خزانہ خالی، حکومت تنخواہیں دینے کے بھی قابل نہ رہی

سیاسی، معاشی سماجی سمیت ہر محاذ پر ناکام کپتان سرکار کی نااہلہ کھل کر سامنے آ گئی ہے معاشی اہداف کے حصول میں ناکامی کی وجہ سے کپتان سرکار اب سرکاری ملازمین کی تنخواہیں دینے کے بھی قابل نہیں رہی۔اکاؤنٹنٹ جنرل آف پاکستان ریونیو کے ذریعے وزارت خزانہ نے تمام وزارتوں، ڈویژنوں اور تمام سرکاری اداروں کے سربراہوں کو خبردار کیا ہے کہ ان کے اکاؤنٹس میں فنڈز ناکافی ہونے کی صورت میں ملازمین کی تنخواہوں میں تاخیر اور انہیں روکا جا سکتا ہے۔
ذرائع کے مطابق اکاؤنٹنٹ جنرل آف پاکستان ریونیو نے متعلقہ حکام کو آگاہ کیا تھا کہ کچھ سرکاری محکموں اور دفاتر نے موجودہ مالی سال کے لیے ملازمین سے متعلق اخراجات کی ضروریات کو پورا کرنے کے حساب سے ناکافی بجٹ رکھا ہے، انہوں نے مزید کہا کہ اس مشق کے نتیجے میں بجٹ میں مختص رقم سے زیادہ اضافی اخراجات ہوسکتے ہیں، اس طرح وفاقی حکومت کے دانشمندانہ بجٹ اور نقد انتظامی معاملات پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ اس کے جواب میں وزارت خزانہ نے تمام وزارتوں، ڈویژنوں اور دیگر پرنسپل اکاؤنٹنگ افسران کے سیکریٹریوں اور محکموں کے سربراہوں کو ایک نوٹیفکیشن بھیجا کہ ان کے اکاؤنٹس میں فنڈز ناکافی ہونے کی صورت میں ان کے ملازمین کو تنخواہوں میں تاخیر یا تنخواہ روکے جانے جیسے مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
اس سلسلے میں تمام سیکریٹریوں اور پرنسپل اکاؤنٹنگ افسران کو آگاہ کیا گیا ہے کہ فنانس ڈویژن نے اے جی پی آر کے ساتھ مشاورت سے مالی ساکھ کو برقرار رکھنے کے لیے ایک مختصر حکمت عملی تیار کی ہے تاکہ یہ یقینی بنایا جاسکے کہ تمام اخراجات مختص اور جاری کردہ بجٹ میں کیے جائیں، بجٹ طریقہ کار کے تحت دستیاب فنڈز کے علاوہ اکاؤنٹنگ دفاتر کی جانب سے کوئی اخراجات منظور نہیں کیے جائیں گے۔اس حکمت عملی کے تحت اگر فنڈز کم ہوں تو بجٹ کے عمل کے ذریعے فنڈز کے انتظام کے لیے اکاؤنٹنگ دفاتر متعلقہ پرنسپل اکاؤنٹنگ افسران اور نامزد ڈرائنگ افسران کو الرٹ جاری کریں گے۔
وہ تمام ڈویژن، محکمہ اور دفاتر جن کو ای آر ای سربراہوں کے تحت ناکافی رقم مختص کی گئی ان کو پہلے مرحلے میں پے رول سے اضافی پے رول پر منتقل کیا جائے گا، اس کے نتیجے میں ملازمین کی طرف سے تنخواہوں کی وصولی میں تاخیر ہوگی، دوسرے مرحلے میں تنخواہوں کی ادائیگی بند کردی جائے گی اور اکاؤنٹنگ دفاتر کے ذریعہ ای آر ای ہیڈز میں بجٹ کی دستیابی تک کسی بھی دعوے پر کارروائی نہیں ہوگی۔
