خبردار! کونسا زہریلا پودا انسانی جان لے سکتا ہے؟

انسانوں اور جانوروں کیلئے یکساں نقصان دہ دنیا کی 10 خطرناک ترین اور جان لیوا بوٹیوں میں شامل گاجر بوٹی یا پارتھینیم تیزی سے ملک بھر میں پھیل کر انسانی جانوں اور ملکی زراعت کیلئے ایک بڑا خطرہ بنتی جا رہی ہے۔ زرعی ماہرین کے مطابق اس بوٹی نے آزاد کشمیر میں تباہی مچا دی ہے اور وہاں کی زرعی زمین کو تیزی سے بانجھ کر رہی ہے۔امریکہ سے برآمد ہوکر افریقہ، آسٹریلیا، ایشیا اور اب پاکستان میں وباء کی طرح پھیلنے والی یہ زہریلی بوٹی جہاں اگتی ہے وہاں موجود دوسرے پودوں کو جڑ سے ختم کردیتی ہے اور زمین کو بنجر کر دیتی ہے، گاجر بوٹی اتنی زیادہ زہریلی ہوتی ہے کہ اگر کوئی جانور اس کو کھالے تو اس سے ان کے دودھ میں کڑواہٹ پیدا ہوجاتی ہے۔ اور جانور بیمار ہو کر مر جاتا یے۔ زہریلا دودھ پینے والے بھی یا تو مر جاتے ہیں یا پھر مختلف امراض کا شکار ہو جاتے ہیں۔
گاجر بوٹی فصلوں کو بھی نقصان پہنچاتی ہے، یہ بوٹی اپنی جڑوں سے زمین میں زہریلا مادہ چھوڑتی ہے، اور یہ مادہ اگر زمین میں موجود رہے تو دوسرے پودوں کےبیچ زمین کے اندر ہی گل سڑ جاتے ہیں اور کبھی بھی اُگ نہیں پاتے۔ ماہرین کے مطابق انسانی جلد پر گاجر بوٹی کے اثرات انتہائی نمایاں اور تکلیف دہ ہوتے ہیں، انسانی جلد اگر اسے چھولے تو سرخ دھبے بن جاتے ہیں اور انتہائی جلن کا احساس ہوتا ہے، ان لوگوں میں مختلف قسم کی کھانسی، دمہ، جلد کی بیماری، آنکھوں کی جلن اور الرجی کا خطرہ بہت زیادہ ہوتا ہے۔پاکستان میں گاجر بوٹی بالخصوص بارانی علاقوں کیلئے بہت بڑا خطرہ قرار دی جا رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق اس بوٹی کے پھیلاو میں جنگلات، چراگاہوں، بنجر زمینوں، کھالوں اور نظر انداز کونوں کھدروں کا کردار سہولت کارانہ ہوتا ہے۔ گاجر بُوٹی یا پارتھینیم دنیا کی 10 خطرناک جڑی بوٹیوں میں ایک ہے۔ بنیادی طور پر یہ امریکہ سے برآمد ہوکر بھارت اور پاکستان میں پھیل رہی ہے۔ گاجر بوٹی کا ایک پودا سات سال تک زندہ رہ سکتا۔ہے۔ اس ایک زہریلے پودے کے سفید پھول 25 ہزار سے ایک لاکھ تک بیج پیدا کرتے ہیں۔ اس میں پایا جانے والا کیمیکل پارتھینیم انسانوں اور جانوروں کے لئے یکساں نقصان دہ قرار دیا جاتاہے۔ اگر کوئی انسان اس کو کھا لے تو چند روز میں اس کی موت یقینی ہے۔ جانوروں میں اس کے زیادہ تر اثرات ناک اور منہ پر ہوتے ہیں جانور تو پہلے اسے کھاتے ہی نہیں لیکن اگر غلطی سے کوئی جانور اسے کھا لے تو اس کے ناک اور منہ میں چھالے پڑ جاتے ہیں اور پھر یہ آہستہ آہستہ موت کا شکار ہو جاتا ہے۔
زرعی ماہرین کے مطابق گاجر بوٹی ایک زہریلا پودا ہے جو دیکھنے میں گاجر کے پودے سے زیادہ مختلف نظر نہیں آتا، اس پودے میں خاص بات یہ ہے کہ پیدائش کے فوراً بعد اس پر سفید پھول اگنا شروع ہو جاتے ہیں جوآخر تک مسلسل اگتے رہتے ہیں۔ گاجر بوٹی مختلف قسم کے فصلوں کو نقصان پہنچاتا ہے، زرعی ماہرین کا کہنا ہے کہ موسم بہار میں اس پودے کی پیداواری صلاحیت بہت بڑھ جاتی ہے لہذا تمام کسانوں کو ہفتہ وار اپنے کھیتوں کا معائنہ کرتے رہنا چاہیے اور پھول اگنے سے پہلے اس بوٹی کو تلف کر دینا چاہیے کیونکہ پھول اگنے کے بعد اس زہریلی بوٹی کی تلفی مشکل ہو جاتی ہے۔
زرعی ماہرین کا کہنا ہے کہ گاجر بوٹی کے بیچ چھوٹے لمبے، ہلکے سے گہرے کالے رنگت کے اور اوپر سے چپٹے ہوتے ہیں۔ جب گاجربوٹی اُگتی ہے تو یہ گاجر کے پودے کی طرح نظر آتی ہے اس کے پتے زمین کے نزدیک گولائی میں ہوتے ہیں۔ گاجر بوٹی کا پھول واضح طور پر چھوٹا، ستارہ نما پانچ کونوں والا اور سفید رنگ کا ہوتا ہے اس کا سائز تقریباً 6 ملی میٹر ہوتا ہے۔ ماہرین کے مطابق کیمیاوی طریقہ انسداد کے ساتھ سماجی ذمہ داری کے طور پر اس بوٹی کے مہلک اثرات بارے آگاہی پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ اس بوٹی کا ایک پودا بھی کہیں نظر آ جائے تو فوری طور پہ تلف کر دینا چاہیے۔ کاشتی طریقوں میں پھول بننے سے پیشتر، اگنے کے 6-8 ہفتوں کے اندر، اس بوٹی کو تلف کرنا ناگزیر ہے تاکہ اسکا بیج نہ بننے پائے۔ پھول بننے سے پہلے اسکو زمین میں دبا دینے سے یہ نامیاتی/سبز کھاد بن جاتی ہے۔ پھول بننے کے بعد اس بوٹی کو جلا کر تلف کرنا مناسب ہے۔ محکمہ زراعت کے زرعی ماہرین کے مطابق گاجر بوٹی کا آبائی وطن امریکہ ہے۔ گزشتہ 15 سے 20 سالوں میں پاکستان میں خطرناک حد تک پھیلنے والی گاجر بوٹی دنیا کی 10 خطرناک تیزی سے بڑھنے والی بوٹیوں میں شامل ہے۔ گزشتہ پچاس سالوں میں یہ بوٹی امریکہ سےافریقہ’ آسٹریلیا اور ایشیا میں تیزی سے پھیلی۔ پڑوسی ملک بھارت میں 1955 میں اناج کی درآمد کے ساتھ متعارف ہونے والی زہریلی بوٹی ملک کے مختلف حصوں میں درد سر بن چکی ہے جبکہ اب پاکستان کے اکثر علاقے خصوصا آزاد کشمیر بھی اس کی لپیٹ میں آتے جا رہے ہیں اور زمیندار اس زہریلی بوٹی کے پھیلاؤ سے سخت پریشانی کا شکار ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button