا تھا۔ بعد ازاں نشے کی طلب کو پورا کرنے کیلئے ساتھیوں کی مدد سے دو مزید افراد کو قتل کیا۔
اس کے علاوہ اعجاز ججی نے دو مالشیوں کو بھی قتل کرنے کا اعتراف کیا ہے۔ اسکا کہنا ہے کہ اسنے اپنے ساتھی مالشیوں بھولے اور فہیم کو اکیلے میں چھریوں کے وار کر کے قتل کیا اور بالآخر وہ پکڑا گیا کیونکہ وہ گردن توڑنے کے فن سے واقف تھے اور مالش کے دوران اسے ڈھیلا نہیں چھوڑتے تھے۔
پولیس کے مطابق ماضی میں بھی اس نوعیت کے واقعات سامنے آ چکے تھے جن میں مالش کرنے والے پیشہ ور افراد ڈکیتی اور چوری کی وارداتوں میں ملوث پائے گئے تھے۔ تاہم ایسا بہت کم ہوتا تھا کہ کسی کو لوٹنے کے بعد اسے قتل کر دیتے ہوں۔انسپکٹر یعقوب کے مطابق ’زیادہ تر یہ مالش کرنے والے جرائم پیشہ افراد اپنے شکار کے جسم کے کچھ ایسے حصے دباتے تھے کہ یا تو وہ سو جاتا تھا یا وہ حواس کھو بیٹھتا تھا اور وہ اس کے پیسے اور قیمتی سامان لے کر فرار ہو جاتے تھے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ لوگوں کو اس گروہ کے سرغنہ کی گرفتاری کے بعد بھی بہت محتاط رہنا چاہئے اور غیر مانوس لوگوں سے مالش کروانے سے مکمل طور پر پرہیز کرنا چاہیے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button