ذرائع کے مطابق حکومت کی طرف سے تنخواہوں کی ادائیگی میں تاخیر اور روکنے کے حوالے سے انتباہ اس وجہ سے جاری کیا گیا ہے کہ حکومت محصولات کے اہداف کے حصول میں ناکام رہی ہے، معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق کپتان سرکارکے برسر اقتدار آنے کے بعد سے تمام معاشی اعشاریہ منفی ہیں۔ جبکہ پاکستان میں ٹیکس اکٹھا کرنے والے وفاقی ادارے فیڈرل بورڈ آف ریوینوایف بی آر کے پاس آٹھ دسمبر 2020 کی ڈیڈ لائن تک 17 لاکھ انکم ٹیکس گوشوارے جمع ہوئے ہیں جو کہ گذشتہ سال کے مقابلے میں 40 فیصد کم ہیں۔ سنہ 2019 میں 29 لاکھ انکم ٹیکس گوشوارے جمع ہوئے تھے۔اس سال انکم ٹیکس کے کم گوشوارے جمع ہونے کے بعد وفاقی حکومت کی جانب سے موجودہ مالی سال میں ٹیکسوں کے ہدف کے حصول پر سوالیہ نشان کھڑے ہو گئے ہیں۔
واضح رہے کہ پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان اقتدار میں آنے سے قبل ٹیکسوں کے حصول کو تین گنا بڑھانے کا دعویٰ کر چکے ہیں اور انھوں نے اپنے متعدد بیانات میں دعویٰ کیا تھا کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت اقتدار میں آنے کے بعد ایک سال میں آٹھ ہزار ارب سے زیادہ کا ٹیکس جمع کر کے دکھائے گی۔پاکستان کی وفاقی حکومت نے اس مالی سال میں چار ہزار 900 ارب روپے کا ٹیکس اکٹھا کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ اس مالی سال کے پہلے پانچ ماہ میں جمع ہونے والا ٹیکس گذشتہ سال کے ان مہینوں کے مقابلے میں چار فیصد زائد ہے۔تاہم پاکستان کو پورے مالی سالی میں ٹیکس کا ہدف حاصل کرنے کے لیے گذشتہ مالی سال کے مقابلے میں 23 فیصد مزید ٹیکس اکٹھا کرنا ہے جو ٹیکس امور اور معیشت کے ماہرین کے مطابق بہت مشکل نظر آتا ہے۔آٹھ دسمبر کو ختم ہونے والی ڈیڈ لائن میں کم انکم ٹیکس گوشواروں کا جمع ہونا بھی اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ اس سال کے بجٹ میں ٹیکس کے ہدف کا حصول بہت مشکل ثابت ہو گا۔
پاکستان میں گذشتہ چند سالوں میں ٹیکس وصولی کی صورتحال کا جائزہ لیا جائے تو گذشتہ تین مالی سالوں میں ٹیکس اکٹھا کرنے میں کوئی نمایاں اضافہ دیکھنے میں نہیں آیا۔مالی سال 2018 میں 3842 ارب کا ٹیکس اکٹھا ہوا تو مالی سال 2019 میں اس کی وصولی میں 13 ارب کی کمی آئی جب مجموعی ٹیکس 3829 ارب رہا۔ مالی سال 2020 میں مجموعی طور پر اکٹھا ہونے والے ٹیکس 3997 ارب رہا۔ٹیکس امور کے ماہرین کے مطابق اگر مالی سال 2020 میں اکٹھا ہونے والے ٹیکس میں سے سیلز ٹیکس ریفنڈ کی رقم نکال دی جائے تو باقی رہ جانے والے ٹیکس کی مالیت گذشتہ مالی سال سے کم ہو جائے گی۔ عمران خان نے اقتدار میں آنے سے پہلے ایک سال میں آٹھ ہزار ارب کا ٹیکس اکٹھا کرنے کا دعویٰ کیا تھا تاہم ان کی حکومت اپنے پہلے دو مالی سالوں میں ٹیکس وصولی میں بہت کم اضافہ کر پائی۔
