رمضان المبارک میں شرائط پر عمل نہ ہوا تو مساجد بند کر دینگے

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ مساجد میں اجتماعی عبادت کی مشروط اجازت دینے کے بعد اب یہ علما کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس سلسلے میں بنائے گئے اسٹینڈر آپریٹنگ پروسیچر (ایس او پیز) پر عملدرآمد یقینی بنائیں لیکن اگر شرائط پر عمل نہ کیا گیا تو مساجد کو بند کر دینگے.
ملک میں کورونا وائرس کے پیش نظر لگنے والی پابندیوں سے متاثر افراد کی مدد کے لیے قائم کیے گئے فنڈ میں عطیات وصول کرنے کے لیے ملکی تاریخ کی بڑی ٹیلی تھون ‘احساس ٹیلی تھون’ ہوئی، جس میں مختلف افراد نے عطیات دی جبکہ معروف عالم دین مولانا طارق جمیل نے دعا بھی کی۔
ملک کے سرکاری نشریاتی ادارے پی ٹی وی سمیت نجی ٹی وی چینلز پر بیک وقت نشر ہورہی اس ٹیلی تھون کا مقصد ضرورت مندوں کے لیے امداد اکٹھا کرنا تھا۔اس احساس ٹیلی تھون میں وزیراعظم عمران خان خود شریک شرکت کی جبکہ ان کے علاوہ ملک کے معروف صحافی حامد میر، کامران شاہد، منصور ملک، کاشف عباسی، ندیم ملک، محمد مالک اور سمیع ابراہیم بھی موجود تھے۔ٹیلی تھون کے دوران ملک بھر کے مختلف اداروں کے سربراہان، معروف شخصیات و عوام نے اپنی حیثیت سے فنڈ کے لیے رقم عطیہ کرنے کا اعلان کیا۔
اس موقع پر ٹیلی تھون میں عمران خان نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے حالات پہلے کبھی نہیں آئے اور اس وائرس کی وجہ ہونے والے لاک ڈاؤن کے اثرات ابھی آئے نہیں ہیں بلکہ یہ آئیں گے۔انہوں نے کہا کہ چونکہ اس طرح کے حالات کبھی آئے نہیں تو لہٰذا ملک کا ردعمل بھی ایسا ہونا چاہیے جو پہلے کبھی نہیں ہوا ہو، اسی سلسلے میں حکومت نے ملک کا سب سے بڑا ریلیف پیکج دیا۔وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ اس وائرس سے بچاؤ کے لیے احتیاط سب کو کرنی چاہیے، کورونا وائرس اور دیگر وائرسز میں جو فرق ہے وہ یہ کہ اس وائرس کے پھیلاؤ کی شرح ‘غیرمعمولی لہٰذا لوگ سماجی فاصلے کو اپنائیں اور احتیاط کریں۔انہوں نے کہا کہ کوئی حکومت خود سے کورونا وائرس کا مسئلہ حل نہیں کرسکتی، اس وبا کو شکست دینے کے لیے ہر ایک کو کردار ادا کرنا ہوگا۔بات کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ پتہ ہے کہ ہمیں کورونا کے ساتھ رہنا پڑے گا، کوئی آج یہ نہیں کہہ سکتا کہ اگر ہم لاک ڈاؤن بھی کردیں تو کورونا ختم ہوجائے گا، ہمیں اس کے ساتھ رہنا پڑے گا۔
دوران گفتگو وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ ہمیں اسمارٹ لاک ڈاؤن کی طرف جانا پڑے گا، جس کا مطل ہے کہ ہمیں دکانیں و کم خطرے والے علاقوں کو کھولنا پڑے گا کیونکہ غیر معینہ مدت تک کا لاک ڈاؤن کوئی آپشن نہیں ہے اور لاک ڈاؤن سے متعلق فیصلہ صرف ایلیٹ کلاس کے لیے نہیں بلکہ تمام پاکستانیوں کے لیے ہونا چاہیے۔اسمارٹ لاک ڈاؤن کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ اس کا مطلب ہے کہ جہاں ہمیں پھیلاؤ کا پتہ چلے وہاں کنٹرول کریں اور باقی ملک کو چلنے دیں، یہ سلسلہ مغرب میں بھی شروع ہوگیا ہے اور رات میں میری ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات ہوئی ہے۔چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار سے متعلق انہوں نے کہا کہ ہمیں خوف ہے کہ کہیں یہ ختم نہ ہوجائے جبکہ ہم ان شعبوں کے لیے بغیر سود کے قرضوں کا پروگرام لا رہے ہیں۔
