خطرناک سے خطرناک ترین ہونے والے عمران کو کون روکے گا؟

سینئر صحافی اور تجزیہ کار انصار عباسی نے کہا ہے کہ اقتدار سے بے دخلی کے بعد عمران خان اب خطرناک سے خطرناک ترین ہوتے جا رہے ہیں جس سے پاکستان کا نقصان ہو سکتا ہے لہٰذا انہیں روکنے کی ضرورت ہے، وہ ریاستی اداروں کے خلاف زبان درازی میں تمام ریڈ لائنز کراس کر چکے ہیں حالانکہ تحریک انصاف میں اب بھی ایسے لوگ موجود ہیں جو سمجھتے ہیں کہ کہیں اس رویے سے خدانخواستہ واقعی پاکستان کانقصان نہ ہو جائے۔ لہذا ایسے رہنمائوں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ اپنے کپتان کو سمجھائیں کہ خدارا پاکستان پر رحم کرے اور اتنا آگے نہ نکل جائے کہ پاکستان، اس کے اداروں اور نظام کے مستقبل بارے بھی سوال اُٹھنا شروع ہو جائیں۔
اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں انصار عباسی کہتے ہیں کہ ہم نے عمران کو کبھی کنٹینر پر چڑھے اور کبھی جلسوں میں خطاب کرتے ہوئے پولیس افسران، سول سرکاری اہلکاروں اور ایک خاتون جج کو بھی للکارتے دیکھا ہے۔ موصوف نے کسی کو دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ میں تمہیں نہیں چھوڑوں گا، اور کسی کے خلاف ایکشن لینے کی بات کی۔ کسی کو’’اوئے‘‘ کر کے پکارا تو کسی کے خلاف اس سے بھی زیادہ سخت زبان استعمال کی۔ یہ سب کچھ 2014 کے دھرنے کے وقت سے دیکھا جا رہا ہے لیکن اب تو خان نے تمام حدیں پار کردی ہیں اور فوج کے اعلیٰ افسران کے نام لے لے کر اُنہیں نشانے پر رکھ لیا ہے۔ اور تو اور، عمران نے ڈی جی آئی ایس آئی جیسے اعلیٰ ترین فوجی افسر کو کہہ ڈالا ہے کہ ’’کان کھول کر سن لو‘‘۔ انہوں نے آئی ایس آئی کے ایک میجر جنرل کا نام لے کر اُسے’’ ڈرٹی ہیری‘‘ کہہ دیا، پھر موصوف نے ایک بریگیڈئر کا بھی نام لے کر انہیں بھی نشانہ بنایا۔ گویا عمران خطرناک نہیں بلکہ بہت خطرناک ترین ہو چکے ہیں۔ وہ بہت غصے میں ہیں اور اُنہیں اپنے غصے پر کوئی قابو نہیں۔ حیرانی کی بات یہ ہے کہ اُن کے آس پاس کھڑے تحریک انصاف کے بڑے بڑے رہنمااس دوران ہنس رہے ہوتے ہیں۔ لیکن اس غصے میں عمران عوام کو کیا پیغام دے رہے ہیں، اُنہیں شاید اس کے نتائج کا علم نہیں۔
انصار عباسی کہتے ہیں کہ پہلے تو عمران خان فوج کو نیوٹرل کہہ کہہ کر اُس کا مذاق اُڑاتے رہے، موصوف کہتے رہے کہ نیوٹرل تو جانور ہوتا ہے، پہلے انہوں نے نام لیے بغیر فوج اور آئی ایس آئی کی اعلیٰ ترین قیادت کو میر جعفر اور میر صادق کے بُرے القابات سے نوازتے رہے، اُن پر الزام لگاتے رہے کہ اُنہوں نے امریکی سازش کے ذریعے حکومت کی تبدیلی میں ہینڈلر کا کردار ادا کیا۔ دوسری جانب ان کی سوشل میڈیا ٹیم فوج اور آئی ایس آئی کی اعلیٰ قیادت اور دفاعی اداروں کے خلاف گھٹیا مہم چلاتی رہی جس کی خان صاحب نے ایک بار بھی نہ تو مذمت کی اور نہ ہی کسی کے خلاف ایکشن لیا۔
