خلیل الرحمان قمر کا بے حیائی کے خلاف باقاعدہ اعلان جنگ

سوشل میڈیا پر معروف لکھاری خلیل الرحمان قمر کا ایک ویڈیو پیغام گردش کر رہا ہے جس میں انہوں نے بتایا ہے کہ وہ ایک نئے محاذ پر جنگ کا آغاز کر چکے ہیں جس کا مقصد معاشرے سے بے حیائی کا خاتمہ ہے اور اس جنگ میں ان کو عوام کی مدد چاہیے۔
ایک لائیو ٹی وی ٹاک شو کے دوران انسانی حقوق کی سرگرم کارکن ماروی سرمد کے ساتھ گالیوں کے تبادلے کے بعد جاری ہونے والے اس ویڈیو پیغام میں بات کرتے ہوئے خلیل قمر نے عوام سے اپیل کی ہے وہ ان کے لئے دعا کریں اور ان کا ساتھ بھی دیں تا کہ وہ اس مشن میں کامیاب ہو سکیں۔ ان کا کہنا تھا کہ دعا کریں کہ مجھے اپنے مشن میں کامیابی ملے اور ہمارے معاشرے سے لبرل ازم کے نام ہر بے حیائی مکمل طور پر ختم ہو جائے۔
واضح رہے کہ نجی نیوز چینل کے ایک لائیو شو میں معروف ڈرامہ نگار خلیل الرحمان قمر اور خاتون صحافی ماروی سرمد کے درمیان عورت مارچ کے حوالے سے زیر بحث میرا جسم میری مرضی کے نعرے پرانتہائی تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا تھا جس کے بعد اس پر سوشل میڈیا پر خوب بحث جاری ہے۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ خلیل الرحمن قمر کو تہذیب کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہیے تھا اور ویسے بھی مرد کا عورت کو لایئو گالیاں دینا ایک نامناسب عمل ہے۔ تاہم دوسری طرف خلیل الرحمن قمر کے حمایتی سوشل میڈیا پر یہ کہتے نظر آتے ہیں کہ اگر ایک عورت ایک مرد کو گالی دے گی تو پھر برابری کی بنیاد پر اس کو جوابی طور پر بھی گالیاں سننے کے لئے تیار رہنا ہوگا۔ یہی موقف خلیل الرحمن قمر نے بھی لیا ہے اور وہ پہلے ہی ماروی سرمد سے معافی مانگنے سے انکار کرچکے ہیں۔
یاد رہے کہ لائیو ٹی وی پروگرام کے دوران ماروی نے خلیل قمر کی گفتگو کے دوران منع کرنے کے باوجود میرا جسم میری مرضی کے نعرے لگانا شروع کر دئیے جس پر خلیل الرحمٰن قمر غصے میں آپے سے باہر ہوگئے اور بولے "اپنا جسم دیکھو جا کے، تھوکتا نہیں ہے کوئی تیرے جسم پر، تیرے جسم میں ہے کیا، اس پر مرضی چلاتا کون ہے؟ تیرے جیسی بے حیا عورت کے جسم پر کوئی تھوکتا بھی نہیں ہے، گھٹیا عورت”۔
خلیل الرحمٰن قمر کی گفتگو کے جواب میں ماروی نے بھی ان سے بدکلامی کی۔ ان کے اس انداز گفتگو اور گالیوں کے تبادلے کے بعد سوشل میڈیا پر خلیل الرحمن قمر کے حق اور مخالفت میں باقاعدہ ایک جنگ شروع ہوگئی ہے۔
تاہم میں سٹریم میڈیا پر خلیل الرحمن قمر کے رویے کی شدید مذمت کی جا رہی ہے۔ اسی دوران خلیل الرحمان قمر کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی جس میں انہوں نے کہا ہے کہ وہ ایک محاذ جنگ پر ہیں جس کا بنیادی مقصد معاشرے سے بے حیائی کا خاتمہ کرنا ہے۔ تاہم انسانی حقوق کی ایک اور کارکن ربیعہ باجوہ ایڈووکیٹ کا یہ کہنا ہے کہ خلیل الرحمن قمر نے میرا جسم میری مرضی کے نعرے کو غلط سمجھا ہے اور اس حوالے سے وضاحت بہت ضروری ہے۔ ربیعہ کا کہناہے کہ میرا جسم میری مرضی‘ ایک بنیادی انسانی حق ہے۔ یہ بنیادی حق انسانی حقوق کے اصولوں کے مطابق، جنس کی تفریق کے بغیر، تمام انسانوں کو حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ عورت مارچ کے حوالے سے اس کا آسان سا مطلب یہی ہے کہ بطور عورت میں مرد کی طرح برابر کی انسان ہوں اور مطالبہ کرتی ہوں کہ میرے خلاف جسمانی تشدد، ریپ، ظلم و بربریت، ، زبان بندی، ہراسانی اور گھریلو تشدد جیسے جرائم کا ارتکاب بند ہونا چاہئے۔ دوسرا اہم نقطہ یہ ہے کہ دماغ بھی جسم کا حصہ ہوتا ہے۔ بطور ایک انسان مجھے اپنے دماغ کے استعمال کی بھی مکمل آزادی میسر ہونی چاہئے تاکہ میں اپنے بارے میں فیصلے خود اپنی آزاد مرضی اور بلا خوف وخطر کر سکوں۔ بالفاظِ دیگر، ’میرا جسم میری مرضی‘ کا مطلب ہے کہ میں عقلی اور فکری آزادی کا مطالبہ کر رہی ہوں۔
ربیعہ نی کہا کہ مزید برآں جنس کی بنیاد پر اخلاقی معیار بھی دوہرے نہیں ہونے چاہیں۔ فیصلے کرنے کی جو آزادی مرد کو ہے وہ مجھے بھی ہونی چا ہیے جن میں ظاہر ہے مرضی کی تعلیم، پروفیشن کا انتخاب اور مرضی یا رضا مندی کی شادی، مذہبی آزادی جیسے آئینی اورقانونی حقوق شامل ہیں۔ ان سب حقوق کا تحفظ اور ضمانت ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ ریاست جنس یا کسی اور بنیاد پر کسی شہری سے تفریق نہیں برت سکتی۔ ربیعہ باجوہ نے گفتگو کا اختتام کرتے ہوئے کہا کہ میرا جسم میری مرضی کے نعرے کی اساس یہ سوچ ہے کہ عورت کو ایک با عزت اوربا وقار زندگی گزارنے کا مکمل اختیار ہے اور یہ تب ہی ممکن ہے کہ جب وہ اپنے بنیادی انسانی حقوق سے مستفید ہو سکے گی۔
