خلیجی ممالک کی انڈیا پاکستان دوستی کی کوششیں کامیاب

پاکستان اور بھارت کی دوستی کروانے کے لیے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی بیک ڈور ڈپلومیسی نے رنگ دکھانا شروع کر دیا ہے اور اب بھارتی سیاسی قیادت کا بھی پاکستان کے حوالے سے بیانیہ بدلنا شروع ہو گیا ہے۔ وزیر اعظم عمران خان اور آرمی چیف قمر باجوہ کی طرف سے بھارت کے لیے حالیہ خیر سگالی کے پیغامات کے بعد وزیر اعظم نریندر مودی نے بھی یوم پاکستان پر پاکستانی عوام کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا یے کہ وہ ان کے ساتھ خوشگوار تعلقات استوار کرنا چاہتے ہیں جس کے لئے دونوں ممالک کے مابین کشیدگی اور دہشت گردی سے پاک اعتماد سازی کی فضا قائم کرنا ضروری ہے۔
یاد رہے کہ نریندر مودی کا عمران خان کو خط ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب دونوں ممالک کے درمیان لائن آف کنٹرول پر نئے سرے سے جنگ بندی ہوئی ہے اور اس کی بڑی وجہ امریکہ کے ایماء پر پاک بھارت دوستی کے لیے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی کوششوں کو قرار دیا جا رہا ہے۔ یاد رہے کہ ماضی قریب میں مسئلہ کشمیر پر سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات دونوں نے پاکستان کو جھنڈی کروا دی تھی جس کے بعد وزیراعظم عمران خان کے ان دونوں ممالک کی قیادت سے تعلقات کشیدہ ہوگئے تھے۔ تاہم اب امریکی دباؤ کے بعد بھارت اور پاکستان ایک دوسرے کے ساتھ معاملات بہتر کرنے پر راضی ہوگئے ہیں اور سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات اس معاملے میں بروکر کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ یاد ریے کہ اس وقت ان دونوں اسلامی ممالک کے بھارت کے ساتھ پاکستان سے بہتر تعلقات ہیں۔
یاد رہے کہ گذشتہ مہینے پاکستان اور بھارت کے ملٹری آپریشن کے ڈائریکٹرز نے اچانک کنٹرول لائن پر جنگ بندی کا اعلان کیا تھا اور اس وقت سے جنگ بندی پر مکمل طور پر عمل ہو رہا ہے۔ اس کے علاوہ حال ہی میں پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر باجوہ نے بھی اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ دونوں ممالک کو ماضی بھلا کر آگے بڑھنا چاہیے۔
اس سے پہلے وزیراعظم عمران خان نے بھی اسی طرح کی بات کی تھی۔ اب عمران خان کو لکھے گئے خط میں نریندر مودی نے لکھا ہے کہ پاکستان کے قومی دن کے موقع پر وہ پاکستانی عوام کو مبارکباد دینا چاہتے ہیں۔ اُنھوں نے عمران خان کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا کہ اس مشکل وقت میں وہ اُنھیں اور پاکستانی عوام کے کووڈ 19 کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے نیک تمنائیں رکھتے ہیں۔یاد رہے کہ گذشتہ دنوں نریندر مودی کی جانب سے عمران خان کے کورونا وائرس میں مبتلا ہونے پر نیک تمناؤں کا اظہار بھی کیا گیا تھا۔
دوسری طرف تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کی بہتری اور مسائل کے حل کے لیے تیسرے فریق کا کردار ادا کرنا مثبت ہے کیوںکہ ماضی میں دونوں ملکوں کی قریب آنے کی کوششیں بنیادی طور پر افواج پاکستان کی مسئلہ کشمیر کے حوالے سے بے لچک پالیسی کی وجہ سے ناکام رہی ہیں۔ یاد رہے کہ جب گزشتہ برس مودی حکومت نے جموں کشمیر کی خودمختاری ختم کرنے کا اعلان کیا تو پاکستان نے بھارت کے ساتھ سفارتی تعلقات ختم کر دیے تھے۔ بعد ازاں وزیراعظم عمران خان نے کشمیر کے مسئلے کو جواز بناتے ہوئے جنرل قمر جاوید باجوہ کو تین سال کی مزید توسیع دے دی تھی۔ تاہم اب جنرل باجوہ اور عمران خان دونوں بھارت کے ساتھ آگے پینگیں بڑھانے کی باتیں کر رہے ہیں جس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ کشمیر کا سودا کر دیا گیا ہے۔ اس معاملے پر سابق سفارت کار عبدالباسط کہتے ہیں کہ اگر پاکستان اور بھارت میں کوئی ملک ثالث کا کردار ادا کر سکتا ہے تو وہ سعودی عرب یا متحدہ عرب امارات ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ کشمیر کی حیثیت میں تبدیلی کے اگست 2018 کے بھارتی اقدام کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان دوطرفہ سفارت کاری میں زیادہ گنجائش نہیں رہی تھی۔ اس لیے ضروری تھا کہ کوئی تیسرا فریق ثالثی کا کردار ادا کرتا۔