لیکن ارشد شریف کے قتل کے بعد تو موصوف نے تمام حدیں پار کرتے ہوئے بغیر ثبوت کے صرف اپنے جھوٹے بیانیے کو مضبوط بنانے اور سیاست چمکانے کے لیے اپنے ہی اداروں پر انگلی اُٹھا دی۔تحریک انصاف کے چند ایک رہنمائوں اور اسکے سوشل میڈیا نے جو کسررہ گئی تھی وہ بھی نکال دی اور ایک ایسا ماحول بنا دیا کہ جیسے ارشد شریف کا قتل ہمارے اداروں نے ہی کیا ہے۔ عمران کو اس بات کا بالکل احساس نہیں کہ وہ پاکستان کے ساتھ کیا کر رہے ہیں۔
انصار عباسی کا کہنا ہے کہ اپنی مقبولیت کے نشے میں عمران خان یہ سوچنے اور سمجھنے سے قاصر ہو چکے ہیں کہ وہ اپنے طرز عمل سے فوج کو کس طرح اور کس قدر نقصان پہنچا رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ میں فوج کے ادارے کو کبھی نقصان نہیں پہنچا سکتا لیکن جلسوں، جلوسوں اور اپنے انٹرویوز میں وہ جو کچھ فوج کے متعلق کہہ رہے ہیں، اُس نے اُن کے ووٹرز، سپوٹرزاور فالورز کے ذہنوں میں فوج کے خلاف وہ نفرت بھرنا شروع کر دی ہے جس کا بیج وہ سیاست میں بھی بو چکے ہیں۔ پہلے انہوں نے سیاست کی بنیاد پر معاشرے میں نفرت بھری، تقسیم پیدا کی اور اب فوج اور عوام میں ویسی ہی تقسیم پیدا کی جا رہی ہے۔
عمران سمجھیں، سوچیں کہ وہ کیا کر رہے ہیں۔ اگر وہ ایسا خود کرنے سے قاصر ہیں تو اسد عمر، فواد چوہدری، شفقت محمود، شاہ محمود قریشی اور دوسرے کئی رہنما جو عمران کی خطرناک باتوں پر جلسوں اور جلوسوں میں اُن کے ساتھ کھڑے ہو کر ہنستے ہیں وہی کچھ خیال کریں کہ یہ سب کیا ہو رہا ہے۔ یہ سب کتنا خطرناک ہے اور اس کا کیا نتیجہ نکل سکتا ہے۔ ؟ سوال یہ ہے کہ کیا یہ سب کچھ کر کے عمران خان کامیاب ہو جائیں گے۔ نہیں، ایسا کسی صورت نہیں ہونے والا۔
انصار عباسی کہتے ہیں کہ دو دن پہلے اسد عمر نے پریس کانفرنس میں مطالبہ کیا کہ فوری الیکشن کروائو۔ پھر کہنے لگے کہ اگلا ووٹ تو عمران کا ہے، یعنی آئندہ الیکشن تو عمران ہی جیتے گا اور اگر الیکشن کرانے میں دیر کی گئی تو پھر نقصان بھی پاکستان کا ہی ہو گا۔ انکا کہنا تھا کہ تحریک انصاف کا کوئی نقصان نہیں ہو گا۔ اب بھلا کوئی پوچھے کہ اگر پاکستان کا نقصان ہو گا تو کیا کسی سیاسی جماعت کا نقصان نہیں ہو گا۔؟ اسد عمر جب سیاست میں آئے تھے تو سمجھا جاتا تھا کہ ایک پڑھے لکھے شخص کی انٹری ہوئی ہے لیکن ان کی گفتگو سن کر اب افسوس ہوتا ہے۔ تحریک انصاف میں اب بھی ایسے لوگ ہیں جو عمران خان کی باتوں سے سخت تکلیف میں ہیں اور وہ اس لیے کہ کہیں خدانخواستہ واقعی پاکستان کانقصان نہ ہو جائے۔ تحریک انصاف کے ایسے رہنمائوں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ خان صاحب کو سمجھائیں کہ خدارا پاکستان پر رحم کریں اور اتنا آگے نہ نکل جائیں کہ پاکستان، اس کے اداروں اور نظام کے مستقبل کے بارے میں سوال اُٹھنا شروع ہو جائیں۔