انہوں نے لاک ڈاؤن سے متعلق سوال کا جواب دیتے ہوئے مزید کہا کہ 26 کیسز کے بعد ہم نے لاک ڈاؤن کا فیصلہ کیا تاہم سندھ حکومت نے مکمل لاک ڈاؤن کرفیو جیسی صورتحال کا فیصلہ کیا اور وہاں سب سے زیادہ لاک ڈاؤن کیا گیا۔بات کو آگے بڑھاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایک مرتبہ لاک ڈاؤن کرنے کے بعد اسے کھولنے کے بعد کاروبار شروع ہونے میں وقت لگے گا اور اب ہم نے سب سے زیادہ انہیں ریلیف دینی ہے۔ڈیم فنڈ سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ یہ فنڈ وہی کا وہی ہے اور اس کا استعمال اسی مقصد کے لیے ہوگا۔ٹیلی تھون میں وزیراعظم نے بتایا کہ ہر ملک لاک ڈاؤن سے متعلق اپنی صورتحال کو دیکھ کر فیصلہ کرے، ہمیں ساتھ ہی یہ فیصلہ کرنا ہے کہ اس سے کہیں ہمارے معاشرے پر نقصان تو نہیں۔
ڈاکٹرز کے مطالبے کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ یہ بات بالکل ٹھیک ہے اور ہمیں ان کا مکمل سوچنا چاہیے، ساتھ ہی انہوں نے رمضان المبارک میں مساجد سے متعلق کہا کہ ہمارے پاس 2 آپشن تھے۔انہوں نے کہا کہ ہمیں یہ معلوم تھا کہ ہم جو مرضی کرلیں لوگوں نے رمضان میں مساجد میں جانا ہے، تاہم لوگوں کو گھر میں عبادت کرنی چاہیے اور گھروں سے نہیں نکلنا چاہیے جبکہ پوری مسلم دنیا میں رمضان میں لوگوں کو نکلنے کی اجازت نہیں دی گئی ہے۔وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ حکومت نے درمیانی راستہ نکالتے ہوئے رمضان المبارک میں اجتماعی عبادات سے متعلق علما کے ساتھ 20 نکاتی منصوبے پر اتفاق کیا کیونکہ لوگوں نے رمضان میں اجتماعات پر اصرار کیا تھا۔انہوں نے کہا کہ حکومت نے اجتماعی عبادات کے لیے طریقہ کار (ایس او پیز) جاری کی ہیں جن پر عملدرآمد کی ذمہ داری علما کی ہے۔عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ اگر اسمارٹ لاک ڈاؤن میں بھی لوگوں نےذمے داری کامظاہرہ نہ کیا تو ہم کارروائی کریں گے جبکہ اگر علما نے باجماعت نماز سے متعلق جو ضمانت دی ہے وہ پوری نہیں کی تو ہم مساجد بند کردیں گے۔
ایک سوال کے جواب میں عمران خان نے کہا میں نے اپنے کیریئر میں آخری 3 سال کرکٹ صرف شوکت خانم ہسپتال کے لیے ہی کھیلی ہے اور مجھے اس دوران جو بھی تحائف ملتے تھے وہ میں ہسپتال کے فنڈ میں عطیہ کردیتا تھا۔وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ مجھے خوف ہے کہ لاک ڈاؤن کے اثرات معاشرے پر آئیں گے خاص طور ہمارے کمزور طبقے پر اثر پڑے گا، اس وائرس کی وجہ سے ہمارا کمزور طبقہ قربانیاں دے رہا ہے اور جو لوگ جنہوں نے پاکستان کی وجہ سے پیسہ بنایا ہے امید ہے وہ تعاون کریں گے۔احساس ٹیلی تھون کے دوران گفتگو کے دوران احساس کیش پروگرام سے متعلق انہوں نے کہا کہ حکومت کے احساس کیش پروگرام میں کوئی سیاسی مداخلت نہیں ہے اور پورا نظام کمپیوٹرائزڈ ہے، اس پروگرام جیسا شفاف پروگرام ملکی تاریخ میں پہلے کبھی نہیں دیا گیا۔