تاہم عبدالباسط کے بقول، "میرے لیے یہ حیرت کے ساتھ تشویش کی بات ہے کہ عمران حکومت نے یہ اعلان کیا تھا کہ کشمیر کی خودمختار حیثیت کی بحالی تک بھارت سے کسی سطح پر بات چیت نہیں کی جائے گی۔ لیکن اگر خلیجی ممالک نے پاکستان کو بھارت کے ساتھ اپنے تعلقات بہتر بنانے کے عوض تنازعۂ کشمیر کے حل کی یقین دہانی کرائی ہے تو پھر خلیجی سفارت کاری کو ضرور موقع دینا چاہیۓ۔
دوسری جانب سید مشاہد حسین کہتے ہیں کسی نہ کسی ذریعے سے دونوں ملکوں کے مابین بات چیت کا آغاز ہونا اچھی پیش رفت ہے۔ انکا کہنا تھا کہ بھارت اور پاکستان کا قریب آنا سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی ثالثی کا نتیجہ ہی لگتا ہے۔ ان کے بقول دونوں عرب ملکوں کے بھارت کے ساتھ تاریخ کے بہترین مراسم ہیں۔ پاکستان اور بھارت برسوں تک آپسی دشمنی نہیں رکھ سکتے۔ دونوں ملک برسوں سے ساتھ ہیں اور انہیں ساتھ رہنا ہے۔ اس لیے امن میں ہی دونوں ملکوں کا مفاد ہے۔لیکن انکاکہنا تھا کہ پاک بھارت تعلقات میں بحالی کے حالیہ اقدامات سے زیادہ پر امید نہیں ہونا چاہیے کیوں کہ ماضی میں یہ عمل متعدد بار تعطل کا شکار ہوتا رہا ہےان کے بقول بات چیت کو نتیجہ خیز تب ہی سمجھا جائے گا جب دونوں ملک تنازعۂ کشمیر کے حل کی جانب بڑھتے دکھائی دیں گے۔
سید مشاہد حسین کے مطابق بھارت چاہتا ہے کہ جموں کشمیر پر پاکستان کا اصولی موقف کمزور سے کمزور تر ہو۔ وہ خود وقت حاصل کرنا چاہتا ہے تا کہ کشمیر میں اٹھائے گئے اپنے متنازعہ اقدامات کو مستحکم کر سکے۔ اس لیے پاکستان کی قیادت کو محتاط انداز اپنانا ہو گا اور دیکھنا ہوگا کہ بھارت کشمیر کے مسئلے کو حل کرنے میں کس قدر سنجیدہ ہے۔
دوسری جانب اسلام آباد کے سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ اب کشمیر کا حل اقوامِ متحدہ کی قرارداد کے مطابق نہیں نکل سکتا کیوں کہ وہ پرانی ہونے کے سبب لاگو ہونے کے قابل نہیں رہی۔ لہذا عمران خان اور نریندر مودی کو پرویز مشرف اور منموہن سنگھ کے اتفاق کردہ چار نکاتی حل کو آگے لے کر جانا چاہیے اور شاید امریکہ کے ایماء پر سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کچھ ایسی ہی کوشش کر رہے ہیں۔ سفارتی ذرائع کہتے ہیں کہ کشمیر کے تنازع کے حل کے لیے دونوں ملکوں کو درمیانی راستہ اپنانا ہو گا جس کے لے اُن کے بقول راہ ہموار ہو رہی ہے۔ ذرائع کہتے ہیں کہ امریکہ کی مجبوری ہے کہ وہ بھارت اور پاکستان کے تعلقات میں بہتری چاہے گا کیوں کہ اسے افغانستان سے افواج کا انخلا چاہیے جس کے لیے وہ ایران اور روس سے بھی بات کر رہا ہے۔ تاہم وہ کہتے ہیں کہ بڑے ملکوں کے اپنے مفاد ہوتے ہیں لہذا پاکستان اور بھارت کو اپنے ذاتی تعلقات میں بہتری کے لیے امریکہ یا کسی اور طاقت پر انحصار نہیں کرنا چاہیے۔ یہ بھی معلوم ہوا یے کہ تعلقات کی بحالی کے اس تازہ ماحول میں پاکستان اور بھارت کے وزرائے خارجہ افغان مذاکرات کے سلسلے میں رواں ماہ کے آخر میں تاجکستان میں ہونے والی ایک بین الاقوامی کانفرنس میں شریک ہوں گے۔ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اس موقع پر بھارتی وزیرِ خارجہ ایس شنکر پاکستانی ہم منصب شاہ محمود قریشی سے ملاقات کر سکتے ہیں۔ تاہم پاکستان میں ناقدین بھارت کے ساتھ مسئلہ کشمیر حل کئے بغیر دوستی کی کوششوں کو کشمیر کا سودا کرنے کے مترادف قرار دے رہے ہیں۔ لیکن دیکھنا یہ بھی ہے کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی جانب سے پاک بھارت دوستی کی یہ کوششیں کامیاب ہو بھی پاتی ہیں یا نہیں؟
