خلیل الرحمان قمر کا نام نہاد لبرل ازم کے خلاف اعلان جنگ

میرا جسم میری مرضی کے نعرے پر اپنے موقف کا دفاع کرتے ہوئے ڈرامہ نگار خلیل الرحمٰن قمر نے اعلان کیا ہے کہ وہ عورت مارچ کی آڑ میں نام نہاد لبرل ازم کو اسلامی جمہوریہ پاکستان میں کبھی پروان نہیں چڑھنے دیں گے۔
یاد رہے کہ خلیل الرحمن قمر نے پہلے ہی یہ اعلان کر دیا ہے کہ وہ پاکستانی معاشرے میں بڑھتی ہوئی بے حیائی اور اس کو فروغ دینے والی چند عورتوں کے خلاف با قاعدہ میدان عمل میں نکل آئے ہیں۔ اس حوالے سے پاکستانی عوام کی مدد مانگتے ہوئے خلیل الرحمن قمر نے کہا کہ ان کی بیوی نے ان کو واضح طور پر بتادیا ہے کہ اگر تم ماروی سرمد جیسی بے حیا عورت کے ہاتھوں یہ جنگ ہار گئے تو گھر کا رخ نہ کرنا چنانچہ میں پاکستان کی نام نہاد لبرل خواتین کے خلاف کمر بستہ ہو چکا ہوں اور یہ مشکل جنگ جیت کر دکھاؤں گا۔
عورت مارچ کے ایک متنازعہ نعرے "میرا جسم میری مرضی” کو لیکر ایک ٹی وی شو میں ڈرامہ نگار خلیل الرحمن قمر اور ماروی سرمد کے مابین جھڑپ گالم گلوچ تک پہنچنے سے مین سٹریم میڈیا اور سوشل میڈیا پر جو طوفان برپا ہوا وہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا۔ میرا جسم میری مرضی کے ناقدین اور اور حمایتی دونوں پیچھے ہٹنے کا نام نہیں لے رہے۔ اس حوالے سے خلیل الرحمان قمرکے مخالفین کا کہنا ہے کہ ڈرامہ نگار خلیل الرحمان قمر ماروی سرمد سے بحث کے دوران اخلاقیات کی دھجیاں اُڑاتے ہوئےتہذیب بھول کر آپے سے باہر ہوگئے اور ایک خاتون سے بد زبانی اور گالم گلوچ پر اُترآئے۔ دوسری طر ف خلیل کے حمایتیوں کا کہنا یے کہ ایک اسلامی ملک میں عورتوں کے حقوق کے نام پر ’’میرا جسم میری مرضی‘‘ جیسی مہم چلائے جانے سے متعلق خلیل الرحمٰن قمر کی رائے مضبوط اور جائز ہے اور وہ معاشرے کے ایک اکثریتی حصے کے خیالات کی ترجمانی کرتے ہیں۔
غلط زبان کے استعمال پر خلیل الرحمٰن قمر کا کہنا ہے کہ انہوں نے ماروی سرمد جیسی نام نہاد لبرل کو منہ توڑ جواب دے کر بتایا ہے کہ وہ ایسے لبرل ازم کو اسلامی جمہوریہ پاکستان میں کبھی پروان نہیں چڑھنے دیں گے۔ سوشل میڈ یا پر ہونے والی تنقید کا جواب دیتے ہوئے خلیل الرحمان قمر کہتے ہیں کہ ’میرا جسم میری مرضی والی’ خواتین خود تو ملک سے باہر رہتی ہیں اور پاکستانی معاشرے کو تباہ کرنے کے لیے نت نئے طریقے سوچتی رہتی ہیں۔
تاہم اس تمام بحث میں یہ بات نہیں بھولنی چاہیے کہ کسی فرد کا جسم ہو یا زبان، وہ اُن حدود و قیود کے پابند ہیں جو ہماری معاشرتی اقدار ہمارے لیے طے کرتی ہیں۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ بدتہذیبی اور تنازعات سے ہٹ کر اس بات کو بھی یقینی بنا یا جائے کہ عورت کو وہ تمام حقوق ملیں جو اسلام متعین کرتا ہے، اُن کا احترام کیا جائے اور عزت دی جائے جس کی عورت مستحق ہے تاکہ اسے اپنے حقوق کیلئے سڑکوں پر نہ آنا پڑے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button