وزیراعظم عمران خان نے انکشاف کیا کہ پولیس اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے) حکومت کے احساس کیش پروگرام میں شفافیت کو یقینی بنانے میں کردار ادا کررہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ ملکی تاریخ کا شفاف ترین پروگرام ہوگا، اس پروگرام کی ڈیٹا بیس تیار کرنے میں 10 ماہ کا عرصہ لگا تھا۔وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ کورونا وائرس کے مشتبہ کیسز کا پتہ لگانے کے لیے حکومت انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی ) کی جانب سے فراہم کیا گیا سسٹم استعمال کررہی ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ نظام اصل میں دہشت گردوں کا پتہ لگانے کے لیے استعمال ہوتا ہے اور اب ہم اسے کورونا سے نمٹنےکے لیے استعمال کررہے ہیں، ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ٹریکنگ اور ٹیسٹنگ ہی کاروبار کو دوبارہ کھولنے کا واحد طریقہ ہے۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ خود اعتمادی آپ کو گھبراہٹ سے روکنا ہے، یہ سندھ میں گبھراہٹ میں جو لاک ڈاؤن کیا گیا یہ خوف کے اندر کیا گیا، جب خود اعتمادی ہوتی ہے تو آپ کے اندر ٹھہراؤ آجاتا ہے۔براہ راست ٹیلی تھون میں وزیراعظم نے بتایا کہ حکومت میں آنے کے بعد کے 20 ماہ سب سے مشکل ترین وقت تھا اور معیشت سمیت دیگر مسائل تھے۔اسی بات کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے مہاتیر محمد اور طیب اردوان کو مسلم دنیا کا اہم ترین لیڈر قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان دونوں رہنماؤں نے اپنے معاشرے بدلے، جب مہاتیر محمد آئے تو انہیں بھی دیوالیہ معیشت اور وہی سب مسائل ملے جو مجھے دیکھنے پڑے لیکن اب دیکھیں وہاں اسٹیٹس کو بحال ہوگیا۔
ٹیلی تھون کے دوران صحافی کامران شاہد کی جانب سے سوال کیا گیا کہ آپ نے حریف میڈیا چینلز کو بلا لیا، پوری دنیا آپ کے ساتھ کھڑی ہے تو آپ اپوزیشن کو بھی اپنے ساتھ ملا لیں، ہوسکتا ہے وہ آپ کو اربوں روپے دے دیں اور شہباز شریف اور آصف زرداری کو گلے لگا لیں؟ تو اس پر عمران خان نے جواب دیا کہ اس میں ایک خطرہ ہے کہ ان کو ساتھ لیا تو میری عطیات ہی کم نہ ہوجائیں۔اس موقع پر وزیراعظم سے سوال کیا گیا کہ کیا ایسا ہوسکتا ہے کہ تعمیراتی شعبے کی طرح تمام شعبوں میں یہ کردیا جائے کہ کسی سے کوئی سوال نہ کیا جائے ت تو اس پر عمران خان نے کہا کہ ‘بالکل، میں پوری کوشش کر رہا ہوں لیکن کوئی سوال نہیں کے راستے میں فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) ایک عذاب بنا ہوا ہے کیونکہ دہشت گردوں کی مالی معاون سے متعلق ہم پر بہت پابندیاں لگائی ہوئی ہیں’۔
تاہم انہوں نے کہا میں دنیا پہلی دفعہ یہ جان رہی ہے کہ اس لاک ڈاؤن سے ہمارے جیسے ممالک میں بہت غربت پھیلے گی تاہم ہم نے ‘کوئی سوال نہیں’ والا کام کرنا ہے کیونکہ ہماری معیشت ان فارمل ہے۔قرضوں میں ریلیف سے متعلق انہوں نے کہا کہ میں اس معاملے پر امریکی صدر کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں کہ انہوں نے ہماری مدد کی اور پھر 70 ممالک میں پاکستان کو شامل کیا گیا اور ابھی آگے قرض کی ریلیف پر مزید مذاکرات ہوں گے۔احساس ریلیف پروگرام کے تحت خرچ کی جانے والی رقم سے متعلق انہوں نے کہا کہ یہ رقم بالکل غیرسیاسی بنیادوں پر تقسیم ہورہی ہے اور سب سے زیادہ سندھ میں پیسہ گیا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button