پاکستانی خواتین سے سعودی عرب میں فحاشی کروانے والا گروہ پکڑا گیا

خواتین کو بیرونِ ملک پرکشش ملازمتوں اور روشن مستقبل کا جھانسہ دے کر انہیں اپنے جال میں پھانسنے کے بعد فحاشی کے مکروہ دھندے میں دھکیلنے والا گروہ پکڑا گیا۔ ذرائع کے مطابق جرائم پیشہ عناصر پہلے معصوم اور ضرورت مند خواتین کو بہتر روزگار، زیادہ تنخواہ اور آسائشوں بھری زندگی کے خواب دکھا کر ان کا اعتماد حاصل کرتے ہیں اور پھر انہیں غیر قانونی طریقوں سے سعودی عرب و متحدہ عرب امارات سمیت دیگر خلیجی ممالک سمگل کردیتے ہیں۔ بعد ازاں ان خواتین کو ڈرا دھمکا کر زبردستی فحاشی اور استحصال کے مکروہ دھندے میں دھکیل دیا جاتا ہے۔
اطلاعات کے مطابق اس گھناؤنے کاروبار کا نیٹ ورک خاص طور پر سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور دیگر خلیجی ممالک تک پھیلا ہوا ہے، جہاں متاثرہ خواتین کو مختلف حربوں اور دباؤ کے ذریعے یرغمال بنا کر رکھا جاتا ہے۔ انسانی سمگلنگ میں ملوث یہ گروہ جعلی دستاویزات، غیر قانونی سفری انتظامات اور مقامی سہولت کاروں کی مدد سے اپنی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔
وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے گزشتہ تین ماہ کے دوران جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر تین مختلف کارروائیوں میں ایسی متعدد خواتین کو گرفتار کیا ہے جو انسانی اسمگلنگ اور جسمانی استحصال میں ملوث ان نیٹ ورکس کی آلہ کار تھیں۔ ایف آئی اے حکام کی جانب سے اس حوالے سے جاری تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ ان گروہوں نے اپنی سرگرمیوں کو چھپانے کے لیے عمرے کی آڑ لینا بھی شروع کر دی ہے۔ تازہ شواہد سامنے آنے کے بعد ایف آئی اے نے پرانے کیسز کا ریکارڈ بھی دوبارہ کھول لیا ہے، کیونکہ حکام کے علم میں آیا ہے کہ ماضی میں مفرور رہنے والے بعض ایجنٹ دوبارہ سرگرم ہو چکے ہیں۔
تحقیقات کے مطابق متاثرہ خواتین اور ان کے اہلِ خانہ کو دھوکا دینے کے علاوہ بعض کیسز میں کم عمر لڑکیوں کو خرید کر بیرونِ ملک سمگل کرنے کا بھی انکشاف ہوا ہے۔ ذرائع کے مطابق بیرون ملک پہنچنے کے بعد ان خواتین کی نازیبا ویڈیوز بنا کر انہیں بلیک میل کیا جاتا ہے تاکہ وہ خاموش رہیں اور خاموشی سے مزید استحصال برداشت کرتی رہیں۔
ایف آئی اے کراچی زون نے انسانی اسمگلنگ اور غیر قانونی امیگریشن کے خلاف ایک بڑی کارروائی کے دوران سعودی عرب سے ڈی پورٹ ہو کر آنے والی بہاولپور کی خاتون گلشن بی بی کو ائیرپورٹ پر امیگریشن کلیئرنس کے دوران حراست میں لیا۔ اس کے ہمراہ 22 سالہ سمیرا بھی موجود تھی۔ ابتدائی تفتیش کے مطابق سمیرا کو ایجنٹوں کے ذریعے بیرونِ ملک بھیجا گیا تھا، جہاں پہنچتے ہی اسے ایک منظم نیٹ ورک کے حوالے کر دیا گیا۔ سمیرا کے بیان کے مطابق اسے گھریلو ملازمت اور اچھی تنخواہ کا جھانسہ دیا گیا تھا، مگر سعودی عرب پہنچنے کے بعد اسے پہلے جدہ اور پھر مدینہ منتقل کیا گیا، جہاں اسے زبردستی فحاشی پر مجبور کیا گیا۔ پاسپورٹ اور دیگر دستاویزات اس سے لے لی گئیں۔ تاہم وہ موقع پا کر فرار ہونے میں کامیاب ہوئی، جس کے بعد سعودی حکام نے کارروائی کرتے ہوئے متعلقہ افراد کو گرفتار کیا اور بعد ازاں انہیں پاکستان ڈی پورٹ کر دیا گیا۔ ایف آئی اے نے ملزمہ کو مزید تفتیش کے لیے اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل کے حوالے کر دیا ہے جبکہ دیگر سہولت کاروں کی گرفتاری کے لیے چھاپے جاری ہیں۔
کیا اب پاکستانی کرکٹ ٹیم سیمی فائنل تک پہنچ سکتی ہے؟
ایف آئی اے حکام کے مطابق پسماندہ اور دیہی علاقوں کی کم عمر لڑکیاں اس مکروہ کاروبار کا آسان ہدف بنتی ہیں۔ انہیں متحدہ عرب امارات لے جا کر نائٹ کلبوں اور رہائشی فلیٹس میں رکھا جاتا ہے، جہاں ان سے زبردستی فحاشی کروائی جاتی ہے اور ویڈیوز بنا کر انہیں خاموش رہنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ بعض اطلاعات کے مطابق چند بااثر عناصر اور مبینہ سرکاری سرپرستی کے باعث یہ نیٹ ورکس پاکستان اور دبئی دونوں ممالک میں مضبوط سے مضبوط ہو رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق اس مکروہ دھندے کیلئے کراچی کے مختلف علاقوں میں فارم ہاؤسز اور فلیٹس میں خفیہ ٹھکانے قائم کیے جانے کے شواہد بھی سامنے آئے ہیں۔ جعلی ناموں اور کوائف کے ذریعے پاسپورٹ بنوانا اس نیٹ ورک کا عام طریقہ کار رہا، تاکہ ڈی پورٹ ہونے کی صورت میں اصل ملزمان تک رسائی مشکل ہو جائے۔ تاہم انسانی سمگلنگ اور خواتین کے استحصال میں ملوث یہ گروہ اب ایف آئی اے کی ریڈار پر آ گیا ہے۔ ایف آئی اے کا دعوٰ ہے کہ اس گھناؤنے کاروبار میں ملوث تمام عناصر کے خلاف ایس کارروائی کی جائے گی کہ آئندہ کوئی بھی شخص ایسی مکروہ حرکت کرنے کی جرات نہیں کرے گا۔
