خراب موسم کے باعث لاپتہ کوہ پیماؤں کی تلاش کا کام روک دیا گیا

دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی کے ٹو سر کرنے کی کوشش میں لاپتہ ہونے والے پاکستانی کوہ پیما محمد علی سدپارہ اور ان کے غیر ملکی ساتھیوں کا 90 گھنٹے گزرنے کے باوجود کچھ پتہ نہیں چل سکا ہے۔
جب کہ خراب موسم کی وجہ سے کوہ پیماؤں کی تلاش کےلیے جاری ریسکیو آپریشن بھی منگل کو روک دیا گیا۔ موسم کی صورت حال کے حوالے سے نیپالی کوہ پیما چھانگ داوا شیرپا کا کہنا ہے کہ مسلسل خراب موسم کی وجہ سے ہماری مہم بند ہوگئی ہے اور ہم تمام لوگ بیس کیمپ سے واپس اسکردو آ گئے ہیں۔ شیرپا کے مطابق اگلے سات تک موسم کے خراب رہنے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔ نیپالی کوہ پیما کا کہنا ہے کہ امتیاز اور اکبر گزشتہ روز ہی ہائی کیمپ کی طرف روانہ ہوگئے تھے۔ چھانگ داوا شیرپا نے ریسکیو آپریشن کے حوالے سے مزید بتایا ہے کہ جب موسم ٹھیک ہوگا، حکام ریسکیو آپریشن دوبارہ شروع کر دے گے۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر نے بھی تصدیق کی ہے کہ خراب موسم کے باعث علی سدپارہ اور ساتھیوں کی تلاش کا کام منگل کو رک گیا ہے۔ تاہم آئی ایس پی آر کے مطابق تلاش کا کام موسم ٹھیک ہونے پر بدھ کو دوبارہ شروع کیا جا سکتا ہے۔ جمعے کو لاپتہ ہونے والے کوہ پیماوں کی تلاش کےلیے پاک فوج کے ہیلی کاپٹرز کا سرچ آپریشن گزشتہ تین دن سے جاری تھا۔ جب کہ مقامی میڈیا کے مطابق منگل کو کوہ پیماؤں کی تلاش کےلیے خصوصی سرویلنس طیارے کا بھی استعمال کیا جانا تھا۔ جمعے کو کے ٹو سر کرنے کی مہم کے دوران لاپتہ ہونے والے کوہ پیماؤں کے بارے میں سوشل میڈیا پر گفتگو جاری ہے اور کئی صارفین نے کہا ہے کہ وہ کرشموں پر یقین رکھتے ہیں اور دعاگو ہیں کہ علی سدپارہ اور ان کے ساتھ کوہ پیما زندہ سلامت لوٹ آئیں۔
ٹوئٹر ہینڈل اسماعیل نے علی سدپارہ سے منسوب الفاظ یاد کرتے ہوئے لکھا کہ اگر میں کبھی پہاڑ پر پھنس جاؤں تو برف میں کمرہ بنا کر کچھ دن کھائے پیئے بغیر زندہ رہ سکتا ہوں۔
ٹوئٹر صارف بینظیر جتوئی کا ایورسٹ ٹوڈے کی ایک ویڈیو شیئر کرتے ہوئے کہنا تھا کہ علی سدپارہ ایسے ہیرو ہیں جن کو ہم شاذ و نادر ہی تسلیم کرتے ہیں یا اپنے بچوں کو ان کے بارے میں بتاتے ہیں۔ علی سدپارہ ہم اب بھی آپ کی سلامتی واپسی کےلیے دعا کر رہے ہیں۔
صارفین جہاں علی سدپارہ اور ان کے ساتھ لاپتہ ہونے والے کوہ پیماؤں کے واپس آنے کی دعا کر رہے ہیں وہیں علی سدپارہ کے ادا کیے گئے بعض جملوں کو بھی اپنی ٹویٹس میں شامل کر رہے ہیں۔
جابر حسن نامی ٹوئٹر صارف نے علی سد پارہ سے منسوب یہ الفاظ ٹویٹ کیے کہ کوہ پیمائی کے دوران آپ کو دو متوقع نتائج کا سامنا ہو سکتا ہے۔ زندگی یا موت، اور آپ میں کسی بھی امکان کو قبول کرنے کی ہمت ضرور ہونی چاہیے۔
سوشل میڈیا صارفین کے ساتھ پاکستان کی شوبز انڈسٹری سے وابستہ افراد بھی علی سدپارہ کےلیے ٹویٹس کر رہے ہیں۔
اداکارہ منشا پاشا نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر لکھا کہ علی سد پارہ شاید کبھی واپس نہ آئے لیکن ہم ان کی یاد میں پاکستان کے تمام ایتھلیٹس کی صلاحیتوں کو اجاگر کرتے ہوئے ان کو خراج تحسین پیش کرسکتے ہیں نہ کہ صرف کرکٹرز کو۔
ان کا کہنا تھا کہ ہمیں ان کی اہمیت کا اندازہ کرنے کےلیے ان کے دنیا سے چلے جانے کا انتظار نہیں کرنا چاہیے۔
سوشل میڈیا صارفین کی اکثریت محمد علی سدپارہ کو ہیرو قرار دے رہی ہے جنہوں نے موسم سرما کے دوران کے ٹو کو سر کرنے کی مہم میں حصہ لیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button