خطرناک مواد سے بھرا بحری جہاز گڈانی بندرگاہ کیسے پہنچا؟

معلوم ہوا ہے کہ انٹر پول کے خبردار کرنے کے باوجود ماحولیات کےلیے انتہائی خطرناک مرکری ملے تیل سے بھرا بحری جہاز نہ صرف گڈانی شپ بریکنگ یارڈ پہنچ گیا بلکہ اس کو توڑنے کا کام بھی شروع کر دیا گیا تھا جسے اب روک دیا گیا ہے۔ بلوچستان حکومت نے اس معاملے کی انکوائری شروع کردی ہے۔
بلوچستان کے محکمہ ماحولیات کے ڈائریکٹر عمران کاکڑ نے بتایا کہ اس وقت وفاقی وزرات کا ماحولیاتی تبدیلی ڈویژن، وزیراعلیٰ کی تحقیقاتی ٹیم اور محکمہ ماحولیات کی ٹیمیں اس معاملے کی تحقیقات کر رہی ہیں۔ اس سے قبل محکمہ ماحولیات کی جانب سے جہاز میں موجودہ مشتبہ سلج یعنی خام تیل کے نمونے حاصل کرکے کراچی میں واقع نجی لیبارٹری کو بھیجے گئے تھے جن کا نتیجہ زیادہ سے زیادہ 48 گھنٹوں میں آنا تھا۔ عمران کاکڑ کا کہنا ہے کہ وہ خود لیبارٹری جائیں گے اور دیکھیں گے کہ اس کا نتیجے انے میں کیوں تاخیر ہوئی۔ انہوں نے بتایا وفاقی حکومت کا کہنا ہے کہ وہ نمونوں کا ٹیسٹ وزرات سائنس و ٹیکنالوجی کی لیبارٹری سے کرائیں گے کیوں کہ انہیں ان کے نتائج پر بھروسہ ہے۔
واضح رہے کہ اس بحری جہاز کے خریدار دیوان رضوان کی جانب سے بھی ایک نجی لیبارٹری کا نتیجہ شیئر کیا گیا ہے اور ان کا دعویٰ ہے کہ اس میں مرکری کا نتیجہ منفی آیا ہے۔ قبل ازیں بلوچستان حکومت کے ترجمان لیاقت شاہوانی کا کہنا تھا کہ گڈانی میں توڑنے کی غرض سے پہنچنے والے جہاز کی انکوائری کےلیے کمیٹی قائم کی گئی ہے جس کی سربراہی ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل لسبیلہ کی سربراہی کریں گے۔ یہ کمیٹی جائزہ لے گی کہ خطرناک کیمیکل سے بھرے جہاز کو لنگر انداز ہونے کی اجازت کس نے دی۔ لیاقت شاہوانی کا کہنا تھا کہ یہ انکوائری بھی کروائی جائے گی کہ پاکستانی حدود میں یہ جہاز کیسے داخل ہوا؟ شپ بریکنگ یارڈ میں جہاز لنگرانداز ہونے کا صوبائی حکومت اور مقامی انتظامیہ کوعلم نہیں تھا جب کہ اس جہاز میں کیمیکل مرکری پایا گیا ہے جس کا علم ہونے پر ادارہ ماحولیات کی جانب سے جہاز کے توڑے جانے کا کام روک دیا گیا ہے۔
اس سے قبل بین الاقوامی سکیورٹی کے نگراں ادارے انٹرپول نے حکومت پاکستان کو ایک خط تحریر کر کے متنبہ کیا تھا کہ مرکری سے آلودہ خام تیل لے کر ایک بحری جہاز پاکستان کی طرف آ رہا ہے جس کو گڈانی میں توڑا جائے گا۔ شپ بریکنگ پلیٹ فارم نامی تنظیم کا کہنا ہے کہ اس جہاز نے سرحد پار ’خطرناک مواد‘ لے کر سفر کرکے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کی ہے۔
بلوچستان کے محکمہ ماحولیات کے مطابق 24 مئی کو وفاقی وزارت برائے ماحولیاتی تبدیلی کی طرف سے خط آیا کہ ایک بحری جہاز پاکستان آ رہا ہے جس میں مرکری کی موجودگی کا شبہ ہے۔ دوسرے روز یہ پاکستان میں داخل ہوا اور محکمے نے اس کی بریکنگ پر کام بند کروا کر اس کو سیل کر دیا ہے۔ جہاز میں موجود خام تیل کے نمونے حاصل کر کے ٹیسٹنگ کے لیے لیبارٹری بھیج دیے گے ہیں۔اگر ان میں مرکری کی موجودگی کی تصدیق ہوتی ہے تو شپ بریکر کمپنی کے خلاف کارروائی ہوگی کیوں کہ پاکستان میں مرکری کی برآمد پر اس وقت تک پابندی ہے جب تک متعلقہ قانونی تقاضے پورے نہ کیے جائیں۔ محکمہ ماحولیات کے مطابق یہ جہاز پاکستان کی حدود میں کیسے اور کیوں داخل ہوا، اس کا جواب متعلقہ وفاقی ادارے دے سکتے ہیں۔
یاد رہے کہ بین الاقوامی سکیورٹی کے نگراں ادارے انٹرپول نے حکومت پاکستان کو ایک خط تحریر کر کے متنبہ کیا تھا کہ مرکری سے آلودہ خام تیل لے کر ایک بحری جہاز پاکستان کی طرف آ رہا ہے جس کے پرزے گڈانی میں علیحدہ کیے جائیں گے۔ اس خط کے مطابق انٹرپول کو معلوم ہوا کہ تیل بردار بحری جہاز ایف ایس اورڈیئنٹ ممکنہ طور پر گڈانی کی طرف رواں دواں ہے، یہ انٹرپول کی زیر نگرانی رہا ہے اور انہیں اطلاع ہے کہ اس میں 1500 ٹن مرکری آلودہ تیل موجود ہے جسے وہ ٹھکانے لگانا چاہتے ہیں۔ انٹرپول کے مطابق مئی 2020 میں اس بحری جہاز کو بنگلہ دیش میں داخل ہونے سے روک دیا گیا تھا جہاں اس جہاز کی بریکنگ ہونا تھی۔ نومبر 2020 میں یہ ممبئی کے قریب لنگر انداز ہوا جب کہ 14 اپریل کو یہ ممبئی سے روانہ ہوا اور اس کا رُخ گڈانی کی طرف تھا۔ اس خط کی بنیاد پر وزرات دفاع نے پاکستان نیول ہیڈ کواٹر، میری ٹائم افیئرز، وزارت داخلہ اور ایف آئی اے کو 22 اپریل کو اس بارے میں آگاہ کیا۔ اس کے بعد سات مئی کو دوبارہ خط لکھ کر کارروائی کی ہدایت دی گئی۔
معلوم ہوا ہے کہ اس مشتبہ بحری جہاز کی خریدار کمپنی دیوان شپ بریکنگ پرائیوٹ لمیٹڈ ہے۔ کمپنی کے سربراہ دیوان رضوان فاروق نے بتایا کہ ان کا پاکستان اور شپ بریکنگ میں ایک نام ہے اور وہ ایسا کوئی کام نہیں کریں گے جس سے قانون کی خلاف ورزی ہو۔ ان کے مطابق انہوں نے دو ماہ قبل یہ جہاز خرید لیا تھا۔ اس سے پہلے پاکستان کے کسی بھی ادارے نے انہیں یا شپ بریکرز کی تنظیم کو آگاہ نہیں کیا کہ یہ ایک مشتبہ جہاز ہے ’ورنہ وہ اس کے قریب بھی نہیں جاتے۔‘ مگر سوال۔یہنہے کہ پاکستان آنے سے قبل اس بحری جہاز کو بنگلہ دیش اور انڈیا نے لنگر انداز کیوں نہیں ہونے دیا تھا؟ اس سوال کا دیوان رضوان کے پاس جواب نہیں تھا۔
خیال رہے کہ 229 میٹر طویل یہ بحری جہاز سنہ 1983 میں بنایا گیا تھا جو مختلف ناموں کے ساتھ مختلف کمپنیوں کے زیر استعمال رہا ہے۔ یہ آخری بار انڈونیشیا میں موجود تھا اور سنہ 2018 میں اس کو ناکارہ قرار دیا گیا تھا۔ شپ بریکنگ پلیٹ فارم نامی تنظیم کے مطابق یہ جہاز بنگلہ دیش میں شپ بریکرز کو فروخت کیا گیا۔

Back to top button